16.2 C
London
بدھ, اگست 4, 2021

تیری یاد آئی، میرے بابا – عظمیٰ ربانی

- Advertisement -spot_imgspot_img
- Advertisement -spot_imgspot_img

تیری یاد آئی ۔ میرے بابا

ازقلم: عظمی ربانی

آج پھر یوں تیری یاد آئی بابا

آنسوؤں سے ترآنکھیں ہو گئیں بابا

تیری صورت اوجھل نہیں ہوتی آنکھوں سے

تیری محبت بھری نگاہیں گئیں بابا

میں جہاں بھی جاؤں ہر جا تیری یادیں

دل و جاں کو تڑپاتی گزر گئیں بابا
تیری آواز سننے کو ترستے ہیں کان

وہ مٹھاس بھری آواز کہاں گئی بابا

نہیں لگتا میرا دل اب اس دیار غیر میں

قدم قدم پہ تیری چاہت رلا گئی میرے بابا

دل چاہتا ہے کھل کے رو دوں قسمت کو

مگر بے بسی تقدیر کی سامنے لہرا گئی بابا

دنیا کا ساتھ تو ہے فنا ہونے کے لیے
امید جنتو ں میں ساتھ کی حوصلہ دلا گئی بابا

بہشتوں کے محلات میں تجھےاعلی مقام ملے

رب کی بشارتیں ایک امید دکھلا گئیں بابا

- Advertisement -spot_imgspot_img
محمد نعیم شہزادhttps://myblogs.pk
محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔
Latest news
- Advertisement -spot_img
Related news
- Advertisement -spot_img

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Translate »