رمضان، روزے اور قرآن کا مہینہ

من اطاعنی دخل الجنہ
✍️از قلم ام شاہد
ماہ صیام نزول قرآن کا مہینہ….
اللّٰــــــہ تعالیٰ کی خاص رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ
صبر کا مہینہ فراخی رزق کا مہینہ. ایک دوسرے سے خیر خواہی کا مہینہ جنت میں داخل ہونے اور جہنم سے آذادی حاصل کرنے کا مہینہ
ماہ صیام ساری دنیا کے مسلمانوں کے لئے ذکرو فکر
تسبیح و تہلیل. تلاوت. و نفوال صدقہ و خیرات گویا کہ ہر قسم کی عبادت کا ایک عالمی موسم بہار
جس سے دنیا کا ہر مسلمان
اپنے اپنے ایمان اور تقویٰ کے مطابق حصہ پا کر دل سکون اور آنکھوں کو ٹھنڈک مہیا کر تا ھیــــں
عبادت کے اس عالمی موسم بہار کا جیسے ٹھیک ٹھیک نظارہ کرنا ہو اس ماہ مقدس کے بابرکت لیل و نہار میں عزو شرف والے گھر بیت اللہ شریف میں جاکر دیکھے جہاں دن کے اوقات میں ذکر و فکر کی محفلیں
تلاوت قرآن کی مجالس،
احکام و مسائل کے حلقے،
طواف کرنے والوں کا ہجوم اور رات کے اوقات میں قیام اللیل کے روح افزا اور ایمان پرور مناظر کس طرح گنہگار سے گنہگار انسان کے دل میں بھی شوق عبادت پیدا کر دیتے ہیں،
رمضان المبارک کے آخری حصے میں 21 سے 30 رمضان تک،
نیاز مندان راہ وفا کی حرم شریف میں حاضری سے رونقیں دہ چند ہو جاتیں
زرا تصور کیجئے مطاف، بیت اللہ شریف کے گرد طواف کرنے کی جگہ، کا مختصر سا حصہ چھوڑ کر باقی سارا مطاف، مسجد الحرام کے تمام وسیع و عریض برآمد ے، پہلی منزل اور اس کے
آوپر چھت تمام جگیں کھچا کھچ بھری ہوئی ہیں
کہیں بھی تل دھرنے کو جگہ نہیں، نیم شب کے سکون اور خاموش لہمے، سامنے سیاہ ریشمی غلاف میں ڈھکی ہوئی بیت اللہ کی بلند و بالا پر شکوہ عمارت،
اوپر کھلا آسمان اور فضا کی بیکراں وسعتیں،
آسمان دنیا پر اللّٰــــــہ عزوجل کے جلوہ فرما ہونے کا تصور، انور و تجلیات کے اس روح پرور ماحول میں امام حرم کی تلاوت قرآن کرتے ہیں تو یوں لگتا ھے
کہ جیسے قرآن مجید ابھی ابھی نازل ہو رہا ہے امام کعبہ کی پرسوز اور پر درد
آواز گونجتی ھیــــں، تو یوں لگتا ھے جیسے فضا کو چیرتی ہوئی سیدھی عرش الہی پر دستک دے رہیں ہیں
،،، اے ہمارے رب، ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کو اٹھانے کی ہمارے اندر طاقت نہیں ہمارے گناہ معاف فرما، ہم سے در گزر کر ہم پر رحم فرما، تو ہی ہمارا آقا ھے کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما،
سورۃ بقرہ آیات 286.،، ،
ختم قرآن کے موقع پر خصوصی دعائیں کے لئے امام حرم جب اللّٰــــــہ کے حضور ہاتھ پھیلا کر کھڑے ہوتے ہیں، تو سارا حرم آہوں اور سسکیوں میں ڈوب جاتا ھیــــں، امام حرم کی خشوع و خضوع سے پر آنسوؤں میں بھیگی ہوئی آواز رک رک کر سنائی دیتی ہیں
؛،،، ،اے اللہ، ہمارے پروردگار ہمیں ناکام و نامراد واپس نہ لوٹا،،،، ،،،،،،،،
جاری ھے

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

آزادی اظہار رائے اور مذہبی رواداری – ڈاکٹر ماریہ نقاش

جینے نہیں دیتے اسلام کے غدار ✍🏻 بقلم ڈاکٹر ماریہ نقاش موجودہ حالات و واقعات …

ہاتھ کمزور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیں – کاشف علی ہاشمی

ہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیں تحریر کاشف علی ہاشمی کشف الاسرار …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے