16.2 C
London
بدھ, اگست 4, 2021

نوجوان نسل کا بگاڑ، والدین اور مربیین کے نام کھلا خط

- Advertisement -spot_imgspot_img
- Advertisement -spot_imgspot_img

محترم والدین اور علماء دین

میں ایک ایسا نوجوان ہوں جسے اپنی جوانی کے آغاز میں ہی اچھی صحبت میسر آگئی تھی، مجھے گھر سے اتنا اسلامی علم میسر آ گیا تھا جتنا میرے ملک کے 95 فیصد نوجوانوں کو میسر نہیں ہوتا، مجھے ایسے لوگوں کی رفاقت نصیب ہوئی جو تہجدوں میں رویا کرتے تھے، اور جن کی پوری کی پوری زندگی رب کی خوش نودی اور جنت کے حصول کیلئے وقف تھی، جن کی اگر سب سے بڑی خواہش تھی تو رب کے دین کی سربلندی کیلئے اپنا سب کچھ قربان کر دینا تھا، لیکن اس سب کے باوجود میں نے ایک ایسے دور میں جوانی کے ایام گزارے جو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا دور ہے، یہ ایک ایسا دور ہے جس میں ایک بچہ 12 سال کی عمر میں جنسی لذت سے آشنا ہو جاتا ہے لیکن وہ 25،30 سال کی عمر تک بچہ ہی سمجھا جاتا ہے۔ ہمارا معاشرہ اس وقت تک اس کے اس فطری تقاضے کو تسلیم نہیں کرتا جب تک وہ ایک بھرپور مرد دکھنے اور گھسے پٹے تعلیمی نظام میں اپنی قیمتی زندگی کے 20،25 سال قربان کرنے اور چند سال بے روزگاری کے طعنے سہنے کے بعد ایک اچھی معاشی حالت تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو جاتا۔ میرے اس بائی پولر ماحول نے مجھے بھی بائی پولر بنا دیا، ایک طرف تو میں دین اسلام کی صحیح فہم حاصل کر کے اس فہم کو عام کرنے کے جذبات رکھتا اور کوشش کرتا رہا دوسری طرف میں اپنے فطری جذبات کا صحیح رستہ نہ ملنے پر متبادل رستے اختیار کرتا رہا۔۔۔
میرے اس بائی پولر وجود کا ہمیشہ ایک رخ معاشرے نے دیکھا، دوسرا رخ معاشرے نے نہ دیکھنا چاہا نہ اس کے سدباب کی کوئی کوشش کی۔
محترم والدین اور علماء دین
یہ آج کے معاشرے میں ایک نسبتا دین دار سمجھے جانے والے ایک نوجوان کی کہانی ہے،
میں آپ سے مخاطب ہونے کی جرات کروں گا کہ کیا آپ اس معاشرے کے اکثر نوجوانوں کو میری کیفیت سے بہتر حالت میں دیکھتے ہیں؟؟؟
جن یونیورسٹیوں میں آپ اپنے بچوں کو پڑھا کر فخر محسوس کرتے ہیں کیا آپ جانتے ہیں وہاں ایک کلاس کے لڑکے اور لڑکیاں بالکل ایک فیملی کے افراد کی طرح گھل مل جاتے ہیں،
کیا آپ نے اپنے گھروں میں اور اپنے شاگردوں میں فرشتہ صفت نوجوانوں کی ایسی نسل پیدا کر رکھی ہے جو گلیمر اور میڈیا کے اس دور میں محض تقوی و للہیت کے سہارے اپنی جوانیوں کو پاکیزہ رکھ سکتے ہیں۔
کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لگاتار روزہ رکھنے سے منع نہیں فرمایا، تو اس امت کے نوجوان سے یہ کیوں مطالبہ ہے کہ وہ 10،15 سال تک اس فطری بھوک کو محض تقوی کے سہارے برداشت کرے،
کیا آپ نے اس کیلئے درکار ایک سازگار ماحول مہیا کر دیا ہے، اور کیا اسلام کا بھی یہی مطالبہ ہے؟؟؟
کیا آپ صرف عبادات کا طریقہ سکھا کر اور تقوی کا سبق پڑھا کر اپنی ذمہ داری سے عہدہ بر آ ہو گئے ہیں؟؟؟
کیا ان نوجوانوں کی برباد ہوتی جوانیوں کا حساب آپ سے نہیں لیا جائے گا؟؟؟
اگر آپ یہ کام نہیں کر سکتے تو چھوڑ دیجئے اسلام کی ٹھیکیداری کو، مت کہیے کہ آپ نے اپنے بچوں کو وہ سب کچھ فراہم کیا ہے جو ان کی ضرورت تھی۔
مت کہیے کہ آپ نے ایک ایسی نسل تیار کرنی ہے جو اسلام کا مستقبل کہلائے گی۔
مت دھوکہ دیجیے اللہ تعالی کو، اس امت کے نوجوانوں کو اور خود اپنے آپ کو۔
ٹھہر جائیے ۔۔۔! صرف اپنی مت سنائیے، کچھ نوجوانوں کی بھی سنیے، کچھ ہمارا بھی مسئلہ سمجھیے، کچھ ہمارے لیے بھی کیجئے، ہم نے ایک لمبا عرصہ آپ سے پرہیز گاری کے سبق لیے ہیں، لیکن ہم اکثر اس پر عمل کرنے میں ناکام رہے ہیں، ہم جانتے ہیں کہ خالق کائنات کے سامنے ہر شخص اپنے عمل کا خود جواب دہ ہو گا۔ لیکن کیا ہماری تربیت کی ذمہ داری آپ نے اپنے سر نہیں لی تھی؟؟؟
کیا جب ہم میدان حشر میں سر جھکائے چپ کھڑے ہوں گے تو آپ کے سر فخر سے بلند ہوں گے؟؟؟
نہیں ہر گز نہیں۔۔۔!
حشر کے دن میری چپ کا ماجرا
کچھ نہ کچھ آپ سے بھی پوچھا جائے گا۔

اس امت کے اکثر نوجوان وہاں آپ کا گریبان ضرور پکڑیں گے، یہاں آپ کی عزت کرنے والے وہاں نفسا نفسی کے عالم میں آپ کا بالکل لحاظ نہیں کریں گے۔
مجھے اپنا محسن سمجھ لیجئے میں آج اس دنیا میں آپ سے جواب طلب کر رہا ہوں، میں آج آپ کو دعوت فکر و عمل دے رہا ہوں۔ اگر آپ نے اس دعوت پر کان نہ دھرے تو پھر جان لیجئے آپ کی دعوت بہت جلد بے اثر ہونے والی ہے اور امت کا نوجوان اس دنیا میں برباد ہونے کے بعد آخرت میں آپ کا گریبان پکڑنے والا ہے۔ پھر خود کو اس وقت کیلئے تیار کر لیجئے۔ کچھ دلائل اکٹھے کر لیجئے جو آپ مالک کائنات کے سامنے اپنی سرخروئی کے لیے پیش کر سکیں۔
آپ کا خیر اندیش: ایک نوجوان

- Advertisement -spot_imgspot_img
محمد نعیم شہزادhttps://myblogs.pk
محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔
Latest news
- Advertisement -spot_img
Related news
- Advertisement -spot_img

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Translate »