میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکی قند

بہت عرصے سے ایک بات پہ۔ غور کرنے سے ہم پہ ایک راز منکشف ہوا ۔
راز کیا تھا ؟
میں یہ سوچتی تھی کہ انبیا کے نام کے ساتھ ہر بار علیہ السلام اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ کے نام کے ساتھ درود ،صحابہ کے نام کے ساتھ رضی اللہ ،بزرگ ولی اللہ حافظ، یا عالم کے نام کے ساتھ رحم اللہ ،بعد والی اہم شخصیات کے نام کے ساتھ جناب ،محترم، اور سر وغیرہ لگانے سے کیا ہوتا ہے ؟
آخر یہ نہ بھی لگائیں تو کیا ہوگا ؟
انبیاء علیہ السلام تو ویسے ہی معصوم ہوتے اور بخشی ہوئی شخصیات ہیں ۔دیگر ناموں کے ساتھ بھی آخر حرج کیا ہے اگر کچھ اور الفاظ کا استعمال نہ کیا جائے ؟
تب مجھ پہ انکشاف ہوا کہ اگر یہ سب الفاظ ہٹادئیے جائیں(،قطع نظر اس بات کے کہ درود پڑھنے سے اجر ملے گا یا فرمان نبوی ہے )
تو دل میں وہ عزت ،وہ محبت، وہ عقیدت پیدا نہیں ہوگی جو ان الفاظ کے ساتھ پیدا ہوتی ہے ۔
ہم جونہی کسی نبی کا نام لیتے ہیں فورا منہ سے علیہ السلام نکلتا ہے تو دل میں عقیدت اور عزت پیدا ہوتی ہے اور خاص جذبات پیدا ہو جاتے ہیں دل میں خیالات بھی اس شخصیت کے متعلق بہت اعلی آتے ہیں ۔
اپنے پیارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام آتے ہی درود پڑھنے سے خیالات اور جذبات یوں پاکیزہ اور اعلی ہو جاتے ہیں کہ ذرا سا لفظ آگے پیچھے ہونے سے ڈر لگتا ہے۔
اسی طرح ماما جی، امی جی، ابو جی ،بھائی کے نام کے ساتھ اعظم بھائی وغیرہ کہنے سے بھی دل میں بہت عزت پیدا ہوتی ہے ۔
جبکہ اگر کسی کا الٹا سیدھا نام رکھ دیں جیسے لنگڑا، پھجا،یا کسی کو یوں آواز دیں اوئے کالے، تو لگتا ہے بہت ہی عام بندہ اور نیچ انسان ہے ۔
یعنی انسانی شخصیات کو جب کوئی نام دیتے ہیں تو تاثر بھی اسی حوالے سے اور عزت ،محبت اور تقدس بھی اسی حوالے سے ہوتا ہے ۔
جیسا کہ ہمارے معاشرے میں کچھ عرصہ پہلے تک ناچنے گانے والے کو لوگ "کنجر”مراثی کے خطاب سے پکارتے تھے اور غلط عورتوں کو "طوائف”رقاصہ وغیرہ کہتے تھے۔
وہ بھی اپنے آپ کو ہلکا ہی سمجھتے تھے ۔لوگ یہ کام انتہائی مجبوری میں کرتے تھے
جب انکم کا کوئی اور ذریعہ نہ ملتا تو مجبورا یہ کام کرتے لیکن کوشش ہوتی کسی کو پتہ نہ چلے ۔
پھر ٹی وی آیا تو پہچان ہونے لگی لیکن لوگ فخر پھر بھی نہیں کرتے تھے ۔
لفظ "ایکٹر” ایکٹریس” نے کچھ عزت بنادی ۔
لیکن پھر نئی ہوا چلی اور ان لوگوں کو چیف گیسٹ بنایا جانے لگا اور نام بھی ایسے ایسے دئیے کہ کچے ذہن کے نوجوان لڑکے لڑکیاں جن کے آئیڈیل صلاح الدین ایوبی اور محمود غزنوی ،فاطمہ رضی اللہ اور عائشہ رضی اللہ، زبیدہ ہارون الرشید تھیں ان کے آئیڈیل بھی بدلنے لگے ۔
کیونکہ ہم نے کنجروں،اور طوائفوں جو چھپ کر کام کریں تو طوائف ، سر بازار آئی تو ایکٹریس کہلائی ،اب یہ "فلم سٹار ” ہوگئی "celebrity” بن گئی ۔
میڈیا پہ اس کو خاص اہمیت دی جانے لگی ۔اس سے بات کرنا فخر اس کے ساتھ تصویر خاص یادگار اور فخریہ لوگوں کو دکھائی جانے لگی ۔”فلمی دنیا کا چمکتا ستارہ” کہا جانے لگا ۔جو ہماری نوجوان نسل کے لئے بہت ہی پرکشش خطاب تھا ۔
پھر انھیں انسانیت کا علمبردار بھی دکھایا جانے لگا ۔
دوسری طرف عالم دین کو "مولوی” کہہ کر اور مولوی کا امیج انتہائی لالچی،حلوہ خور ،اور تو اور عزت کا لٹیرا بنا کر پیش کیا گیا ۔
نتیجتہ اب معاشرے میں مولوی کہلانا باعث شرم اور ” سٹار” اٹریکٹو ہو گیا ۔
ہر کوئی” سٹار” بننے کے خواب دیکھنے لگا ۔
جیسا کہ پاکستان میں متعارف ہونے والی ایک نئی ایپ ” likee” نے گھروں میں بیٹھی لڑ کے لڑکیوں کے ان خوابوں کو پورا کرنے کے لئے راہ ہموار کی جو ہمارا میڈیا انھیں اس ظاہری چمکتی دنیا دکھا دکھا کر ان کی آنکھوں میں سجا چکا ہے ۔
انھیں میں سے ایک لڑکی "حریم شاہ” بھی ہے ۔
اس قسم کی لڑکیوں کو معاشرے میں بری نگاہ سے دیکھا جاتا ہے لیکن اس لڑکی نے ٹک ٹاک پہ ویڈیوز اپ لوڈ کیں تو یہ مشہور ہونے لگی اور اس کو "ٹک ٹاک سٹار” کہا جانے لگا ۔
یوں یہ سٹار صاحبہ کی حوصلہ افزائی ہوتی گئی اور یہ بڑھتی گئی ۔
یہ محترمہ کے حوصلے اتنے بڑھے کہ اس نے وزیر اعظم عمران سمیت بہت سارے وزرا تک رسائی حاصل کی ان کے ساتھ پکس بنوا کر وائرل کیں۔
اگلا قدم بڑھایا اور وزیر اعظم صاحب کی کرسی تک پہنچ گئی ۔
جب لوگ اس پہ چینخے تو محترمہ نے اسمبلی ھال کا دروازہ ایک ٹھڈے سے کھول کر قوم کو پیغام دیا کہ یہ سب میرے ٹھڈوں میں ہیں ۔
اس کی ویڈیوز بھی بیہودہ ہوتی ہیں اس کی ٹویٹس بھی انتہائی غیر اخلاقی ہوتی ہیں ۔
حتی کہ پچھلے دنوں انتہائی غلیظ ویڈیو آ گئی ۔جس پہ قوم چینخی تو اس نے ایک وزیر کی ویڈیو کال کی ویڈیو لیک کر دی ۔اور مزید وزیر اعظم صاحب کی ویڈیو لیک کرنے کی دھمکی دے ڈالی ۔
گویا ہماری تو پوری حکومت ایک لڑکی کے قبضے میں ہے ۔
جو دبئی بھی جاتی ہے اور وہاں کی بھی اپنی بیہودہ ویڈیوز وائرل کرتی ہے ۔
یہ لڑکی ہمارے معاشرے میں ہر طرف گند پھیلا رہی ہے تو دوسری طرف یہ وزرا کو جیسے دھمکیاں دے رہی ہے کہا اس سے یہ خطرہ نہیں کہ یہ وزرا ویڈیو لیک ہونے کے ڈر سے جانے کیا کیا مطالبات مان لیں گے ؟
جب کہ بعض حضرات اسے سیکیورٹی رسک بھی قرار دے رہے ہیں جو کہ سو فیصد ٹھیک ہے ۔
کیا واقعی پورا پاکستان ایک لڑکی کو کنٹرول نہیں کر سکتا ؟
یا جان بوجھ کر معاشرے کو گندہ کرنے کی سازش ہے یا پھر اندر کھاتے کچھ اور چل رہا ہے ۔اور حریم صاحبہ لڑکے لڑ کیوں کو اس طرف لگا کر اصل میں کچھ اور کر رہی ہے تاکہ اس کا اصل چہرہ کوئی پہچان نہ سکے ؟
ہمارے مارخوروں کو ہمارا پیغام ہے اس کا پتہ کیا جائے اس کی اصلیت ہے کیا ؟
اس کے مقاصد کیا ہیں ۔
رہی معاشرے کی بات تو اللہ رب العزت کا فرمان کہ ایک دوسرے کو برے ناموں سے نہ پکارو یاد رکھو دوسری طرف زہر ہلاہل کو قند بھی نہ کہا کریں برائی کو برائی کہو اچھائی کو اچھائی ۔
مٹھائی کے ڈبے میں کوڑا نہ بھرو
اور کوڑے پہ چاندی کے ورق نہ لگاو
ورنہ نتائج ایسے ہی ہوا کرتے ہیں ۔

متعلقہ عشاء نعیم

....................... مسز عشاء نعیم ایک محب وطن سماجی کارکن ہیں۔ بہترین موٹیویشنل اور ٹیم میکنگ صلاحیت کی مالک ہیں۔ اردو زبان میں بلاگ اور کالم نگاری کے ساتھ ساتھ اردو، پنجابی اور سرائیکی زبان میں شاعری بھی کرتی ہیں۔ پاک بلاگرز فورم کے ساتھ وابستہ ہیں اور شعبہ خواتین کی ذمہ دار ہیں۔

تجویز کردہ

لاہور میوزیم کی سیر

لاہور شہر، کالجوں کا شہر کہلاتا ہے۔ اس شہر میں پاکستان بھر کی ثقافت کے …

ہائے وہ میرا سپین

ہائے !وہ میرا سپین سپین کو ایک لڑکی کی عزت کی خاطر فتح کرنے والے …