میری مرضی – سفیر اقبال

میری مرضی

سفیر اقبال

جب دوائی پینے سے جسم پر نکلا ہوا پیپ دار پھوڑا ختم نہ ہو تو ڈاکٹر انجیکشن تجویز کرتے ہیں جو مریض کے لیے وقتی طور پر تکلیف دہ ہوتا ہے…لیکن ڈاکٹر مریض کے ری ایکشن سے ڈرے بغیر انجیکشن لگا ہی دیتا ہے. انجیکشن سے بھی پیپ ختم نہ ہو تو ڈاکٹر سرجری کر کے پھوڑا جسم سے نکال دیتا ہے…. ورنہ ہسپتال سے ڈسچارج کر کے اسے بڑے شہر کے بڑے ہسپتال میں لے جانے کا آرڈر جاری کرتا ہے…! یہ سارا کچھ ڈاکٹر کی قابلیت اور اس کے اختیارات پر انحصار کرتا ہے

بس اتنی سی کہانی ہے جس کی بنیاد پر تین دن سے سوشل میڈیا پر کہرام مچا ہوا ہے…! خلیل الرحمٰن کے الفاظ…. لہجہ….. انداز… کوئی درست کہہ رہا ہے اور کوئی غلط. ان سب لوگوں کی اپنی اپنی سوچ اور فکر ہے جو جہاں بیٹھا ہے اسی انداز میں سوچ رہا ہے کہ نہیں ڈاکٹر کو انجیکشن نہیں لگانا چاہیے تھا پہلے میٹھی دوائی پلا کر دیکھ لیتا… ڈبل ڈوز دے دیتا غیرہ وغیرہ. اسے بڑے ہسپتال منتقل کر کے اسے کوریج نہ دیتا وغیرہ وغیرہ.

سب جانتے ہیں کہ اسلام نے دعوت کے سارے طریقے بتائے ہیں… اخلاق کی حقیقت بھی سمجھائی ہے اور صحابہ کرام نے گالی کا جواب گالی میں بھی دیا ہے.(جس پر اللہ کے نبی نے خموشی اختیار کی یا اس پر کسی قسم کے گناہ کا ذکر نہیں کیا . اور وہ واقعات تاریخ میں محفوظ ہیں )… لیکن اس کے باوجود کچھ احباب کا خیال ہے کہ یہ طریقہ مناسب نہیں تھا تو اس پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ جس کا جتنا ایمان ہے وہ اپنے اسی لیول سے ری ایکشن دے گا. اور صحابہ کرام نے بھی مختلف مواقع پر مختلف صورتوں میں مختلف ری ایکشن دئیے

لیکن یہ سوچنا کہ نہیں بھائی اس طرح کرنے سے ان کی جارحیت یا مظلومیت میں اضافہ ہوتا ہے… ان کی کوریج بڑھتی ہے….. تو کتنا اچھا ہوتا اللہ کے نبی یا صحابہ کرام بھی ایسا کچھ سوچ لیتے. لیکن نہیں….! انہوں نے تو مسلم ریاستوں میں رہنے والوں سے جزیہ لے کر اور ذلیل انداز میں رہنے پر آمادہ کرنے کا حکم دیا… اللہ کے نبی نے بیت اللہ میں کھڑے ہو کر قنوت میں بددعائیں بھی کی… کچھ بدبختوں کو صحابہ کرام نے منہ پر… گالیوں کے جواب میں گالیاں بھی دیں اور کبھی نہیں سوچا کہ یہ مکہ مدینہ چھوڑ کر مظلوم بن کر ہمارے درد سر میں اضافہ کریں گے…. یا ہمارے ان اقدامات سے اس واقعہ کو کوریج ملے گی. اس لیے چپ رہنا یا ہر لمحہ پیار سے سمجھانا ہی بہتر ہے.

یہ تو وہ باتیں تھی جب مسلم ریاست نہیں تھی.. جب مسلم ریاست بنی تو معاملہ اور شدت اختیار کر گیا. شرعی سزائیں قائم کر کے چوروں کے ہاتھ کاٹے گئے…. زانیوں کو سنگسار کیا گیا اور ایسے فتنوں کو کچلنے کے لیے وہ سب کیا گیا جو کرنا ضروری تھا… ان کی جارحیت مظلومیت کی کوریج کے بارے میں سوچے بغیر…. اور یہی طریقہ ہی عین اسلامی تھا الحمدللہ.

اگر ذاتی حد تک بات کریں تو پاکستان میں رہنے والے ہر شہری کا اپنا اپنا ایمانی لیول ہے.. فرشتہ کوئی بھی نہیں….! ہم میں سے کچھ افراد اپنی بیٹیوں یا بہنوں کے ہاتھوں میں فور جی نیٹ ورک سے لیس موبائل پکڑا کر یہ سوچتے ہیں کہ ہم نے اپنی بیٹی یا بہن کو شریعت کے مطابق گھر کی چاردیواری میں رکھا ہوا ہے الحمد للہ… کچھ نوجوان اپنی بہنوں کو خود موٹر سائیکل پر بیٹھا کر کالج چھوڑنے جاتے ہیں اور اس کے بعد گھنٹوں گھنٹوں اپنی گرل فرینڈز کے ساتھ گپ شپ لگاتے ہوئے یہ سوچتے ہیں کہ میری بہن چونکہ میرے ساتھ آتی جاتی ہے اس لیے محفوط ہے.

میں خود بچپن میں اپنی بہنوں کے ساتھ بیٹھ کر اس وقت کے "میرے پاس تم ہو” جیسے ڈرامے دیکھتا رہا اور خوش ہوتا رہا کہ الحمدللہ ہمارے گھر میں ڈش یا انڈین فلمیں نہیں چلتیں. (صرف بچپن نہیں ابھی بھی میں اتنا پارسا یا دودھ کا دھلا نہیں.) خلیل الرحمٰن صاحب انہی اسلام پسندوں کے ہاتھوں جو آج ان کی تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں "میرے پاس تم ہو ” جیسا ڈرامہ بنانے کی وجہ سے تنقید کا شکار ہوتے رہے .

ساری صورتحال آپ کے سامنے ہے… اگر ہمت ہو تو اپنے گریبان میں جھانک کر خود بھی دیکھ لیں کہ آپ کون کون سی برائی کو وقت کی ضرورت یعنی اسلامی سمجھتے ہیں اور کون کون سے گناہ کو آپ غیر اسلامی یا غیر اخلاقی گردانتے ہیں . اندازہ ہوتا جائے گا کہ جس کو اللہ رب العزت نے جتنا ایمان، جتنا علم اور جتنا اختیار دے رکھا ہے وہ اس بے حیائی اور غیر اخلاقی اقدار پر اتنا ہی ری ایکٹ کر رہا ہے…. فرشتہ کوئی بھی نہیں…!

اگر آج ہم خلیل صاحب کے بارے میں یہ سوچتے ہیں کہ وہ اس واقعے کو کوریج دے کر یا ان کے الفاظ سے ہونے والی "متاثرہ” کو مظلوم بنا کر ناچاہتے ہوئے بھی اس ایجنڈے کا شکار ہو رہے ہیں تو ہم اپنے بارے میں بھی سوچ لیں کہ ہم کہاں کہاں غیر اسلامی اقدار کا شکار ہیں اور اس کو کوریج دے رہے ہیں . خلیل صاحب کی ہمت ہے کہ وہ جس یقین پر جس مقام پر کھڑے ہیں اپنے طور پر برائی کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں بیشک ان کا مقام یا آن کا نظریہ مکمل طور پر اسلامی نہ ہو لیکن کوشش تو وہ اسلام کے لیے…. غیر اسلامی تہذیب کو مٹانے کی ہی کر رہے ہیں….!

اگر آپ پاکستانی عدالتوں سے مایوس ہیں. اسلام کے لیے ریاستی اقدامات ناکافی لگتے ہیں تو کم از کم یہ تو سوچیں کہ کون کیا کر رہا ہے اور کس لیے کر رہا ہے تا کہ اپنے اردگرد رہنے والے لوگوں میں… سوشل میڈیا پر…. ہم اسلام کے لیے کام کرنے والے کے دست و بازو بن سکیں…! نا کہ اتنے بڑے طوفان بدتمیزی میں اٹھتی ہوئی ایک احتجاجی آواز کو بھی چپ کروانے میں لگ جائیں کہ کوریج بڑھنے کا خدشہ ہے…!

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

لوٹ آنا – سفیر اقبال

#لوٹ_آنا شگفتہ لہجہ لذیذ چائے کبھی بلائے تو لوٹ آنا وہ شوقِ پرواز گر دوبارہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے