مذہب اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال – سفیر اقبال

مذہب اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال

سفیر اقبال

تلخ باتیں…. سوچتا تھا…. لیکن ایک عرصے تک اس لیے نہیں کیں کہ کہیں اسلام بدنام نہ ہو جائے یا انہیں اسلام کا مذاق اڑانا یا اسلام کی توہین نہ سمجھا جائے.

ہمارے ہاں جہاں ایک طرف مذہبی طبقہ مذہب کارڈ استعمال کرتے ہوئے ہر نئی ایجاد یا نئی پیش رفت کو حرام قرار دینے پر تلا ہوتا ہے وہاں لبرل طبقہ ان علماء کا مذاق اڑانے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑتا.

ایک وقت تھا ٹی وی کو بطور ترغیب کے توڑا جاتا تھا…. ٹی وی کی حرمت پر فتوے جاری ہوتے تھے… وہ اس لیے کیوں کہ سوال کیا جاتا تھا کہ ٹی وی ہلال ہے کہ حرام . ٹی وی حرام قرار دینے والے آج بھی اپنے گھر میں اپنی مساجد میں اپنے مدارس میں ایل سی ڈی لانا مناسب نہیں سمجھتے. ٹی وی آج بھی ان کی نظر میں حرام ہی ہے. لیکن آج کوئی سوال نہیں کرتا ….اس کی وجہ یا تو یہ ہے کہ کسی کو اس کے حلال و حرام ہونے سے دلچسپی ختم ہو چکی یا پھر اس لیے کہ اب ہر مولوی نے ٹی وی سے چھوٹا لیکن فتنے میں بڑا اینڈرائیڈ موبائل اپنی جیب میں رکھا ہوتا ہے.

ایک وقت تھا جب مدارس و مراکز میں اخبار آیا کرتا تھا (جن مدارس میں حالات حاضرہ سے آگاہ رہنا جائز سمجھا جاتا تھا ) تو ایک طالب علم نوجوان کی ذمہ داری ہوتی تھی کہ اس میں شوبز والا صفحہ بالخصوص اور باقی صفحات پر جہاں جہاں عورت کی تصویر ہے اس پر مارکر پھیر دے تا کہ ہم اپنا فرض پورا کریں اور ہماری وجہ سے کوئی گناہ کا شکار نہ ہو… آج وہی نوجوان طالب علم بڑے ہو کر فیس بک پر بے پردہ عورتوں کی تصویروں کے سکرین شاٹ لگا کر امت مسلمہ کو بے پردگی، اسلام کا مذاق اور فحاشی جیسی قبیح حرکات سے آگاہ کر رہے ہوتے ہیں…. یا ان خواتین کو کمنٹس میں پردہ کرنے کی نصیحت کر رہے ہوتے ہیں. اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ نہایت احسن طریقے سے سرانجام دے دیا ہے. اور اپنا حق ادا کر دیا ہے.

جب لبرل طبقہ ان کی اس بات کی وجہ سے انہیں آڑے ہاتھوں لیتا ہے تو فوراً مذہب کارڈ استعمال کرتے ہوئے توہین اسلام، استہزاء اسلام اور اسلام کی بدنامی کی مہر لگا دی جاتی ہے.

ہر نئی چیز ہر بندے کو اچھی نہیں لگتی. اور ملّا کو تو بالکل نہیں کیوں کہ وہ انہوں نے ایجاد نہیں کی ہوتی… اگر وہ خود کوئی نئی سنت (یعنی بدعت ) ایجاد کریں تو انہیں اچھی لگے گی لیکن کوئی اور کچھ کرے اور وہ کسی نہ کسی حوالے سے اسلام کے ساتھ جڑ جائے تو وہ اسلام کی بدنامی یا اسلام کا نقصان. یہاں تک تو بات انسانی فطرت کے مطابق ہے لیکن پروبلم تب بنتا ہے جب کوئی چیز اچھی نہ لگے یعنی اسے دیکھ کر ملّا کا دماغ گھومنے لگے یا خراب ہونے لگے تو ملّا مذہب کارڈ استعمال کرتے ہوئے فوراً اسے خلاف شریعت قرار دے کر لوگوں کو اس سے دور کرنے کی کوشش کرے کہ اسلام کو ان چیزوں کی ضرورت نہیں اللہ کا قرآن کافی ہے….. یا ان چیزوں کے استعمال و اشاعت سے اسلام بدنام ہو رہا ہے یا اسلام کی شکل تبدیل کی جا رہی ہے…!نعوذبااللہ

الغرض چاہے ٹی وی ہو، چاہے اینڈرائیڈ ہو، چاہے فیس بک ہو یا یوٹیوب…. انہیں حرام قرار دینے کے لیے ہر قسم کا فتویٰ موجود ہوتا ہے. اور ذرا تصور کریں جن علما نے ٹی وی توڑے تھے اور اخباروں پر خواتین کی تصاویر پر مارکر مارنے کا کہتے تھے آج وہ اینڈرائیڈ موبائل کیسے استعمال کرنے پر مطمئن ہوں گے. جو پاکٹ سائز قرآن مجید کو واش روم میں لے جانے سے منع کرتے ہیں ان کے نزدیک ایک ہی اینڈرائیڈ موبائل میں قرآن ایپ، اسلام 360 کے ساتھ ساتھ فیس بک یوٹیوب کا فحش ترین گند موجود ہو کیا یہ سوچ کر ان کا دماغ نہیں خراب ہوتا ہو گا…. ؟یقیناً آپ یہی کہیں گے کہ یہ ملّا کے دماغ کی خرابی میں اسلام کے مذاق اڑانے یا اسلام کی بدنامی کا کوئی تعلق نہیں. لیکن آپ کے لیے حیرت کی بات یہ ہے کہ آج بھی کوئی ایسی چیز کوئی ایسا ڈرامہ جو اسلامی روایات بیان کر رہا ہو اگر سامنے آئے تو اس پر فوراً فتویٰ آنا شروع ہو جاتے ہیں کہ یہ اسلام کے نام پر دھبہ ہیں اس لیے ہرگز نہیں دیکھنا چاہیے. یعنی ٹی وی کو توڑ پھوڑ دینا چاہیے…. اور ایسا ڈرامہ ان انسٹال یا ڈیلییٹ کر دینا چاہیے.

مثلاً ترکی ڈراموں کے خلاف قائم کیے گئے محاذ میں عورتوں کا دکھانا، میوزک، جھوٹے واقعات، جھوٹی تاریخ اور ابن العربی کی خرافات کا بہانہ بنا کر ہر طبقہ فکر کے ملّا نے اس کی مختلف انداز میں مزمت کی اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اس میں اسلامی روایات کے منافی چیزیں ہیں اس لئے دیکھنا ہی نہیں چاہیے…. حالانکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ ان میں موجود برائیوں کو حرام قرار دے کر کہا جاتا کہ جس طرح عورت کے فتنے سے بچنے کے لیے بازار جانے سے نہیں رکتے…. گلی میں بجتے میوزک یا شرکیہ بدعات سے بچنے کے لیے کان بند نہیں کرتے یا محلے سے ہجرت نہیں کرتے…. بالکل اسی طرح ڈرامے میں اچھی چیزیں دیکھ لو اور غلط چیزوں کو غلط سمجھ کر گزر جاؤ…. اچھی چیزوں سے فائدہ حاصل کرو اور خود احتسابی کا عمل جاری رکھوں لیکن نہیں! سب ڈرامہ غلط اور خلاف شریعت قرار دے دیا گیا. مزید یہ کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا اس کے مقابلے کی کوئی مستند پاکیزہ شفاف اسلامی تاریخی ڈاکومنٹری لا کر پیش کی جاتی لیکن وہ کیسے ہوتی؟ ملّا وڈیو دیکھنا پسند تو کرتا ہے بنانا جائز نہیں سمجھتا. اگر بنانا جائز سمجھ بھی لے تو اس مقابلے کی نہیں بنا سکتا.

مجھے ایک واقعہ اچھی طرح یاد ہے آج سے تقریباً دس سال پہلے ایک معروف عالم دین جن کا میں بے حد احترام کرتا ہوں اور ان سے کافی کچھ سیکھا ہے سے ایک سوال و جواب کی مجلس میں ایک سوال پوچھا اور اس کا جواب سن کر عش عش کر اٹھا. اور دل سے دعا دئیے بغیر نہ رہ سکا.

سوال :کیا موویز، ڈاکومنٹریز دیکھنا اور دکھانا جائز ہے یا نہیں.
جواب :اوہ مولوی صاحب…! جب آپ کی دعوت اور دعوت ِ جہا د پروجیکٹر پر کچھ نہ کچھ دکھاے بغیر چل ہی نہیں سکتی تو یہ پوچھنے کی کیا ضرورت کہ موویز دیکھنا حلال ہے کہ حرام…..!

مجھے اس قدر ذو معنی اور فوری جواب کی ہرگز توقع نہیں تھی. آج الحمدللہ انہی عالم دین کا ایک یوٹیوب چینل ہے جس پر ہزاروں لوگ ان کی وڈیوز اور دروس دیکھتے اور سنتے ہیں اور اپنی دنیا و آخرت کے لیے رہنمائی حاصل کرتے ہیں.

ہر گھر میں مصحف قرآن موجود ہے لیکن لوگ تلاوت موبائل کی قرآن ایپ سے کرتے ہیں… اسلام کا نقصان ہوا؟ ہر مسجد میں ہر سپیکر پر تلاوت ہوتی ہے لیکن لوگ ہینڈ فری لگا کر اینڈرائیڈ پر آڈیو تلاوت سنتے ہیں…ٹی وی پر تراویح دیکھتے ہیں اسلام کا نقصان ہوا…؟ بخاری و مسلم صحاح ستہ الغرض تمام احادیث کتب اس وقت مدارس و مراکز اور لائبریریوں تک محدود ہو چکی(الا ماشاءاللہ ) لیکن میرے جیسے اسلام پسند احباب مکتبہ شاملہ… قرآن 360… اسلامی ویب سائٹس علماء کے یوٹیوب چینل سے علم حاصل کرتے ہیں… کیا اسلام کے ساتھ ہوا…. ؟مزے کی بات یہ ہے کہ مولوی آج بھی ٹی وی شوز ویب سائٹس اور یوٹیوب فیس بک جیسی چیزوں سے کتراتے ہیں اور مختلف حیلوں بہانوں سے انہیں حرام قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں. لیکن موبائل کو حرام نہیں قرار دے سکتے کیونکہ خود استعمال کرتے ہیں…. ذاتی استعمال کرتے ہیں دینی استعمال نہیں.

ہم نے دین کی دعوت مسجد تک محدود کر دی کہ جو مسجد میں خود چل کر آے گا اسے دین کی دعوت دیں گے… جو مسجد میں نہیں آتا اسے دعوت دینے کے لیے مسجد سے نہیں نکلیں گے. کسی اور چینل کسی اور پلیٹ فارم کسی ٹی وی شو کو حرام قرار دے رکھا ہے کہ اسلام اور اشاعت اسلام کو ضرورت نہیں کہ لبرلز یا دوسرے فرقے کے ٹرینڈز کا جواب دیں یا ان کی ایپ یا ان کے پلیٹ فارمز کا سہارا لیں.

اسلام میں دلچسپی رکھنے والے لوگ سوال پوچھتے ہیں اور انہیں مطمئن کرنے کے لیے ہمارے پاس نہ تو قوت استدلال ہے نہ قوت برداشت. ڈاکٹر ذاکر نائیک صاحب اتنی علمی قابلیت اور قوت استدلال رکھتے ہیں کہ لاکھوں لوگ ان کو سننے کے لیے ان کے پروگرام میں خود چل کر جاتے ہیں… ان کے چینلز دیکھتے ہیں اور ہمارے ہاں ہر وہ بندہ اسلام کا مذاق اڑانے والا قرار دے دیا جاتا ہے جس نے لبرلز کے ہاتھوں مشہور کیے گئے چند سوالات سوشل میڈیا پر کر دئیے. اور ان سوالات کے جوابات نہ دینے کی نااہلی کو چھپانے کے لئے ہم مذہب کارڈ استعمال کرتے ہوئے لبرلز کے پلیٹ فارمز ان کی مجالس، ان کے گروپس اور ان کے ٹرینڈز کے مقابلے میں کھڑے ہونے کو اسلام کا مذاق یا اسلام کی بدنامی پیش کرتے ہیں.

ہم منہ پر انہیں لبرل کہہ کر اپنے حلقہ احباب کی زبانوں پر فل سٹاپ لگا دیتے ہیں یا اپنے اپنے فرقے کی اشاعت کی کوشش میں خود اسلام کے روشن چہرے پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیتے ہیں….. یہ سوچے بغیر کہ یہ سوشل میڈیا ہے علاقے کی مسجد نہیں جہاں آپ کو سننے والے صرف نمازی نہیں بلکہ دشمن زیادہ توجہ سے آپ کو دیکھ رہا ہے.

ایک بار پھر کہہ دوں… مجھے اسلام سے یا مولوی سے کوئی نفرت نہیں… میرے اکثر دوست مولوی ہیں اور میری وال پر کبھی اسلام یا مولوی کے خلاف کوئی پوسٹ نہیں آئی. میں الحمد للہ مسلمان ہوں اور ذاتی طور پر اسلام کا احسان مند ہوں جس نے مجھے پاکیزہ اور پرسکون زندگی عطا کی اور میں اللہ رب العزت سے امید رکھتا ہوں کہ میری آخرت بھی کامیاب و کامران ہو گی … میں مولوی کے خلاف اب بھی نہ لکھتا لیکن مسلسل سامنے آتے کچھ معاملات دیکھ کر آئینہ دکھانا ضروری سمجھا.

میرے لیے باعث اجر ہے اگر کسی کو یہ بات سمجھ آ جائے کہ ہر نئی ایجاد یا پیش رفت پر فتویٰ لگا کر حرام قرار دینے کی بجائے اسی چیز کو اسلام کی اشاعت کے لیے استعمال کرنا زیادہ بہتر ہے…. لبرل کو لبرل کہہ کر فل سٹاپ لگانے کی بجائے….. جب وہ دین کا توحید و رسالت کا مذاق اڑا رہے ہوں تب ان پر لعنتیں بھیجنے کی بجائے…. ان سے زیادہ احسن انداز میں دین، توحید و رسالت کی دعوت پھیلانا بہتر ہے. شاید کہ کسی مولوی کو سمجھ آ جائے کہ جس نئی ایجاد یا پیش رفت کو دیکھ کر اس کا دماغ خراب ہو رہا ہے وہ دماغ کی خرابی دینی غیرت کی وجہ سے نہیں بلکہ اس نااہلی اور حسد کی وجہ سے ہے کہ یہ چیز میں نے کیوں نہیں بنائی اور اس نے کیوں بنا لی.

آخری بات….! یہ ارتقاء اور تبدیلیاں وقت کے ساتھ ساتھ ہوتیں ہیں اور ہر موقع پر ہوتی رہیں. پرنٹنگ پریس، لاؤڈ سپیکر، کیمرہ جیسی ایجادات جب حرام ٹھہرائی گئیں تب بھی ایسا ہی ردعمل سامنے آیا جیسا کہ آج کل اس موبائل کی ایجاد پر سامنے آ رہا ہے…. وہ موبائل جس پر آپ خود اس وقت میری تحریر پڑھ رہے ہیں. اور جس موبائل پر فحاشی لادینیت، توہین رسالت بھی چند کلکس کے فاصلے پر ہے۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

امر جلیل اور بعض دیگر معتذرین کے باطل نظریات اور راہ حق – جویریہ بتول

امر جلیل اور بعض دیگر معتذرین کے باطل نظریات اور راہ حق جویریہ بتول اللّٰہ …

میری مرضی – سفیر اقبال

میری مرضی سفیر اقبال جب دوائی پینے سے جسم پر نکلا ہوا پیپ دار پھوڑا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے