16.2 C
London
بدھ, اگست 4, 2021

مسجد وزیر خان اور فواد چوہدری – عبداللہ گل

- Advertisement -spot_imgspot_img
- Advertisement -spot_imgspot_img

مساجد کا تقدس اور فواد چوہدری کا قبیح ترین عمل
ازقلم: محمد عبداللہ گِل

مساجد اللہ رب العزت کے گھر ہیں اور ان مساجد سے اللہ اور اس کے رسول کی صدائیں بلند ہوتی ہیں۔یہ مساجد اسلام کے قلعے ہیں۔ان مساجد سے قال اللہ و قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صدائیں بلند ہوتی ہیں۔مسجد وزیر خان میں گاہ بگاہ ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں جن سے مسجد کی توہین ہوتی ہیں۔مسجد وزیر خان میں اداکارہ صبا قمر اور گلوکار بلال سعید کے گانے کی شوٹنگ کی تصاویر/ ٹیزر سامنے آنے کے بعد عوام میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تجی۔ یہ انتہائی قبیح عمل ہے کہ خانہ خدا کو رقص گاہ کے طور پر استعمال کیا جائے۔ یہ انتظامیہ کی غفلت بلکہ نالائقی ہے کہ ان کی آنکھوں کے سامنے اس قسم کے مناظر فلمائے گئے اور ان کی غیرت ایمانی سوئی پڑی رہی۔ پھر بھی عوام و خواص کے جذبات کو جو ٹھیس پہنچی ہے تو ان کا غصہ کم ہونے میں نہیں آ رہا۔ پنجاب حکومت نے بھی زمہ داران کی طلبی کی ہے۔
بحیثیت مسلمان مجھے اس بات کا بہت دکھ اور غصہ ہے مساجد کا تقدس ہمارے مذہب کی اساس میں شامل ہے۔ناصرف مساجد بلکہ دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں کا بھی ہم احترام کرتے ہیں۔ اسلامی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں جنگوں کے بعد بھی کسی کلیسا کسی گرجے کی بے حرمتی نہیں کی گئی۔
جہاں تک تعلق اس واقعے کا ہے تو میں کچھ کڑوے سچ بیان کرنا چاہتی ہوں۔ بات سچ ہے مگر بات بہت شدید رسوائی کی ہے۔
گزشتہ کئی سال سے ہم مختلف مساجد میں نو بیاہتا جوڑوں کے سیر سپاٹے(ہنی مون) دیکھتے آئے ہیں۔ ہم میں سے کون ہے جو کسی مشہور مسجد نہ گیا ہو اور وہاں کم از کم ایک جوڑا اس کو ایسا نہ دکھا ہو؟ فیصل مسجد اور بادشاہی مسجد تو خاص طور پر اس میں آتی ہے۔ یہ نظارہ عام دیکھنے کو ملتا ہے کہ جوڑے باہوں میں بانہیں ڈالے مسجد کے احاطے میں اٹھکھیلیاں کرتے نظر آتے ہیں۔ مسجد میں نماز ہو رہی ہوتی ہے ، نمازیوں کی ایک دو صفیں ہوتی ہیں جبکہ باہر سینکڑوں مرد و زن بے نیازی سے تصویریں کھنچوا رہے ہوتے ہیں۔ اب تو مساجد میں نکاح اور شادی کے بعد باقاعدہ فوٹو شوٹ کرایا جاتا ہے جن کے لیے ہزاروں لاکھوں کی بکنگ کی جاتی ہے۔ خدا لگتی کہوں تو جن پوز پر پورا پاکستان مساجد کے تقدس کی پامالی پر رو رہا ہے تقریبا ایسے ہی پوز بنوائے جاتے ہیں۔ گھومتے پھرتے افراد سے نماز کی طرف آنے کا کہا جائے تو علم ہوتا ہے کہ اکثر وضو کے بغیر ہی مسجد میں پائے جا رہے بلکہ دھندنا رہے ہیں۔ خواتین کے پاس دوپٹہ مناسب نہیں ہوتا نماز کے لئے دوسرا جتنا تیار ہو کر وہ آئی ہوتی ہیں اب ظاہر ہے اتنا مہنگا میک اپ دھو کر نماز تو نہیں پڑھ سکتیں اور فورا ہی عورتوں کی بہترین نماز گھر میں ہے والی حدیث بھی کورٹ کر دی جاتی ہے۔ کوئی پوچھے کہ آپ مسجد کے آداب سے ناواقف ہیں؟ ؟
لباس کے معاملے میں ذرا بھی احتیاط نہیں کی جاتی۔ جہاں وہ برطانوی شہزادی بادشاہی مسجد میں مکمل بازو اور دوپٹے میں ادب احترام سے بیٹھی نظر آتی ہے تو وہیں ہماری لوکل شہزادیاں سر ڈھانپنے اور فل بازو کے لباس سے بے نیاز نظر آتی ہیں کجا کہ عبایہ پہنا ہو۔ خیر عبایات کے رنگ ڈھنگ کا بھی نا ہی پوچھیں ۔۔۔۔
افسوس تو یہ ہے کہ یہ صرف ہم پاکستانیوں کا حال نہیں ہے بلکہ پوری دنیا میں آج کل مساجد میں شادی کا فوٹو شوٹ کرنا عین ثواب گردانا جاتا ہے۔ وہ استنبول ہو یا اسلام آباد، لاہور ہو یا کینیڈا کا اسلامک سنٹر ہر جگہ یہ وبا نظر آ رہی ہے۔ یہاں تک کہ شادی شدہ جوڑوں نے حرم پاک بھی نہیں چھوڑا ہے۔ ہم میں سے اسلامی خیالات رکھنے والے افراد اکثر ایسی تصاویر کو پروموٹ کرتے نظر آتے ہیں جن میں ایک مرد عورت ہاتھ سے دل بنائے خانہ کعبہ یا گنبد خضری کے سامنے کھڑے ہیں ، یا منظر کچھ یوں ہوتا ایک آگے بڑھتے قدموں کو روکتا ایک مردانہ ہاتھ جس نے زنانہ ہاتھ کو تھام رکھا ہے اور پس منظر میں حرم مکی یا حرم مدنی۔۔۔۔
ان بھانڈوں اور میراثیوں نے بہت غلط کیا ہے۔ اس کی جس قدر مذمت ہو کم ہے مگر شرفاء کہلائے جانے والے لوگ کیا کرتے ہیں ؟؟ اس پر بھی تو غور کریں۔ان کو شہہ ان شرفاء کے طرز عمل نے ہی دی ہے۔ کیونکہ صبا قمر نے جو معذرت کی ہے اس میں یہ بھی کہا گیا ہم نے نکاح کے بعد ایک خوش باش جوڑے کے احساسات کو بیان کیا ہے۔ یعنی یہ سب اب دوسرے بہت سے معاملات کی طرح ہمارے معاشرے کا حصہ بن چکا ہے۔۔۔ اس کی بھی تو مذمت کریں۔ ایسا بھی قانون پاس کیا جائے کہ مساجد میں تصاویر بالکل نا لی جائیں۔
آج مساجد نمازیوں سے خالی ہوتی جارہی ہیں اور ایسے چونچلوں سے بھرتی جا رہی ہیں۔
مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ ملے
یعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ ملے
لیکن یہ واقعہ تو صبا قمر والا تھا جس پر حکومت نے معافی مانگی لیکن افسوس صد افسوس اس بار ریاست مدینہ کے دعویدار حکومت کے وزیر فواد ڈبو کی موجودگی میں ڈانس ہوا بلکہ وہ بھی ڈانس کر رہے ہیں یہ حکومت کا کیا رویہ ہیں۔مسجد کا تقدس پامال کر کے لبرلزم کی طرف چلے گئے۔کیا مسلمانوں کا کوئی مذہبی تقدس نہیں۔وزیراعظم عمران خان سے میری اپیل ہے کہ فورا اس وزیر فواد ڈبو کو بر طرف کیا جائے اور ریاست مدینہ کے دعویدار ہونے کا ثبوت دیا جائے۔

- Advertisement -spot_imgspot_img
محمد نعیم شہزادhttps://myblogs.pk
محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔
Latest news
- Advertisement -spot_img
Related news
- Advertisement -spot_img

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Translate »