مرد، ایک جابر یا محافظ – شاہ بانو

مرد اک جابر یا محافظ
تحریر شاہ بانو
اس وقت یوں لگتا ہے دنیا میں عورتوں کو بڑا مقام دیا جا رہا ہے اور ہر طرف بس عورت کی چلتی ہے
جہاں بھی عورت پہ ظلم ہو وہاں عورت کے حامی لوگ پہنچ جاتے ہیں اور پوری دنیا اس عورت کے ساتھ کھڑی ہو جاتی ہے ۔اب مرد کے لیے عورت پہ ظلم کرنا آسان نہیں رہا ۔
اس سلسلے میں باقاعدہ women Day بھی منایا جاتا ہے اس دن عورت "کے لیے” بہت کچھ بولا جاتا یے اور اس کے لیے مزید کچھ کرنے کا عزم بھی کیا جاتا ہے ۔
مرد کی پابندیوں میں جکڑی عورت کو اس پنجرے سے نکلنے کی راہیں بتائی جاتی ہیں سلوگن دیے جاتے ہیں۔ مثلا "اپنی روٹی خود پکا لو” ۔
"نوکری کرنا میرا حق ہے ” وغیرہ۔
اب میں سوچ رہی تھی چلو عورت کو بھی سکون کا سانس نصیب ہوگا جب وہ مرد کے بچھائے گئے جال سے نکلے گی ۔
نورالعین کی شادی کو ابھی چار پانچ سال ہوئے تھے وہ شوہر کے ساتھ ہنسی خوشی رہ رہی تھی ۔لیکن اس کی دوست اسی نعرے کی دلدادہ ہو کر اسے بھی سمجھانے لگی اور سہانے خواب دکھانے لگی ۔
پھر ایک دن اس نے سوچا میں بھی اس شکنجے سے نکلوں گی اور اپنے شوہر کا کام ،اس کے کپڑے دھونا ،اس کی روٹی بنانا ،اس کے چھوٹے موٹے سب کاموں سے جان چھڑوا کر آزاد زندگی بسر کروں گی ۔
اپنی خوشی سے زندگی بسر کرنے کے لیے جاب کروں گی ۔
بالآخر اس نے ایک دن اپنا حق حاصل کر لیا اور شوہر کے کاموں سے ہاتھ اٹھا کر برقعے کو پٹخ مارا ،ماڈرن طرز کا لباس زیب تن کیا دوپٹے کو بس کندھے پہ لٹکائے خود بازار کے لیے نکلی ۔جونہی باہر نکلی چند لڑکے دیکھ کر مسکرانے لگے اور کوشش کرنے لگے کہ قریب سے چھو کر گزرنے کی ۔لیکن وہ پہلی بار نکلی تھی سو پریشان ہو گئی ادھر ادھر دیکھا کہ کسی کی اوٹ میں ہو جائے لیکن کس کی اوٹ میں ہوتی وہاں تو سب غیر تھے اور ہر کوئی اپنی مستی میں تھا ۔ اسے یاد آیا جب وہ شوہر کے ساتھ ہوتی تھی تو کوئی نہیں دیکھتا تھا اگر کوئی دیکھتا تھا تو وہ شوہر کی اوٹ میں ہو جاتی اور آوارہ لڑکے بھی شوہر کو دیکھ کر نو دو گیارہ ہو جاتے تھے ۔
یہی نہیں جہاں رش ہوتا لوگ دیکھتے برقعہ والی عورت یے تو ہٹ کر راستہ دیتے بلکہ کہیں مثلا پٹرول ڈلوانے جاتے یا شاپ پہ تو لوگ اسے دیکھ کر ان کا کام پہلے کر دیتے اور آنکھوں میں عزت ہوتی تھی ۔
لیکن اب کیا کر سکتی تھی سو
وہ تیز تیز چلتی رکشے والے کو روک کر اس میں بیٹھ گئی ۔
رکشے والا بھی جان بوجھ کر ذومعنی باتیں کرنے لگا وہ پریشان سی ہو گئی اب اسے یاد آیا جب وہ شوہر کے ساتھ ہوتی تھی تو
یہ رکشے والے تو بات بھی نہیں کرتے تھے لیکن کیا کرتی ۔رکشے والا خوامخواہ گھماتا رہا اور وہ بڑی مشکل سے جان چھڑوا کر بازار
گئی وہاں مزے سے شاپنگ کرنے کے تصور سے آئی تھی لیکن لیکن وہاں بھی اسی طرح کے مسائل کا سامنا تھا ۔
بالآخر وہ گھر آ گئی ۔ اس نے دوست کو کال کر کے سب بتایا لیکن اس نے ہمت بندھائی کہ حقوق حاصل کرنے ہیں تو سب برداشت کرو۔
سو شوہر کو میسج کیا کہ اب میں کوئی کام نہیں کروں گی کھانے کا بندوبست کرتے آنا۔
رات کو وہ پریشان تھا لیکن مرتا کیا نہ کرتا آتے ہوئے کھانا کھا کر آیا تھا۔
سارے کاموں سے جواب دے کر زارا دہی بھلے کھا کر سو گئی ۔اگلی صبح شوہر اٹھا چینج کیے اور بغیر ناشتے کے گھر سے نکل گیا۔
وہ خوش تھی کہ اب تو سکون ہے کچن میں مسکراتے ہوئے ناشتہ کرنے گئی تو مسکراہٹ ایک دم غائب ہو گئی کیونکہ کچن میں کھانے کو کچھ نہ تھا حتی کہ راشن بھی ایک دم غائب ہو گیا ۔اس نے شوہر کو کال کی "راشن کہاں ہے ” ۔جواب ملا جب تم میرے کر کام سے ہاتھ اٹھا چکی تو میری ذمہ داری بھی ختم ۔مغرب میں مرد عورت کے نان نفقہ کا پابند نہیں بلکہ عورت اپنے روٹی پانی کا خود انتظام کرتی ہے ۔
اب وہ پریشانی میں نوکری ڈھونڈنے نکلی۔ لیکن ایک دم کہاں سے ملتی ۔دوست کو کال کی اس نے کہا میں بات کرتی ہوں حقوق نسواں والوں سے بس تم آ جاؤ میرے پاس ہی ۔وہ بوریا بستر سمیٹ کر اسی کے پاس چلی گئی ۔
عورت کے حقوق کے علمبرداروں فوری طور پہ ایک جگہ سٹور میں اسے سیلز گرل کی جاب دلوادی ۔(ہاں بھئی کیوں پکائے وہ روٹی )۔
وہاں پہ ہر آنے والے کو مسکرا کر دیکھنے اور کسٹمر کی ہر ڈیمانڈ کو پورا کرنے کی ہدایت ملی ۔
اس کی عجیب لگا لیکن پھر اسے لگا وہ آزاد ہونے جا رہی ہے کچھ تو مشکلات ہوں گی لیکن آزادی تو مل جائے گی ۔
اب ہر آنے والے کسٹمر کو مسکرا کر دیکھتی چاہے کسی دن دل اداس اور پریشان ہی ہوتا ، مسکرانا فرض تھا ۔
اس نے محسوس کیا اکثر کسٹمر سودا پکڑتے ہوئے اس کے ہاتھ کو بھی جان بوجھ کر ٹچ کرتے ہیں۔اس کی اس نے شکایت کی تو ہدایت ملی کسٹمر کو ناراض نہیں کرنا یہ سب برداشت کریں۔
اس سب کے ساتھ جب وہ رات کو تھکی ہاری گھر آتی تو اسے رات کو کھانا بنانا پڑتا ،صبح بھی اپنے لیے ناشتہ بنا کر جاب پہ جانا پڑتا تو اسے یاد آتا جب وہ شوہر کے شکنجے میں تھی تو ناشتہ بنا کر جب شوہر چلا جاتا تو وہ لیٹ جاتی تھی ۔
گھر ہفتے بعد بیٹھنا نصیب ہوا تو خیال آیا کپڑے بھی دھونے ہیں چاہے اپنے ہی سہی ۔کپڑے دھوئے۔گھر کا کھانا کھائے کتنے دن گزر گئے وہ بھی بنایا۔ہفتے بھر کے لیے دیگر کام بھی نمٹائے۔اپنے کمرے کی صفائی بھی کی ۔ اسے یاد آیا کہ شوہر کے شکنجے میں تھی تو صفائی اور کپڑے تو کام والی ماسی سے کرواتی تھی ۔
لیکن آج وہ تھک کر چکنا چور ہو کر لیٹ گئی اور ایسی نیند آئی اگلے دن لیٹ آنکھ کھلی اسے بخار تھا لیکن چھٹی نہیں کر سکتی تھی ، وہ بغیر ناشتہ کیے سٹور پہ پہنچی لیکن وہاں پہ بھی اسے سخت سننی پڑی۔
لیکن اسی حالت میں مسکرا مسکرا کر کسٹمرز کو ویلکم کیا اور سب برداشت بھی کیا۔
اسے یاد آیا جب وہ شوہر کے شکنجے میں بخار میں سارا دن بھی لیٹ کر گزار دیتی اور رات کو شوہر کو پتہ چلتا بخار کی وجہ سے اتھ نہیں پائی تو وہ الٹا پریشان ہو جاتا بغیر کھانا کھائے اسے ڈاکٹر کے پاس لے جاتا ،واپسی میں جوس، فروٹ اور کھانا بازار سے پیک کروا کر لے آتا۔گھر آتے ہی کھانا خود ڈال کر دیتا، میڈیسن کھلا کر سونے کا کہتا ۔
صبح ناشتہ بھی بازار سے آتا اور جاب پہ جاتے ہوئے ہدایت ملتی کہ کام نہیں کرنا ۔آتے ہوئے کھانا لے آؤں گا ۔ خیر حقوق حاصل کرنے ہیں تو قربانی تو دینی ہی پڑے گی ۔
کچھ دن بعد اس کا پھر جاب پہ جانے کو دل نہ کیا اس نے چھٹی کر لی ۔لیکن اگلے دن جاب پہ گئی تو پتہ چلا کہ بلاوجہ چھٹی کرنے پہ اس کی آدھی تنخواہ کاٹ لی جائے گی ۔اس کی تو جان پہ بن گئی کیونکہ وی تو قرض اٹھا کر مہینہ گزار رہی تھی ۔
اب کیا کرے گی ؟
اسے مشورہ ملا پارٹ ٹائم جاب کر لو ۔
اچانک اس کا دماغ جیسے روشن ہو گیا ۔
اس کے ذہن میں آیا جب وہ مرد کے شکنجے میں تھی تو صرف شوہر کو مسکرا کر دیکھنے اور اس کی ہر ڈیمانڈ پوری کرنے کی پابند تھی ۔
وہ صرف اسی کی روٹی بناتی تھی اور اسی کی خوشی درکار تھی اب کتنے مردوں کی خوشی درکار ہے دو ٹکوں کے لیے جو اس کا شوہر اسے گھر پہ لاکر دیتا تھا جن کے بدلے وہ دل کی خوشی سے سارا کام کرتی تھی ۔
اسے کہا گیا تمہارا مرد تمہاری مرضی سے تمہیں چھو سکتا ہے ،لیکن کسٹمر کے چھونے کو مائنڈ نہیں کرنا ۔
شوہر کو جی چاہے تو مسکرا کر دیکھو جبکہ کسٹمر کو لازمی مسکرا کر دیکھو۔
برقعے میں تو کسی مرد کو نظر نہ پڑتی تھی لیکن اب سارا دن میک اپ کیے کھلے منہ پہ مردوں کی چبھتی ہوئی نظریں برداشت کرنی پڑتی تھیں ۔
راستے میں آنے والے مردوں کے جملے ،چھونے کی کوشش، مسکراتے لبوں کے خاموش پیغام سب برداشت کرو بس شوہر کے شکنجے سے نکلو۔
یعنی اسے ایک محافظ چھت سے نکل کر ایک ایسے میدان میں پھینک دیا گیا تھا جہاں وہ ہر طرف مردوں کی ہوس بھری نظروں کی تسکین تھی ۔
یعنی شوہر کی تسکین بننا غلامی ہے اور کئی مردوں کی بننا آزادی؟
یہ کیسی آزادی ہے یہ تو مردوں کی آزادی ہے اسے مردوں کے آگے چارہ بنا کر پھینکا گیا تو دوسری طرف اسے کولہو کا بیل بنا دیا گیا تھا ۔
شوہر کو جو ادائیں اور ناز دکھاتی تھی وہ کون دیکھتا؟
اب تو بس رپورٹ کی سی زندگی تھی ۔
اسے سمجھ آ گئی تھی یہ سب بہت بڑا دھوکہ ہے اس اسے حقوق کے نام پہ اس کے حقوق چھینے جاریے تھے۔
اس کی چھت چھینی جارہی تھی۔اس کے سکون کے لمحات چھینے جاری تھے ۔
اسے پرانی زندگی یاد آئی تو
کے بھائی ،اس کا باپ سب ہی لئے اپنے محافظ نظر آئے۔۔اسے کہیں کوئی رشتہ نہ لگا کہ اس کے لیے عذاب ہے جو وہ پابندیاں لگاتے تھے وہ دراصل اس کی حفاظت کے لئے تھیں۔
اس کی آنکھیں کھل چکی تھیں وہ لوٹ آئی تھی ۔
اپنے گھر کے دروازے پہ پہنچی تو شوہر کو کھڑے پایا جو فون پہ ہنستے ہوئے بات کر رہا تھا اس پہ نظر پڑی تو سرسری دیکھ کر پھر بات کرنے لگا، وہ شرمندہ سی کھڑی تھی
اس نے غور کیا تو پتہ چلا کوئی لڑکی یے ۔اسے جھٹکا سا لگا اس نے بے اختیار بڑھ کر سیل چھین لیا شوہر نے حیرت سے دیکھا اور پوچھا کیا مسئلہ ہے ؟
کہنے لگی لڑکی سے بات کیوں کر رہے ہو ؟ شوہر نے مسکرا کر کہا کیا تمہیں عورت کے حقوق کا نہیں پتہ وہ جس مرد سے چاہے دل لگی کرے تو مرد بھی جو چاہے مرضی ہو وہ میں بھی ہو سکتا ہوں اور مغرب میں گرل فرینڈ کوئی اشو نہیں تمہیں کیا مسئلہ ہے؟
وہ ایک دم پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔اور معافی مانگنے لگی ۔
اس کا شوہر سمجھ گیا کہ اس کی عقل ٹھکانے آ گئی ہے ۔
وہ اسے گھر کے اندر لے گیا وہاں اس نے اسے ساری داستان سنائی اور بتایا کہ اسے اصل کہانی سمجھ آ گئی ہے کہ یہ سب عورت کو عزت کے نام پہ ذلت اور حقوق کے نام پہ اسے سب کا چارہ بنانے کی سازش ہے ۔جبکہ اس کا شوہر بھائی ،باپ تو اس کے محافظ ہیں اور اسلام اسے چھپا کر اسے گندی اور غلیظ نظروں سے محفوظ کرتا ہے نہ کہ قید۔
اس نے پھر سے برقعہ پہنا ،شوہر کا ہاتھ تھاما اور باہر نکلی ۔اس نے ادھر ادھر دیکھا ،کچھ لڑکے سامنے سے آ رہے تھے لیکن وہ اس کے پاس سے گزرے تو نہ کسی نے آنکھ اٹھا کر دیکھا نہ کسی نے ٹچ کی کوشش کی ،نہ جملہ کسا ۔
وہ مسکرادی اور اپنے ر ب کا شکر ادا کرنے لگی کہ وہ اپنے سائبان میں لوٹ آئی تھی جہاں وہ بےفکری کی نیند سوتی تھی ۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

کانپتے دل اور ساکت وجود – شاہ بانو

کانپتے دل اور ساکت وجود شاہ بانو زمیں کانپ گئی تو لمحے بھر کو انساں …

عورت، اسلام کے سایہ عافیت میں ۔۔۔ محمد طاہر

ظہور اسلام سے قبل مختلف معاشروں اور اقوام کی تاریخ ہمارے سامنے ہے جہاں انسانی …

2 تبصرے

  1. بے شک مرد محافظاور قوام ہے عورت کا۔ اور یہ آج کی دو ٹکے کی لبرل عورت جو میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگاتی ہے وہ ہر گز اس تحفظ اور عزت کی حق دار نہیں ہے۔ اسی لیۓ اپنی اوقات خود ہی گلیوں بازاروں میں دکھاتی او بتاتہ پھرتی ہے

  2. It’s an remarkable piece of writing for all the
    online people; they will obtain benefit from it
    I am sure.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے