امن لایا تو صرف اسلام ۔۔۔  تحریر: عشاء نعیم

کفار نے اسلام کے خلاف ایک بات بہت پھیلائی ہوئی ہے اور وہ یہ ہے کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا اور اسلام ایک شدت پسند مذہب ہے ۔
آئیے دیکھتے ہیں کس بات کے پیش نظر کفار نے یہ غلط پروپیگنڈہ کیا ؟
کفار کہتے ہیں اسلام کی تاریخ پڑھیں تو جنگ بدر سے لے کر مسلمانوں کی آخری باقاعدہ جنگ جو بہادر شاہ ظفر تک پہنچتی ہے جنگ و جدل سے بھری پڑی ہے ۔
کیا واقعی ہی اسلامی تاریخ میں بہت جنگیں پائی جاتی ہیں؟
اور اہل کفر کی تاریخ جنگ و جدل سے خالی یا کم ہیں ؟
اب ہم جنگ بدر سے پہلے کے حالات دیکھیں تو اہل عرب جنگی ماہر اور بہت بہادر سمجھے جاتے تھے ۔ عربوں کے ہاں زیادہ تر جنگیں لگی رہتی تھیں وہ ذرا ذرا سی بات پہ تلواریں نکال لیتے تھے حتی کہ کنویں پہ پانی لینے جاتے تو جھگڑ پڑتے اور ایسی جنگ شروع ہو جاتی کہ تین تین سال جاری رہتی ۔کوئی کسی سے قتل ہو جاتا تو اس کے بدلے میں جنگ لگ جاتی اور کئی کئی سال جنگ جاری رہتی ۔
پھر اسلام آیا ‘
عرب میں کتنی جنگیں لگیں؟
کس بات پہ لگیں؟
تئیس سال میں کتنی جنگیں ہوئیں؟
کتنی قتل و غارت ہوئی؟
محمدﷺ کے زیر قیادت 28 غزوات ہوئے۔

جن میں سے 9 غزوات میں قتال کی نوبت پیش آئی جبکہ باقی غزوات میں بغیر قتال کے مقصد حاصل ہو گیا۔

7 غزوات میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پیشگی اطلاع مل گئی تھی کہ دشمن حملہ کی سازش کر رہے ہیں۔

غزوات کا سلسلہ 8 سال تک جاری رہا (2ہجری تا 9ہجری)۔
اب پہلے دیکھ لیں کہ جنگیں ہوتی کیوں تھیں ؟
یہ جنگیں تڑپتی سسکتی انسانیت کو ظلم و جبر سے نجات دینے کے لئے ہوئی تھیں یقین نہ آئے تو جب اسلام نافذ ہو گیا اس کے بعد عربوں میں کتنی جنگیں ہوئیں اور جہاں جہاں اسلام پہنچا وہاں وہاں کی تاریخ اٹھائیں اور دیکھیں کہ جنگ کے بعد وہاں جب مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا تو لوگوں کے حالات زندگی کیسے تھے ؟
لوگوں کے تاثرات کیا تھے ؟
کیا وہاں جنگ کے بعد اسلامی فوج لوٹ مار کرتی تھی ؟
کیا گھروں میں گھس کر عورتوں کے ساتھ غلط سلوک کرتے تھے ؟
کیا بچوں کو مارا جاتا تھا ؟
یا قیدی بنایا جاتا تھا ؟
کیا قیدیوں کو درد ناک سزائیں دی جاتی تھیں؟
سب کا جواب نفی میں ہے ۔
اسلام وہ مذہب ہے جس کی فوج جنگ کے لئے روانہ ہی وہاں ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجاہدین کو نصیحت کرتے تھے عورتوں ‘بوڑھوں اور بچوں کو کچھ نہ کہنا ‘فصلیں تباہ نہ کرنا جو ہتھیار نہ اٹھائے اس سے درگزر کرنا حتی کہ کوئی فوجی بھی ہتھیار ڈال دے اسے کچھ نہ کہنا ‘کوئی کلمہ پڑھ لے اسے چھوڑ دینا ۔
ایک بار ایسا بھی ہوا جب خالد بن ولید رضی اللہ نے ایسے شخص کا قتل کر دیا جو آپ کی تلوار کے نیچے آیا تو اس نے فورا کلمہ پڑھ لیا لیکن خالد بن ولید رضی اللہ تعالی سمجھے کہ اس نے قتل کے ڈر سے پڑھا ہے سو قتل کر دیا ۔جب نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ کو اتنا دکھ ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید کو سرخ چہرے کے ساتھ کہا کیا تم نے اس کا دل دیکھ لیا تھا؟
اور یہ بات بار بار دکھ کے ساتھ کہی ۔
اسی طرح مسلم جہاں جاتے لوگ ڈر جاتے جانے ہمارا کیا ہوگا ۔پھر فتح کے بعد وہ حیران رہ جاتے اور مسلمانوں کا حسن سلوک دیکھ کر دھڑا دھڑ مسلمان ہونے لگتے ۔ اسی بات کو پروپیگنڈے کے طور پر غلط طریقے سے پیش کیا گیا ۔
مسلمان جہاں گیے وہاں جو غریبوں کے ساتھ بدترین سلوک ہوتا تھا ان کو برابری کے حقوق دئیے ‘مذہبی آزادی دی ‘زندگی کے ہر معاملے میں انھیں آزاد کیا اگر پابند کیا تو صرف اور صرف جرائم کے لئے ۔معاہدوں کی خلاف ورزی کے لئے آپس میں برے سلوک کے لئے ۔
اسلام جہاں گیا امن قائم ہوتا چلا گیا ۔
محمد بن قاسم کی آمد سے پہلے ہندوستان کے لوگ بدترین زندگی گزار رہے تھے عزت نام کی کوئی چیز عام شہری کے لئے نہ تھی بلکہ وہ جانوروں سے بدتر زندگی گزار رہے تھے ۔جب محمد بن قاسم نے فتوحات حاصل کیں اور لوگوں کو جینے کا حق دیا تو وہ لوگ محمد بن قاسم کے دیوانے ہو گئے اور اگلی فتح میں وہی ہندو محمد بن قاسم کا ساتھ دیتے تھے ۔
حتی کہ خو ہندو تھے انھوں نے محمد بن قاسم کا بھی مجسمہ بنا لیا اور پوجا شروع کردی ۔
جب محمد بن قاسم کو خلیفہ سلیمان بن ولید نے واپس بلایا تو ہندو روتے تھے ۔
اسلام کی امن پسندی بتانے کے لئے لاکھوں صفحات پہ لکھا جا سکتا ہے ۔اسلام تو پورا امن ہی امن ہے ۔اس کے تو معنی ہی سلامتی کے ہیں ۔اسلام واحد مذہب ہے جو امن لایا ۔
جب سے اسلام زوال پذیر ہے اس کے پیروکاروں نے اسلام پہ امن چھوڑا ہے تب سے دنیا خون و کشت میں ڈوبی ہوئی پے ۔ہر طرف انسانی لاشیں ‘خون ‘اور سسکتی انسانیت ہے ۔
اللہ رب العزت ہمیں اسلام پہ عمل کرنے اور روتی سسکتی انسانیت کو امن دینے کی توفیق دے ۔کفار سے جان چھڑوائے ۔
آمین

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

آزادی اظہار رائے اور مذہبی رواداری – ڈاکٹر ماریہ نقاش

جینے نہیں دیتے اسلام کے غدار ✍🏻 بقلم ڈاکٹر ماریہ نقاش موجودہ حالات و واقعات …

مومنین اور رمضان المبارک – حافظ امیر حمزہ سانگلوی

مومنین اور رمضان المبارک تحریر:حافظ امیر حمزہ سانگلوی ماہ صیام کی آمد آمد ہے۔مومن مسلمان …