16.2 C
London
بدھ, اگست 4, 2021

حیاء – جویریہ بتول

- Advertisement -spot_imgspot_img
- Advertisement -spot_imgspot_img

حیا…!!!
(✍🏻:جویریہ بتول).

ہے راحتِ روح،یہ راحتِ جہاں اِسے راہ کا سامان رکھنا…
خصلتِ اسلام ہے حیا، یہی اپنی اک پہچان رکھنا…
آنکھوں کی چمک سےجھلکے،لبوں کی جنبش سے ٹپکے…
جلوت و خلوت میں بس خیال یہ ہر آن رکھنا…
زندگی کی راہ میں چڑھو فراز کہ نشیب میں اُترو…
حیا کو ہر گام سنبھال کر،بلند اپنی پہچان رکھنا…
پیامِ رفعت ہے زادِ جنت، اسی کی خاطر سبھی محنت…
اِسی پہ چلنا،اِسی پہ رُکنا،دُور خود سے شیطان رکھنا…
حیا ہے خیر ساری کی ساری،اس کی جزا ہے بہت پیاری…
نسلوں کی پہچان ہے یہ،مقام اپنا ذی شان رکھنا…
یہ اخلاق کی تشکیل ہے ،یہ ایمان کی تکمیل ہے…
حیا کی جانب رواں دواں،بھاری اپنی میزان رکھنا…
پھول لگا ہو جب ٹہنی سے تو رہتی ہے تازگی باقی…
توڑ کر خود کو خوشبو سے خود کو نہ نیلام کرنا…
گناہ بنیں نہ اپنے بھاری،یوں گزرے نہ زندگی ساری…
بچا کر خود کو آگ سے، راہِ جنت آسان رکھنا…
حیا ہی ہو راہ کی روشنی،نہیں اس کا کوئی ثانی…
دے حدود سے آگہی،کردار رفعت کا آسمان رکھنا…!!!

- Advertisement -spot_imgspot_img
محمد نعیم شہزادhttps://myblogs.pk
محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔
Latest news
- Advertisement -spot_img
Related news
- Advertisement -spot_img

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Translate »