ہاتھ کمزور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیں – قسط 2 – کاشف علی ہاشمی

ہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیں
تحریر کاشف علی ہاشمی
قسط نمبر 2
حرمت رسولؐ کا مسلہ بنا لاسٹ ٹائم آسیہ کیس اور فرانس کے معاملے پر تحریک لبیک نکلی اور دھرنے دیے اس سے پہلے جب بھی حرمت رسولؐ کا مسلہ ہوا تمام جماعتیں نکلیں اور مشترکہ جلسے کئیے مختلف بڑے شہروں میں بڑے جلسے ہوے جس میں سیاسی پارٹیاں۔شریک ہوئیں۔ لاہور میں اک اسٹیج پر تمام سیاسی و مذہبی پارٹیوں کا اکٹھ ہوا جو اک شاندار اور زبردست تحریک تھی

اک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
نا کوئی بندہ رہا اور نا کوئی بندہ نواز

مگر کوئی باضابطہ علماء کامشترکہ پلیٹ فارم نہیں بن سکا جو اس قسم کے حالات مشترکہ پیغام دیتا یا شاید اس کے بعد دیگر واقعات کی تیزی سے تبدیلی کی گرد تلے یہ موضوع تھوڑا دبا ہاں اس وقت اک مشترکہ پلیٹ فارم دفاع پاکستان کے حوالے سے مذہبی و سیاسی جماعتوں کے حوالے سے جس کی قیادت مولونا سمیع الحق اور حافظ سعید اور حمید گل جیسے معاملہ فہم اور دور اندیش قیادت کر رہے تھے مولانا سمیع الحق شہید ہوگئے حمید گل بھی اللہ کے ہاں پہنچ گئے جبکہ عالمی دبا حافظ سعید کو پابند سلاسل کیا گیا جبکہ اس طرح کے معاملات کے حوالے جو اک مشترکہ پلیٹ فارم تھا وہ بکھر گیا
اور جماعتوں کی قائدین بھی بدل گئے سیدمنور حسن جماعت اسلامی اور تحریک لبیک کے سربراہ مولانا خادم حسین رضوی بھی بھی خالق حقیقی سے جاملے یوں اک معاملہ فیم دینی قیادت کا فقدان نظر آرہاہے
اورتحریک لبیک کی قیادت بھی اک نوجوان کے ہاتھ میں مذہبی لوگوں کا جوش و خروش کو کنٹرول کرنا اور معاملات کو سمجھ کر چلنا اک مسلہ ہے درحقیقت دفاع پاکستان طرز کا اک پلیٹ فارم ازحد ضروری ہے جبکہ اس وقت سوشل میڈیا پر اس وقت ملحد سوچ جو کہ اسلام کے لبادے میں ہی اسلام کو ڈس رہی اور ہمارے کم فہم مسلمان اس سیکولر اور ملحد سوچ کا شکار ہو رہے ہیں اور فرقہ پرستی اور شخصیت پرستی کو دور دورہ ہے جبکہ مذہبی لوگ مکمل طور پر بکھرے نظر آتے ہیں حتی کہ مذہبی لوگ اک مسلک کے ہی آپس میں چھوٹے موٹے اختلافات پر دست و گریباں ہیں اور سارا ملبہ اک دوسرے پر ڈال رہے ہیں

منفعت ايک ہے اس قوم کی’ نقصان بھی ايک
ايک ہی سب کا نبی’ دين بھی’ ايمان بھی ايک
حرم پاک بھی’ اللہ بھی’ قرآن بھی ايک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

کیا اسلامی قیادتیں جو کچھ عرصہ پہلے اک منظم تھیں سور مل کر بھٹو جیسے آدمی سے قادیانی کو غیر مسلم قرار دینے کا بل پاس کروا لیا ماضی قریب میں چاہے وہ ایم ایم اے کا پلیٹ فارم تھا یا دفاع پاکسان جیسا کا مضبوط اور موثر ادارہ مگر اس عمل کو آگے بڑھنے حالات کے حوادث اور کچھ حکومت کی چالاکیوں نے روک دیا ہے یعنی کچھ فوت ہوگئے اور کچھ بین ہیں وقت آگیا ہے کہ مسلمان الگ الگ کی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے کے بجائے اک مشترکہ علماء لجنہ تشکیل دیں علماء سامنے آئیں اور اس قسم کے مسائل پر حکومت وقت کو لوگوں کے جذبات سے آگاہ کریں

تو دوسری طرف معاملہ فہم علماء کو سوشل میڈیا پر اک عام آدمی کی طرح اکاونٹ بنا کر بھی آنا چاہیے تاکہ جو نظریاتی حوالے سے اک شدید حملہ ہورہا ہے جہاں اک ہی بات پر مسلمانو کو اپس میں منتشر کر دیا جاتا ہے اس پر ایکشن ہو علماء کی مشترکہ کانفرنس جو اعلامیہ دے اس پر باقی علماء پابندی کریں یوں اک طاقتور مشترکہ بیانیہ تشکیل ہو اور لوگوں کو پتہ چل سکے کہ دین کا اس میں کیا کردار ہے اور اس طرح کوئی بے قابو ہجوم اپنی ہی عوامی املاک کو نقصان نا پہنچا سکے اور قیمتی جانیں ضائع ہونے سے بچ سکیں حکومت کو بھی احساس ہو کہ معاملہ کس نوعیت کا ہے
اس وقت سوشل میڈیا پر مولوی اور علماء مدارس کے خلاف اک منظم مہم اور ذہن سازی جاری ہے کہیں اکا دکا غلط واقعات کو ہائی لائیٹ کر کے مدارس کو بدنام کرنے کا کام منظم شاطر اور شست باندھ کر لکھنے والے خرانٹ لوگوں کا ٹولہ سرگرم عمل ہے وجہ ہمارا منظم نا ہونا اور بکھرے ہونا ہے اللہ تو قرآن میں یہود و نصاری سے یہ معاملہ کرنے کا کہہ رہے ہیں
قُلْ یٰٓــاَہْلَ الْکِتٰبِ تَـعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَاءٍ بَیْنَنَا وَبَیْنَـکُمْ: «(اے نبی ) کہہ دیجیے: اے اہل کتاب! آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان بالکل برابر ہے»
یعنی یہود و نصاری سے اک مشترکہ بات پر اکٹھا ہوا جاسکتا ہے تو کیا اسلام کے یہ فرقے اور ان فرقوں کے اندر تنظیموں اور چھوٹی چھوٹی قیادتوں میں بٹی اس امت کو یکجا نہیں کیا جاسکتا ؟ اگر مسلمان اپنے فرقہ وارانہ اختلافات اک طرف رکھ کر اک مشترکہ جدو جہد کا پلیٹ فارم بنا لیں تو یقین کریں صرف مذہبی حوالے سے نہیں بلکہ ملکی حوالے سے تربیتی حوالے سے اک انقلاب برپا ہوسکتا ہے
آیسے وقت جب پرانی سیاسی مداری اور تمام سیکولر حکومتیں ناکامی سے دوچار ہیں اور عوام میں انکا کوئی خاص معاملہ نہیں رہ گیا اگر رہ گیا ہے تو وہ شخصیت پرستی کی حد تک ہے جس کو علماء کا یہ مشترکہ پینل تبدیل کر سکتا ہے اس حوالے سے ملک میں حافظ سعید صاحب کا رول اک زبردست رول تھا انہوں نے تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کو اک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا مگر افسوس ہماری تھکی ہوئی حکومت نے بیرونی دباو پر انہیں پابند سلاسل کر دیا
بحرحال اب بھی علماء کی سطح پر اک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دینے کی ضرورت ہے ورنہ سیاسی مداری اپنی حکومتوں کو مزید مضبوط کرنے کے لیے دینی طبقے کو مزید تقسیم کر رہے ہیں اور سیکولر عناصر کا بیانیہ مضبوط ہورہاہے
اس نئی آگ کا اقوام کہیں ایندھن ہے
ملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہے

کیا یہ بہتر نہیں تھا کہ تمام علماء اور مذہبی جماعتوں کا اکٹھ ہوتا اور نبیؐ کی وہ حدیث کہ شیطان اکیلے کے ساتھ ہے اور دو سے دور ہے کی بدولت یہ قیادتیں مل کر بیٹھتے اور معاملات پر جمع تفریق سے بحث ہوتی تو یقینًا شیطان دور ہوتا اور ملکی و ملی حوالے سے بہترین اقدامات لیے جاتے جس سے اہل دین کا مذاق اور دین کو نشانہ بنانے کا موقع نا ملتا جبکہ اس وقت اہل دین اک دوسرے کے مقابل مختلف سیکولر اتحادوں کے ساتھ بٹے ہوے ہیں ۔
اس وقت امت کا مسلہ نااتفاقی اور ذاتی مفادات کی وجہ سے متحد نا ہوسکنا ہے بین الاقوامی سطح پر حکومتوں کے اختلافات اور اندرون سطح صوبائیتوں اور قومیتوں کے اختلافات اور وہیں مذہبی فرقہ وارانہ اختلافات سے آگے مسلکی جماعتوں تنظیموں اور قیادتوں کے اختلافات نے اس عظیم امت کو اک بہت بڑا بے قابو ہجوم بنا دیا ہے جسکی کوئی سمت مقرر نہیں ہے جسکا سارا فائدہ لادین قوتیں اٹھا رہی ہیں
سوشل میڈیا کی وجہ سے اور معاملات پہ کم فہم لوگوں کے آواز اٹھانے سے بھی معاملات خراب آپس میں اک دوسرے کی جماعتوں کو طعنے دیتے جملے کستے اور الٹی سیدھے ناموں سے توہین کرتے یہ نابالغ افراد وہ چھوٹی لکڑیاں ہیں کہ جن کے زریعے آگ شروع ہوتی ہے اور رفتہ موٹی اور بڑی لکڑیاں بھی انکی جلائی آگ کے اثر میں آجاتی ہیں آپکا کوئی جملہ یا کمنٹ کو یہ مت سمجھیں کہ آپ کوئی بہت بڑے ادمی نہیں اور اس سے فرق نہیں پڑے گا بلکہ یہ چھوٹے چھوٹے جملے لکھنے والے ہی معاملات کی ابتدا ہیں یہ چھوٹی لکڑیوں سے شروع ہونے والی آگ آہستہ آہستہ بڑی لکڑیوں کو جلانے کاباعث ہے چھوٹے کارکنان کی تربیت بھی ضروری تاکہ بڑی سطح پر آپس میں غلط فہمیاں کم ہوسکیں اور آپس میں محبت درگزر اور چشم پوشی سے کام لیا جائے اقبال نے اس حوالے سے جو رہنمائی کی واللہ اقبال کی نظر نے ان دھندلے ناقابل فہم منظر ناموں کو نکھیر کر دکھا دیا
تم ہو آپس میں غضبناک، وہ آپس میں رحیم
تم خطاکار و خطابیں، وہ خطا پوش و کریم
چاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیم
پہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیم
تخت فغور بھی ان کا تھا، سریر کے بھی
یونہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھی؟

ہمیں سب سے پہلے ذاتی مفادات سے نکلنا ہوگا اور یہ سمجھنا کہ ہم اکیلے اس سارے مسلے کا کریڈٹ لے لیں اور دیگر جماعتوں سے مشاورت ضروری نہیں بلکہ ہم خود کافی ہیں میرا خیال ہے کہ اب اس نظریے کو دفن کر کے اپنے معاشرے ملک و ملت کے لیے تمام دینی ذہن رکھنے والی جماعتوں کو اک مشترکہ پلیٹ فارم بنانا ہوگا یہ مشترکہ پلیٹ فارم اک مشترکہ سیاسی محاذ میں بھی تبدیل ہوسکتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے فرقہ وارانہ اور بین المسلکی اختلافات اور تنظیموں اور جماعتوں کے اختلافات کو اک طرف رکھ کر مشترکہ مفادات کے لیے جد جہد کریں اپنے دل میں وسعت پیدا کرنا ہوگی اور اپنی نظر کو امت کے وسیع مفاد کو دیکھنے کے لیے بنانا ہوگا اپنی ذاتی مفادات کو وقتی طور پر چوٹ بھی پہنچے تو اوج ثریا پر پہنچنے کے لیے قلب سلیم سے مدد لینا ہوگی تبھی تخت ففغور بھی تمہارا ہوگا جب تم اسلام کی حمیت پیدا کرو گے جب ہم قومیتوں فرقوں تنظیموں پارٹیوں کی عصبیتوں سے نکلیں گے اگرچہ یہ مشکل کام ہے مگر یہ کام کرنا ہوگابقول اقبال

ہے جو ہنگامۂ بپا یورش بلغاری کا
غافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کا
تو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کا
امتحاں ہے ترے ایثار کا، خود داری کا
کیوں ہراساں ہے صہیل فرس اعدا سے
نور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سے

تو دوسری طرف عزیمتوں سے دور تھکی ہوئی اک سوچ کہ دشمن یہ کر دے گا فیٹف یہ کر دے گا اور حرمت رسولؐ کے حوالے عالمی سطح پر مسلمان حکمرانوں کا کمزور سا بیانیہ محض اک میاوں میاوں سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ وہ معاملہ جو اک چند گستاخوں سے شروع ہوا تھا آج سرکاری بیانیہ بن گیا مگر تجارتوں میں مصروف مسلمان حکمران کو اس سے کیا لینا دینا ان کا خیال ہے کہ دولت انبار اکٹھے کرو پھر دشمن سے مقابلہ ہو سکتا ہے قور یہاں وہی مسلہ انتشار ہے یعنی کوئی اتفاق رائے موجود نہیں بین الاقوامی سطح پر کیا مسائل ہیں اس پر مفصل گفتگو انشاءاللہ اگلی قسط میں ہوگی

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

کرونا ، غربت اور پاکستان – کاشف علی

تحریر کاشف علی کشف الاسرار میڈیا میں زرائع کے حوالے سے خبر ہے کہ پنجاب …

یہ اپنا وطن ہے اپنی شان – جویریہ بتول

(✍🏻:جویریہ بتول)… یہ اپنا وطن ہے اپنی شان… نظریہ اِس کا ہے اپنا ایمان…! کیا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے