16.2 C
London
بدھ, اگست 4, 2021

غزوہ بدر، الرحیق المختوم سے اختصار – عمران محمدی

- Advertisement -spot_imgspot_img
- Advertisement -spot_imgspot_img

*غزوہ بدر*

(اختصار من "الرحیق المختوم”)

جمع و ترتیب
*عمران محمدی*
عفا اللہ عنہ

*============*

قریش کا ایک تجارتی قافلہ شام سے مکہ واپس لوٹ رہا تھا اس قافلے میں اہل مکہ کی بڑی دولت تھی ، یعنی ایک ہزار اونٹ تھے جن پر کم ازکم پچاس ہزار دینار (دوسو ساڑھے باسٹھ کلو سونے ) مالیت کا سازوسامان بار کیا ہو ا تھا جبکہ اس کی حفاظت کے لیے صرف چالیس آدمی تھے۔
اہل ِ مدینہ کے لیے یہ بڑا زرّین موقع تھا جبکہ اہل ِ مکہ کے لیے اس مالِ فراواں سے محرومی بڑی زبردست فوجی ، سیاسی اور اقتصادی مار کی حیثیت رکھتی تھی اس لیے رسول اللہﷺ نے مسلمانوں کے اندر اعلان فرمایا کہ یہ قریش کا قافلہ مال ودولت لیے چلا آرہا ہے اس کے لیے نکل پڑو۔ ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ اسے بطور ِ غنیمت تمہارے حوالے کردے

*اسلامی لشکر کی تیاری اور تعداد*

رسول اللہﷺ روانگی کے لیے تیار ہوئے تو آپ کے ہمراہ کچھ اُوپر تین سو افراد تھے۔ (یعنی 313 یا 314 یا 317 ) جن میں سے 82 یا 83 یا 86 مہاجر تھے اور بقیہ انصار تھے

چونکہ باقاعدہ جنگ لڑنا مقصد نہیں تھا بلکہ صرف ایک تجارتی قافلہ ہی ھدف تھا اس لشکر نے غزوے کا نہ کوئی خاص اہتمام کیا تھا نہ مکمل تیاری۔اس لیے آپﷺ نے کسی پر روانگی ضروری نہیں قرار دی بلکہ اسے محض لوگوں کی رغبت پر چھوڑ دیا تھا

چنانچہ پورے لشکر میں صرف دو گھوڑے تھے (ایک حضرت زُبیرؓ بن عوام کا اور دوسرا حضرت مقدادؓ بن اسود کندی کا )اور ستر اونٹ ، جن میں سے ہر اونٹ پر دو یاتین آدمی باری باری سوار ہوتے تھے۔ ایک اونٹ رسول اللہﷺ ، حضرت علیؓ اور حضرت مرثدبن ابی مرثد غنویؓ کے حصے میں آیا تھا جن پر تینوں حضرات باری باری سوار ہوتے تھے

*لشکر اسلامی کی تنظیم سازی*

لشکر کی تنظیم اس طرح کی گئی کہ ایک جیش مہاجرین کابنایا گیا اور ایک انصار کا۔
مہاجرین کا علَم حضرت علی بن ابی طالب کو دیا گیا
اورانصار کا علَم حضرت سعدؓ بن معاذ کو۔
اور جنرل کمان کا پرچم جس کا رنگ سفید تھا حضرت مصعب بن عمیر عبدریؓ کو دیا گیا۔
میمنہ کے افسر حضرت زُبیر بن عوامؓ مقرر کیے گئے
اورمَیْسَرہ کے افسر حضرت مقداد بن اسودؓ
(اس لیے کہ پورے لشکر میں صرف یہی دونوں بزرگ شہسوار تھے)
ساقہ کی کمان حضرت قیسؓ بن ابی صَعْصَعہ کے حوالے کی گئی
اور سپہ سالارِ اعلیٰ کی حیثیت سے جنرل کمان رسول اللہﷺ نے خود سنبھالی

*بدر کی طرف روانگی*

بدر کا انتخاب کیوں کیا ؟
رسول اللہﷺ کی منزل مقصود مقام بدر تھا کیونکہ ابوسفیان کا قافلہ جس کا روانی شاہراہ سے آرہا تھا وہ مقام بدر سے گزرتی تھی اور دستور تھا کہ قافلے یہاں پہنچ کر پڑاؤ ڈالتے تھے اور یہ مقام بدر کوئی ایک میل لمبا اوراس سے کچھ کم چوڑا ایک میدان ہے۔ جو ہر طرف بلند وبالا اور ناقابل عبور پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے۔ آنے جانے کے لیے ان پہاڑوں کے درمیان صرف تین یا چار راستے ہیں۔ آپﷺ کا پلان غالباً یہ تھا کہ قافلہ یہاں اترپڑے۔ اس کے بعد ان راستوں کو بند کرکے اسے گھیر لیا جائے۔ اس صورت میں کوئی آدمی یا کوئی اونٹ بچ کر جانہیں سکتا تھا۔

*مکے میں خطرے کا اعلان:*

دوسری طرف ابو سفیان حددرجہ محتاط تھا۔ اسے معلوم تھا کہ مکے کا راستہ خطروں سے پُر ہے ، اس لیے وہ حالات کا مسلسل پتا لگاتا رہتا تھا اور جن قافلوں سے ملاقات ہوتی تھی ان سے کیفیت دریافت کرتا رہتا تھا ، چنانچہ اسے خطرے کی کچھ بو محسوس ہوئی تو اس نے فوراً ضمضم بن عمرو غفاری کو اجرت دے کر مکے بھیجا کہ وہاں جاکر قافلے کی حفاظت کے لیے قریش میں نفیر ِعام کی صدا لگائے۔ ضمضم نہایت تیزرفتاری سے مکہ آیا اور عرب دستور کے مطابق آواز لگائی: ”اے جماعت قریش ! قافلہ … قافلہ … تمہارا مال جو ابوسفیان کے ہمراہ ہے اس پر محمد (ﷺ ) اور اس کے ساتھی دھاوا بولنے جارہے ہیں۔ مجھے یقین نہیں کہ تم اسے پاسکو گے۔ مدد…مدد…”

*جنگ کے لیے اہل مکہ کی تیاری:*

یہ آواز سن کر لوگ ہر طرف سے دوڑ پڑے۔ چنانچہ سارے مکے میں دوہی طرح کے لوگ تھے یاتو آدمی خود جنگ کے لیے نکل رہا تھا یا اپنی جگہ کسی اور کو بھیج رہا تھا اور اس طرح گویا سبھی نکل پرے۔ خصوصاً معزز ین مکہ میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ صرف ابو لہب نے اپنی جگہ ایک قرضدار کو بھیجا۔ گردوپیش کے قبائل ِ عرب کو بھی قریش نے بھرتی کیا

*مکی لشکر کی تعداد:*

مکی لشکر کی تعداد ایک ہزار تھی جن کے پاس ایک سو گھوڑے اور چھ سو زرہیں تھیں۔ اونٹ کثرت سے تھے جن کی ٹھیک ٹھیک تعداد معلوم نہ ہوسکی۔ لشکر کا سپہ سالار ابو جہل بن ہشام تھا۔ قریش کے نو معزز آدمی اس کی رسد کے ذمے دار تھے۔ایک دن نو اور ایک دن دس اونٹ ذبح کیے جاتے تھے

*قبائل بنو بکر کا مسئلہ اور ابلیس کی چالبازی:*

جب مکی لشکر روانگی کے لیے تیار ہو گیا تو قریش کو یاد آیا کہ قبائل بنوبکر سے ان کی دشمنی اور جنگ چل رہی ہے، اس لیے انہیں خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں یہ قبائل پیچھے سے حملہ نہ کردیں اور اس طرح وہ دشمنوں کے بیچ میں نہ گھر جائیں۔ قریب تھا کہ یہ خیال قریش کو ان کے ارادۂ جنگ سے روک دے ، لیکن عین اسی وقت ابلیس لعین بنو کنانہ کے سردار سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی کی شکل میں نمودار ہوا اور بولا :”میں بھی تمہارا رفیق کا رہوں اور اس بات کی ضمانت دیتا ہوں کہ بنو کنانہ تمہارے پیچھے کوئی ناگوار کام نہ کریں گے۔”

اللہ تعالیٰ نے اسے یوں بیان کیا ہے
وَإِذْ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ وَقَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْيَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَإِنِّي جَارٌ لَكُمْ
اور جب شیطان نے ان کے لیے ان کے اعمال خوش نما بنا دیے اور کہا آج تم پر لوگوں میں سے کوئی غالب آنے والا نہیں اور یقینا میں تمھارا حمایتی ہوں،
الأنفال : 48

*مکی لشکر کی روانگی*

اس ضمانت کے بعد اہلِ مکہ اپنے گھروں سے نکل پڑے
جوشِ انتقام سے چور اور جذبۂ حمیت وغضب سے مخمور ، اس پر کچکچائے ہوئے کہ رسول اللہﷺ اور آپ کے صحابہؓ نے اہل ِ مکہ کے قافلوں پر آنکھ اٹھانے کی جرأت کیسے کی ؟

کفار کے اس تکبرانہ انداز کو اللہ تعالیٰ نے یوں بیان کیا ہے

وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بَطَرًا وَرِئَاءَ النَّاسِ وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَاللَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ
اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جو اپنے گھروں سے اکڑتے ہوئے اور لوگوں کو دکھاوا کرتے ہوئے نکلے اور وہ اللہ کے راستے سے روکتے تھے اور اللہ اس کا جو وہ کر رہے تھے، احاطہ کرنے والا تھا۔
الأنفال : 47

تعصب، بغض اور ضد کی حد دیکھئیے کہ کہنے لگے

وَإِذْ قَالُوا اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
اور جب انھوں نے کہا اے اللہ! اگر صرف یہی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا، یا ہم پر کوئی دردناک عذاب لے آ۔
الأنفال : 32

*قافلہ بچ نکلا :*

ابوسفیان مسلسل چوکنا اور بیدار تھا
جب وہ بدر کے قریب پہنچا تو خود قافلے سے آگے جاکر مجدی بن عمرو سے ملاقات کی اور اس سے لشکر ِ مدینہ کی بابت دریافت کیا۔ مجدی نے کہاـ :”میں نے کوئی خلافِ معمول آدمی تو نہیں دیکھا البتہ دوسوار دیکھے جنہوں نے ٹیلے کے پاس اپنے جانور بٹھائے۔ پھر اپنے مشکیز ے میں پانی بھر کر چلے گئے۔” ابو سفیان لپک کر وہاں پہنچا اور ان کے اونٹ کی مینگنیاں اُٹھا کر توڑ یں تو اس میں کھجور کی گٹھلی برآمد ہوئی۔ ابو سفیان نے کہا : اللہ کی قسم ! یہ یثرب کا چارہ ہے۔ اس کے بعد وہ تیزی سے قافلے کی طرف پلٹا اور اسے مغرب کی طرف موڑکر اس کا رخ ساحل کی طرف کردیا اور بدر سے گزرنے والی شاہراہ کو بائیں ہاتھ چھوڑدیا۔ اس طرح قافلے کو مدنی لشکر کے قبضے میں جانے سے بچالیا

*ابوسفیان کا نیا پیغام*

یہ مکی لوگ جب وادی عسفان اور قدید سے گزرکر جحفہ پہنچے تو ابو سفیان کا ایک نیا پیغام موصول ہوا جس میں کہا گیا تھا کہ آپ لوگ اپنے قافلے ، اپنے آدمیوں اور اپنے اموال کی حفاظت کی غرض سے نکلے ہیں اور چونکہ اللہ نے ان سب کو بچا لیا ہے، لہٰذا اب واپس چلے جائیے۔

*ابوجہل نے واپسی کی بجائے بدر جانے کو ترجیح دی*

یہ پیغام سن کر مکی لشکر نے چاہا کہ واپس چلا جائے لیکن قریش کا طاغوت اکبر ابو جہل کھڑا ہوگیا اور نہایت کبر وغرور سے بولا :” اللہ کی قسم! ہم واپس نہ ہوں گے یہاں تک کہ بدر جاکر وہاں تین روز قیام کریں گے اور اس دوران اونٹ ذبح کریں گے۔ لوگوں کو کھانا کھلائیں گے اور شراب پلائیں گے۔ لونڈیاں ہمارے لیے گانے گائیں گی اور سار ا عرب ہمارا اور ہمارے سفر واجتماع کا حال سنے گا اور اس طرح ہمیشہ کے لیے ان پر ہماری دھاک بیٹھ جائے گی۔”

*جہادی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جرتمندانہ فیصلہ*

قافلے کے ہاتھوں سے نکل جانے اور مکی لشکر کی آمد کی خبریں سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یقین کر لیا کہ اب ایک خون ریز ٹکراؤ کا وقت آگیا ہے اور ایک ایسا اقدام ناگزیر ہے جو شجاعت وبسالت اور جرأت وجسارت پر مبنی ہو۔ کیونکہ یہ بات قطعی تھی کہ اگر مکی لشکر کو اس علاقے میں یوںہی دندناتا ہوا پھرتے دیا جاتا تو اس سے قریش کی فوجی ساکھ کو بڑی قوت پہنچ جاتی اور ان کی سیا سی بالادستی کا دائرہ دور تک پھیل جاتا۔ مسلمانوں کی آواز دب کر کمزور ہو جاتی

*مجلس شوریٰ کاا جتماع:*

رسول اللہﷺ نے ایک اعلیٰ فوجی مجلس شوریٰ منعقد کی اور کمانڈروں اور عام فوجیوں سے تبادلہ ٔ خیالات کیا
حضرت ابوبکرؓ اُٹھے اور نہایت اچھی بات کہی۔ پھر عمر بن خطابؓ اٹھے اور اُنہوں نے بھی نہایت عمدہ بات کہی۔

*مقداد بن عمرو رضی اللہ عنہ کے جذبات*

پھر حضرت مقداد بن عمروؓ اٹھے اور عرض پرداز ہوئے : ”اے اللہ کے رسول !(ﷺ ) اللہ نے آپ کو جو راہ دکھلائی ہے اس پر رواں دواں رہئے ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ اللہ کی قسم !ہم آپ سے وہ بات نہیں کہیں گے جو بنو اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہی تھی کہ :
فَاذْهَبْ أَنتَ وَرَ‌بُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ (۵: ۲۴)
”تم اور تمہارا رب جاؤ اور لڑو ہم یہیں بیٹھے ہیں۔”
بلکہ ہم کہیں گے کہ آپﷺ اور آپ کے پروردگار چلیں اور لڑیں اور ہم بھی آپﷺ کے ساتھ ساتھ لڑیں گے۔ اس ذات کی قسم جس نے آپﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے! اگر آپ ﷺ ہم کو برکِ غما د تک لے چلیں تو ہم راستے والوں سے لڑتے بھڑتے آپﷺ کے ساتھ وہاں بھی چلیں گے۔ ”

*انصار کے کمانڈر اور علمبردار حضرت سعدؓ بن معاذ رضی اللہ عنہ کے جذبات*

انہوں نے کہا :”ہم تو آپﷺ پر ایمان لائے ہیں ، آپﷺ کی تصدیق کی ہے اور یہ گواہی دی ہے کہ آپ جوکچھ لے کر آئے ہیں سب حق ہے اور اس پر ہم نے آپﷺ کو اپنی سمع وطاعت کا عہد ومیثاق دیا ہے ، لہٰذا اے اللہ کے رسولﷺ ! آپﷺ کا جو ارادہ ہے اس کے لیے پیش قدمی فرمایئے۔ اس ذات کی قسم جس نے آپﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے اگر آپﷺ ہمیں ساتھ لے کر اس سمندر میں کودنا چاہیں تو ہم اس میں بھی آپ کے ساتھ کود پڑیں گے۔ ہمارا ایک آدمی بھی پیچھے نہ رہے گا۔ہمیں قطعاً کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ کل آپﷺ ہمارے دشمن سے ٹکراجائیں۔ ہم جنگ میں پامرد اور لڑنے میں جوانمرد ہیں اور ممکن ہے اللہ آپﷺ کو ہمارا وہ جوہر دکھلائے جس سے آپﷺ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں ، پس آپﷺ ہمیں ہمراہ لے کر چلیں، اللہ برکت دے۔”

*اسلامی لشکر بدر کے قریب*

اس مشاورت کے بعد رسول اللہﷺآگے بڑھے اور چند پہاڑی موڑ سے گزر کر بدر کے قریب نزول فرمایا

*لشکر ِمکہ کے بارے میں اہم معلومات کا حصول:*

اسی روز شام کو آپﷺ نے دشمن کے حالات کا پتا لگانے کے لیے نئے سرے سے جاسوسی دستہ روانہ فرمایا۔ اس کاروائی کے لیے مہاجرین کے تین قائد علی بن ابی طالب ، زُبیر بن عوام اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم صحابہ کرام کی ایک جماعت کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ یہ لوگ سیدھے بدر کے چشمے پر پہنچے۔ وہاں دوغلام مکی لشکر کے لیے پانی بھر رہے تھے۔ انہیں گرفتار کر لیا اور رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر کیا

اس کے بعدآپ نے ان دونوں غلاموں سے فرمایا :
اچھا ! اب مجھے قریش کے متعلق بتاؤ۔
انہوں نے کہا :
یہ ٹیلہ جو وادی کے آخری دہانے پر دکھائی دے رہا ہے قریش اسی کے پیچھے ہیں۔
آپﷺ نے دریافت فرمایا :
لوگ کتنے ہیں؟
انہوں نے کہا :
بہت ہیں۔
آپﷺ نے پوچھا :
تعداد کتنی ہے ؟
انہوں نے کہا :
ہمیں معلوم نہیں۔
آپﷺ نے فرمایا :
روزانہ کتنے اُونٹ ذبح کرتے ہیں ؟
انہوں نے کہا :
ایک دن نو اور ایک دن دس۔
آپﷺ نے فرمایا :
تب لوگوں کی تعداد نو سو اور ایک ہزار کے درمیان ہے۔
پھر آپﷺ نے پوچھا :
ان کے اندر معززین قریش میں سے کون کون ہیں؟
انہوں نے کہا :
ربیعہ کے دونوں صاحبزادے عتبہ اور شیبہ اور ابو البختری بن ہشام ، حکیم بن حزام ، نوَفل بن خُوَیْلد ، حارث بن عامر ، طعیمہ بن عدی ، نضر بن حارث، زمعہ بن اسود ، ابوجہل بن ہشام ، اُمیہ بن خلف اور مزید کچھ لوگوں کے نام گنوائے۔
رسول اللہﷺ نے صحابہ کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا:
”مکہ نے اپنے جگر کے ٹکڑوں کو تمہارے پاس لا کر ڈال دیا ہے۔”

*مشرکین کے قریب ترین چشمہ پر مسلمانوں کا قبضہ*

حضرت حباب بن منذرؓ نے ایک ماہرفوجی کی حیثیت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مشورہ دیا کہ
آپﷺ آگے تشریف لے چلیں اور قریش کے سب سے قریب جو چشمہ ہو اس پر پڑاؤ ڈالیں۔ پھر ہم بقیہ چشمے پاٹ دیں گے اور اپنے چشمے پر حوض بنا کر پانی بھر لیں گے ، اس کے بعد ہم قریش سے جنگ کریں گے تو ہم پانی پیتے رہیں گے اور انہیں پانی نہ ملے گا۔”
رسول اللہﷺ نے فرمایا :
”تم نے بہت ٹھیک مشورہ دیا۔”
اس کے بعد آپﷺ لشکر سمیت اُٹھے اور کوئی آدھی رات گئے دشمن کے سب سے قریب ترین چشمے پر پہنچ کر پڑاؤ ڈال دیا۔ پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حوض بنایا اور باقی تمام چشموں کو بند کر دیا

*نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مرکزی کمانڈ گاہ کی تعمیر*

مسلمانوں نے میدان جنگ کے شمال مشرق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک اونچے ٹیلے پر چھپر بنایا جہاں سے پورا میدانِ جنگ دکھائی پڑتاتھا۔تاکہ آپ وہاں سے پورے لشکر کی نگرانی اور ھدایات جاری کرسکیں آپﷺ کے اس مرکزِ قیادت کی نگرانی کے لیے حضرت سعد بن معاذؓ کی کمان میں انصار نوجوانوں کا ایک دستہ منتخب کردیا گیا

*لشکر کی ترتیب اور شب گزاری:*

اس کے بعد رسول اللہﷺ نے لشکر کی ترتیب فرمائی
اور میدان جنگ میں تشریف لے گئے ، وہاں آپﷺ اپنے ہاتھ سے اشارہ فرماتے جارہے تھے کہ یہ کل فلاں کی قتل گاہ ہے ، ان شاء اللہ ، اور یہ کل فلاں کی قتل گاہ ہے ، ان شاء اللہ

اس کے بعد رسول اللہﷺ نے وہیں ایک درخت کی جڑ کے پا س رات گزاری اور مسلمانوں نے بھی پُر سکون نفس اور تابناک اُفق کے ساتھ رات گزاری

*نیند اور بارش کے ساتھ مسلمانوں کی مدد*

یہ رات جمعہ ۱۷ رمضان۲ ھ کی رات تھی
اس رات صحابہ کرام رضی اللہ عنھم خوب سوئے، حالانکہ دشمن کی فکر لگی ہوئی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے ان پر نیند بھیج دی، تاکہ وہ تازہ دم ہو جائیں اور دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔ علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
’’بدر کے دن مقداد رضی اللہ عنہ کے سوا اور کسی کے پاس گھوڑا نہیں تھا، میں نے دیکھا کہ ہم میں سے ہر شخص سو رہا تھا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم درخت کے نیچے نماز پڑھتے رہے اور رو رو کر دعائیں کرتے رہے، حتیٰ کہ صبح ہو گئی۔‘‘
[ أحمد : ۱؍۱۲۵، ح : ۱۰۲۳، قال شعیب أرنؤوط إسنادہ صحیح ]
اس نیند کے ساتھ مسلمان تازہ دم ہو گئے۔

پھر اسی رات کو بارش ہو گئی، جس سے ایک تو ریت جم گئی اور زمین پر پاؤں اچھی طرح جمنے لگے، جس سے فائدہ اٹھا کر مسلمان آگے بڑھے، نقل و حرکت آسان ہو گئی، دوسرے پانی کی کمی دو ر ہو گئی اور وضو اور طہارت کے لیے آسانی ہو گئی، جب کہ کفار کے پڑاؤ کی جگہ نیچی تھی، وہاں بارش کی وجہ سے کیچڑ ہو گئی اور پاؤں پھسلنے لگے

اللہ تعالیٰ نے فرمایا
إِذْ يُغَشِّيكُمُ النُّعَاسَ أَمَنَةً مِنْهُ وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لِيُطَهِّرَكُمْ بِهِ وَيُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّيْطَانِ وَلِيَرْبِطَ عَلَى قُلُوبِكُمْ وَيُثَبِّتَ بِهِ الْأَقْدَامَ
جب وہ تم پر اونگھ طاری کر رہا تھا، اپنی طرف سے خوف دور کرنے کے لیے اور تم پر آسمان سے پانی اتارتا تھا، تاکہ اس کے ساتھ تمھیں پاک کر دے اور تم سے شیطان کی گندگی دور کرے اور تاکہ تمھارے دلوں پر مضبوط گرہ باندھے اور اس کے ساتھ قدموں کو جما دے۔
الأنفال : 11

*مشرکین کا ایک گروہ پانی کے لیے رسول اللہﷺ کے حوض کی جانب*

اگلی صبح ایک گروہ رسول اللہﷺ کے حوض کی جانب بڑھا۔ آپﷺ نے فرمایا:” انہیں چھوڑ دو۔” مگر ان میں سے جس نے بھی پانی پیا وہ اس جنگ میں مارا گیا۔ صرف حکیم بن حزام باقی بچا جو بعد میں مسلمان ہوا، اور بہت اچھا مسلمان ہوا۔ اس کا دستور تھا کہ جب بہت پختہ قسم کھانی ہوتی کہتا: ”لا والذی نجانی من یوم بدر۔” ”قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے بدر کے دن سے نجات دی۔”

*مشرکین کا مسلمانوں کی تعداد معلوم کرنا*

مشرکین نے مدنی لشکر کی قوت کا اندازہ لگانے کے لیے عمیر بن وہب جمحی کو روانہ کیا۔ عمیر نے گھوڑے پر سوار ہوکر لشکر کا چکر لگایا، پھر واپس جاکر بولا : ”کچھ کم یا کچھ زیادہ تین سو آدمی ہیں ، لیکن ذرا ٹھہرو۔ میں دیکھ لوں ان کی کمین گاہ یا کمک تو نہیں ؟” اس کے بعد وہ وادی میں گھوڑا دوڑاتا ہو ادور تک نکل گیا لیکن اسے کچھ دکھائی نہ پڑا، چنانچہ اس نے واپس جا کر کہا:”میں نے کچھ پایا تو نہیں لیکن اے قریش کے لوگو! میں نے بلائیں دیکھی ہیں جو موت کو لادے ہوئے ہیں۔ یثرب کے اونٹ اپنے اوپر خالص موت سوار کیے ہوئے ہیں۔ یہ ایسے لوگ ہیں جن کی ساری حفاظت اور ملجا وماویٰ خود ان کی تلواریں ہیں۔ کوئی اور چیز نہیں۔ اللہ کی قسم! میں سمجھتا ہوں کہ ان کا کوئی آدمی تمہارے آدمی کو قتل کیے بغیر قتل نہ ہوگا ، اور اگر تمہارے خاص خاص افراد کو انہوں نے مار لیا تو اس کے بعد جینے کا مزہ ہی کیاہے ! اس لیے ذرا اچھی طرح سوچ سمجھ لو۔”

*دونوں لشکر آمنے سامنے:*

بہر حال جب مشرکین کا لشکر نمودار ہوا اور دونوں فوجیں ایک دوسرے کو دکھائی دینے لگیں تو رسول اللہﷺ نے فرمایا:” اے اللہ! یہ قریش ہیں جو اپنے پورے غرور وتکبر کے ساتھ تیری مخالف کرتے ہوئے اور تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلاتے ہوئے آگئے ہیں۔ اے اللہ! تیری مدد … جس کا تو نے وعدہ کیا ہے۔ اے اللہ! آج انہیںاینٹھ کر رکھ دے۔”

*اسلامی لشکر کی صف بندی اور ضروری ھدائت*

اس موقع پر رسول اللہﷺ نے مسلمانوں کی صفیں درست فرمائیں
پھر جب صفیں درست ہو چکیں تو آپﷺ نے لشکر کو ہدایت فرمائی کہ جب تک اسے آپ کے آخری احکام موصول نہ ہوجائیں جنگ شروع نہ کرے۔ اس کے بعد طریقہ جنگ کے بارے میں ایک خصوصی رہنمائی فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب مشرکین جمگھٹ کرکے تمہارے قریب آجائیں تو ان پر تیر چلانا اور اپنے تیر بچانے کی کوشش کرنا۔ 1(یعنی پہلے ہی سے فضول تیر اندازی کر کے تیروں کو ضائع نہ کرنا) اور جب تک وہ تم پر چھا نہ جائیں تلوار نہ کھینچنا

*ابو جہل دعا کرتا ہوا*

عبد اللہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں : ’’جب (بدر کے دن) لوگ ایک دوسرے کے مقابل ہوئے تو ابوجہل نے کہا، اے اللہ! ہم میں سے جو شخص زیادہ رشتوں کو توڑنے والا اور ہمارے سامنے غیر معروف بات پیش کرنے والا ہے اسے آج صبح ہلاک کر دے، تو یہ فیصلہ طلب کرنے والا ابوجہل تھا۔‘‘
[ مستدرک حاکم 328/2، ح : ۳۲۶۴۔ أحمد : 431/5، ح : ۲۳۶۶۱، و صححہ شعیب أرنؤوط۔ السنن الکبریٰ للنسائی : 350/6، ح : ۱۱۲۰۱ ]

بعد میں اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی :
إِن تَسْتَفْتِحُوا فَقَدْ جَاءَكُمُ الْفَتْحُ ۖ وَإِن تَنتَهُوا فَهُوَ خَيْرٌ‌ لَّكُمْ ۖ وَإِن تَعُودُوا نَعُدْ وَلَن تُغْنِيَ عَنكُمْ فِئَتُكُمْ شَيْئًا وَلَوْ كَثُرَ‌تْ وَأَنَّ اللَّـهَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ (۸: ۱۹ )
” اگر تم فیصلہ چاہتے تو تمہارے پاس فیصلہ آگیا ، اور اگر تم باز آجاؤ تو یہی تمہارے لیے بہتر ہے ، لیکن اگر تم (اپنی ا س حرکت کی طرف ) پلٹو گے تو ہم بھی (تمہاری سزا کی طرف ) پلٹیں گے اور تمہاری جماعت اگر چہ وہ زیادہ ہی کیوں نہ ہو تمہارے کچھ کام نہ آسکے گی۔ (اور یاد رکھوکہ ) اللہ مومنین کے ساتھ ہے۔”

*معرکے کا پہلاایندھن:*

اس معرکے کا پہلا ایندھن اسود بن عبد الاسد مخزومی تھا۔ یہ شخص بڑا اڑیل اور بد خلق تھا۔ یہ کہتے ہوئے میدان میں نکلا کہ میں اللہ سے عہد کرتا ہوں کہ ان کے حوض کا پانی پی کررہوں گا۔ ورنہ اسے ڈھا دوں گا یا اس کے لیے جان دے دوں گا۔ جب یہ اُدھر سے نکلا تو اِدھر سے حضرت حمزہ بن عبدا لمطلبؓ برآمد ہوئے۔ دونوں میں حوض سے پرے ہی مڈبھیڑ ہوئی۔ حضرت حمزہؓ نے ایسی تلوار ماری کہ اس کا پاؤں نصف پنڈلی سے کٹ کر اڑگیا اور وہ پیٹھ کے بل گر پڑا۔ اس کے پاؤں سے خون کا فوارہ نکل رہا تھاجس کا رخ اس کے ساتھیوں کی طرف تھا لیکن اس کے باوجود وہ گھٹنوں کے بل گھسٹ کر حوض کی طرف بڑھا اور اس میں داخل ہوا ہی چاہتا تھا تا کہ اپنی قسم پوری کرلے اتنے میں حضرت حمزہؓ نے دوسری ضرب لگائی اور وہ حوض کے اندر ہی ڈھیر ہوگیا

*مبارزت:*

اس کے بعد قریش کے تین بہترین شہسوارنکلے جو سب کے سب ایک ہی خاندان کے تھے۔ ایک عُتبہ اور دوسرا اس کا بھائی شیبہ جو دونوں ربیعہ کے بیٹے تھے اور تیسرا ولید جو عتبہ کا بیٹا تھا۔ انہوں نے اپنی صف سے الگ ہوتے ہی دعوت مُبارزت دی
رسول اللہﷺ نے ان کے مقابلے کے لیے فرمایا : عبیدہؓ بن حارثؓ ! اٹھو۔ حمزہؓ ! اٹھئے۔ علی! اٹھو
اس کے بعد معرکہ آرائی ہوئی۔
حضرت عبیدہ نے – عتبہ بن ربیعہ سے مقابلہ کیا
حضرت حمزہؓ نے شیبہ سے
اور حضرت علیؓ نے ولید سے۔
حضرت حمزہؓ اور حضرت علیؓ نے تو اپنے اپنے مقابل کو جھٹ مارلیا لیکن حضرت عبیدہ اور ان کے مدّ ِ مقابل کے درمیان ایک ایک وار کا تبادلہ ہوااور دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے کو گہرا زخم لگایا۔ اتنے میں حضرت علیؓ اور حضرت حمزہؓ اپنے اپنے شکار سے فارغ ہوکر آگئے ، آتے ہی عتبہ پر ٹوٹ پڑے ، اس کا کام تمام کیا اور حضرت عبیدہ کو اٹھا لائے۔ ان کا پاؤں کٹ گیا تھا اورآواز بند ہوگئی تھی جو مسلسل بند ہی رہی یہاں تک کہ جنگ کے چوتھے یا پانچویں دن جب مسلمان مدینہ واپس ہوتے ہوئے وادیٔ صفراء سے گزر رہے تھے ان کا انتقال ہوگیا

*عام ہجوم:*

مشرکین نے تین تحفے قبول کرنے کے بعد غیظ وغضب سے بے قابو ہو کر ایک آدمی کی طرح یکبار گی حملہ کردیا۔
دوسری طرف مسلمان اپنے رب سے نصرت اور مدد کی دعا کرنے اور اس کے حضور اخلاص و تضر ع اپنانے کے بعد اپنی اپنی جگہوں پر جمے اور دفاعی موقف اختیار کیے مشرکین کے تابڑ توڑ حملوں کو روک رہے تھے اور انہیں خاصا نقصان پہنچارہے تھے۔ زبان پر أحد أحد کا کلمہ تھا

*رسول اللہﷺ کی دعا:*

ادھر رسول اللہﷺ صفیں درست کرکے واپس آتے ہی اپنے پاک پروردگار سے نصرت ومدد کا وعدہ پورا کرنے کی دعا مانگنے لگے۔ آپﷺ کی دعا یہ تھی :
((اللّٰہم انجز لی ما وعدتنی، اللّٰہم أنشدک عہدک ووعدک۔))
”اے اللہ ! تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا ہے اسے پورا فرمادے۔ اے اللہ ! میں تجھ سے تیرا عہد اور تیرے وعدے کا سوال کررہا ہوں۔”
جب گھمسان کی جنگ شروع ہوگئی، نہایت زور کا رَن پڑا اور لڑائی شباب پر آگئی تو آپﷺ نے یہ دعا فرمائی :
((اللہم إن تہلک ہذہ العصابۃ الیوم لا تعبد اللہم إن شئت لم تعبد بعد الیوم أبداً۔))
”اے اللہ ! اگر آج یہ گروہ ہلاک ہوگیا تو تیری عبادت نہ کی جائے گی۔ اے اللہ ! اگر تو چاہے تو آج کے بعد تیری عبادت کبھی نہ کی جائے۔”
آپﷺ نے خوب تضرع کے ساتھ دعا کی یہاں تک کہ دونوں کندھوں سے چادر گر گئی۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے چادر درست کی اور عرض پرداز ہوئے :”اے اللہ کے رسول ! بس فرمائیے ! آپ نے اپنے رب سے بڑے انہماک کے ساتھ دعا فرمالی۔

*فرشتوں کو مسلمانوں کی مدد کرنے کا حکم الہی*

” ادھر اللہ نے فرشتوں کو وحی کی کہ :

أَنِّي مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِينَ آمَنُوا ۚ سَأُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا الرُّ‌عْبَ (۸: ۱۲)
”میں تمہارے ساتھ ہوں ، تم اہل ِ ایمان کے قدم جماؤ ، میں کافروں کے دل میں رُعب ڈال دوں گا۔”

اور رسول اللہﷺ کے پاس وحی بھیجی کہ :
إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ
جب تم اپنے رب سے مدد مانگ رہے تھے تو اس نے تمھاری دعا قبول کر لی کہ بے شک میں ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ تمھاری مدد کرنے والا ہوں، جو ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے ہیں۔
الأنفال : 9

*فرشتوں کا نزول:*

ابن اسحاق کی روایت میں یہ ہے کہ آپﷺ نے فرمایا : ”ابوبکر خوش ہو جاؤ ، تمہارے پاس اللہ کی مدد آگئی۔ یہ جبریل علیہ السلام ہیں اپنے گھوڑے کی لگام تھامے اور اس کے آگے آگے چلتے ہوئے آرہے ہیں اور گرد وغبار میں اَٹے ہوئے ہیں۔”
اس کے بعد رسول اللہﷺ چھپر کے دروازے سے باہر تشریف لائے۔ آپﷺ نے زرہ پہن رکھی تھی۔ آپﷺ پُر جوش طور پر آگے بڑھ رہے تھے اور فرماتے جارہے تھے :
سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ‌ ﴿٤٥﴾ (۵۴: ۴۵)
”عنقریب یہ جتھہ شکست کھا جائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگے گا۔”

*نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مٹھی مٹی سے بھر کر مشرکین کی طرف پھینکتے ہیں*

حافظ ابن کثیر نے علی بن طلحہ عن ابن عباس رضی اللہ عنھما کی حسن سند سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن دونوں ہاتھ اٹھائے اور کہا : ’’یا رب! اگر یہ جماعت ہلاک ہو گئی تو پھر زمین میں تیری عبادت کبھی نہیں ہوگی۔‘‘ تو جبریل علیہ السلام نے کہا : ’’آپ مٹی کی ایک مٹھی لیں اور ان کے چہروں پر پھینکیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی کی ایک مٹھی پکڑی اور ان کے چہروں کی طرف پھینکی تو جو بھی مشرک تھا اس کی آنکھوں، نتھنوں اور منہ میں اس مٹھی کا کچھ حصہ جا پہنچا تو وہ پیٹھ دے کر بھاگ گئے

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ قَتَلَهُمْ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى وَلِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ بَلَاءً حَسَنًا إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
پس تم نے انھیں قتل نہیں کیا اور لیکن اللہ نے انھیں قتل کیا اور تو نے نہیں پھینکا جب تو نے پھینکا اور لیکن اللہ نے پھینکا اور تاکہ وہ مومنوں کو انعام عطا کرے، اپنی طرف سے اچھا انعام، بے شک اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
الأنفال : 17

*نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جوابی حملے اور جنگ کے لیے ابھارتے ہیں:*

اس کے بعد رسول اللہﷺ نے جوابی حملے کا حکم اور جنگ کی ترغیب دیتے ہو ئے فرمایا: ”شدوا” چڑھ دوڑو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! ان سے جو آدمی بھی ڈٹ کر ، ثواب سمجھ کر ، آگے بڑھ کر اور پیچھے نہ ہٹ کر لڑے گا اور مار اجائے گا اللہ اسے ضرور جنت میں داخل کرے گا۔”
آپﷺ نے قتال پر ابھارتے ہوئے یہ بھی فرمایا : اس جنت کی طرف اٹھو جس کی پہنائیاں آسمانوں اور زمین کے برابر ہیں

*حملے میں پہل نہ کرنے کا فائدہ*

جس وقت رسول اللہﷺ نے جوابی حملے کا حکم صادر فرمایا ، دشمن کے حملوں کی تیزی جاچکی تھی اور ان کا جوش و خروش سرد پڑرہا تھا۔ اس لیے یہ باحکمت منصوبہ مسلمانوں کی پوزیشن مضبوط کرنے میں بہت مؤثر ثابت ہوا ، کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جب حملہ آور ہونے کا حکم ملا اور ابھی ان کا جوشِ جہاد شباب پر تھا تو انہوں نے نہایت سخت تند اور صفایا کن حملہ کیا۔ وہ صفوں کی صفیں درہم برہم کرتے اور گردنیں کاٹتے آگے بڑھے۔ ان کے جوش و خروش میں یہ دیکھ کر مزید تیز ی آگئی کہ رسول اللہﷺ بہ نفس نفیس زرہ پہنے تیز تیز چلتے تشریف لا رہے ہیں اور پورے یقین وصراحت کے ساتھ فرمارہے ہیں کہ ”عنقریب یہ جتھہ شکست کھا جائے گا ، اور پیٹھ پھیر کر بھاگے گا۔” اس لیے مسلمانوں نے نہایت پُر جوش و پرخروش لڑائی لڑی

*فرشتوں کی مدد کے چند واقعات*

1 صحیح مسلم میں ابن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ اس دوران میں کہ ایک مسلمان مشرکین میں سے ایک آدمی کے پیچھے دوڑ رہا تھا کہ اس نے کوڑا مارنے کی ضرب کی آواز سنی اور ایک سوار کی آواز سنی جو کہہ رہا تھا حیزوم! آگے بڑھو۔ اس نے اس مشرک کو دیکھا کہ وہ چت گر گیا ہے، دیکھا تو اس کی ناک پر نشان تھا، چہرہ پھٹ گیا تھا، جس طرح کوڑا مارنے سے ہوتا ہے اور وہ ساری جگہ سبز ہو گئی تھی۔ وہ انصاری آیا اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات بیان کی، تو آپ نے فرمایا : ’’تم نے سچ کہا، یہ تیسرے آسمان کی مدد میں سے تھا۔‘‘
[ مسلم، الجھاد، باب الامداد بالملائکۃ فی غزوۃ بدر… : ۱۷۶۳ ]

2 ابو داؤد مازنی کہتے ہیں کہ میں ایک مشرک کو مارنے کے لیے دوڑ رہا تھا کہ اچانک اس کا سر میری تلوار پہنچنے سے پہلے ہی کٹ کر گر گیا۔ میں سمجھ گیا کہ اسے میرے بجائے کسی اور نے قتل کیا ہے۔

3 ایک انصاری حضرت عباسؓ بن عبد المطلب کو قید کر کے لایا تو حضرت عباسؓ کہنے لگے: ”واللہ ! مجھے اس نے قید نہیں کیا ہے ، مجھے تو ایک بے بال کے سر والے آدمی نے قید کیا ہے جو نہایت خوبرو تھا اور چتکبرے گھوڑے پر سوار تھا۔ اب میں اسے لوگوں میں نہیں دیکھ رہا ہو ں۔” انصاری نے کہا :”اے اللہ کے رسول! انہیں میں نے قید کیا ہے۔” آپﷺ نے فرمایا : خاموش رہو۔ اللہ نے ایک بزرگ فرشتے سے تمہاری مدد فرمائی ہے۔

4 حضرت علیؓ کا ارشاد ہے کہ رسول اللہﷺ نے بدر کے روز مجھ سے اور ابوبکرؓ سے کہا: تم میں سے ایک کے ساتھ جبرئیل اور دوسرے کے ساتھ میکائیل ؑ ہیں اور اسرافیل بھی ایک عظیم فرشتہ ہیں جو جنگ میں آیا کرتے ہیں

*میدان سے ابلیس کا فرار:*

ابلیس لعین جو کہ سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی کی شکل میں آیا تھا اور مشرکین سے اب تک جدا نہیں ہوا تھا ، لیکن جب اس نے مشرکین کے خلاف فرشتوں کی کاروائیاں دیکھیں تو اُلٹے پاؤں پلٹ کر بھاگنے لگا ، مگر حارث بن ہشام نے اسے پکڑ لیا ، وہ سمجھ رہا تھا کہ یہ واقعی سراقہ ہی ہے ، لیکن ابلیس نے حارث کے سینے پر ایسا گھونسامارا کہ وہ گر گیااور ابلیس نکل بھاگا۔ مشرکین کہنے لگے: سراقہ کہا ں جارہے ہو؟ کیا تم نے یہ نہیں کہا تھا کہ تم ہمارے مدد گا ر ہو ہم سے جدا نہ ہوگے ؟ اس نے کہا : میں وہ چیز دیکھ رہا ہوں جسے تم نہیں دیکھتے۔ مجھے اللہ سے ڈرلگتا ہے، اور اللہ بڑی سخت سزا والا ہے۔ اس کے بعد بھاگ کر سمندر میں جارہا

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
فَلَمَّا تَرَاءَتِ الْفِئَتَانِ نَكَصَ عَلَى عَقِبَيْهِ وَقَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِنْكُمْ إِنِّي أَرَى مَا لَا تَرَوْنَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ وَاللَّهُ شَدِيدُ الْعِقَابِ
پھر جب دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو وہ اپنی ایڑیوں پر واپس پلٹا اور اس نے کہا بے شک میں تم سے بری ہوں، بے شک میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ رہے، بے شک میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور اللہ بہت سخت عذاب والا ہے۔
الأنفال : 48

*شکست ِ فاش:*

تھوڑی دیر بعد مشرکین کے لشکر میں ناکامی اور اضطراب کے آثار نمودار ہوگئے ، ان کی صفیں مسلمانوں کے سخت اور تابڑ توڑ حملوں سے درہم برہم ہونے لگیں اور معرکہ اپنے انجام کے قریب جاپہنچا۔ پھر مشرکین کے جھتے بے ترتیبی کے ساتھ پیچھے ہٹے اور ان میں بھگدڑ مچ گئی۔ مسلمانوں نے مارتے کاٹتے اور پکڑ تے باندھتے ان کا پیچھا کیا، یہاں تک کہ ان کو بھرپور شکست ہوگئی

*ابوجہل کا قتل:*

حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ کا بیان ہے کہ میں جنگ بدر کے روز صف کے اندر تھا کہ اچانک مڑا تو کیا دیکھتا ہوں کہ دائیں بائیں دو نوعمرجوان ہیں۔ گویا ان کی موجودگی سے میں حیران ہو گیا کہ اتنے میں ایک نے اپنے ساتھی سے چھپا کر مجھ سے کہا :”چچاجان ! مجھے ابوجہل کو دکھلادیجیے۔” میں نے کہا :بھتیجے !تم اسے کیا کروگے ؟ اس نے کہا:”مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ رسول اللہﷺ کو گالی دیتا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو میرا وجود اس کے وجود سے الگ نہ ہوگا یہاں تک کہ ہم میں جس کی موت پہلے لکھی ہے وہ مر جائے۔” وہ کہتے ہیں کہ مجھے اس پر تعجب ہوا۔ اتنے میں دوسرے شخص نے مجھے اشارے سے متوجہ کرکے یہی بات کہی۔ ان کا بیان ہے کہ میں نے چند ہی لمحوںبعد دیکھا کہ ابو جہل لوگوں کے درمیان چکر کاٹ رہا ہے۔ میں نے کہا :”ارے دیکھتے نہیں ! یہ رہا تم دونوں کا شکار جس کے بارے میں تم پوچھ رہے تھے۔” ان کا بیان ہے کہ یہ سنتے ہی وہ دونوں اپنی تلواریں لیے جھپٹ پڑے اور اسے مار کر قتل کردیا۔ پھر پلٹ کر رسول اللہﷺ کے پاس آئے ، آپﷺ نے فرمایا : تم میں سے کس نے قتل کیا ہے ؟ دونوں نے کہا : میں نے قتل کیا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا:اپنی اپنی تلواریں پوچھ چکے ہو ؟ بولے نہیں۔ آپﷺ نے دونوں کی تلواریں دیکھیں اور فرمایا : تم دونوں نے قتل کیا ہے

معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے ابو جہل کو ایسی ضرب لگائی کہ اس کا پاؤں نصف پنڈلی سے اڑ گیا۔ واللہ! جس وقت یہ پاؤں اڑا ہے تو میں اس کی تشبیہ صرف اس گٹھلی سے دے سکتا ہوں جو موسل کی مار پڑنے سے جھٹک کر اڑ جائے

*ابوجہل کی گردن اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ*

رسول اللہﷺ نے فرمایا :”کون ہے جو دیکھے کہ ابو جہل کا انجام کیاہو ا۔” اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس کی تلاش میں بکھر گئے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے اسے اس حالت میں پایا کہ ابھی سانس آجارہی تھی۔ انہوں نے اس کی گردن پر پاؤں رکھا اور سر کاٹنے کے لیے ڈاڑھی پکڑی اور فرمایا : او اللہ کے دشمن ! آخر اللہ نے تجھے رسوا کیا نا ؟ اس نے کہا : ”مجھے کاہے کو رسوا کیا ؟ کیا جس شخص کوتم لوگوں نے قتل کیا ہے اس سے بھی بلند پایہ کوئی آدمی ہے”؟”یا جس کو تم لوگوں نے قتل کیا ہے اس سے بھی اوپر کوئی آدمی ہے ؟” پھر بو لا : ”کاش ! مجھے کسانوں کے بجائے کسی اور نے قتل کیا ہوتا۔” اس کے بعد کہنے لگا : ”مجھے بتاؤ آج فتح کس کی ہوئی ؟ ” حضرت عبد ا للہ بن مسعود نے فرمایا : اللہ اور اس کے رسول کی۔ اس کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعودسے – جو اس کی گردن پر پاؤں رکھ چکے تھے – کہنے لگا : او بکری کے چرواہے ! تو بڑی اونچی اور مشکل جگہ پر چڑھ گیا۔ واضح رہے کہ عبد اللہ بن مسعودؓ مکے میں بکریاں چرایا کرتے تھے۔
اس گفتگو کے بعد عبد اللہ بن مسعودؓ نے اس کا سر کاٹ لیا اور رسول اللہﷺ کی خدمت میں لاکر حاضر کر تے ہوئے عرض کیا :”یارسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ !یہ رہا اللہ کے دشمن ابوجہل کا سر۔” آپﷺ نے تین بار فرمایا: ”واقعی۔ اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔” اس کے بعد فرمایا :
((اللہ أکبر، الحمد للہ الذی صدق وعدہ ونصر عبدہ وہزم الأحزاب وحدہ۔))
”اللہ اکبر ، تمام حمد اللہ کے لیے ہے جس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھا یا ، اپنے بندے کی مدد فرمائی ، اور تنہا سارے گروہوں کو شکست دی۔”
پھر فرمایا : چلو مجھے اس کی لاش دکھاؤ۔ ہم نے آپﷺ کو لے جاکر لاش دکھائی۔ آپﷺ نے فرمایا : یہ اس امت کا فرعون ہے۔

*ایمان کے تابناک نقوش اور گرم جوش جہادی واقعات*

*جنت کے شوق میں کھجوریں پھینک دیں*

(آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات سن کر ) عمیر بن حمام نے کہا : بہت خوب بہت خوب۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا : تم بہت خوب بہت خوب ، کیوں کہہ رہے ہو ؟ انہوں نے کہا : نہیں ، اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول! کوئی بات نہیں سوائے اس کے کہ مجھے توقع ہے کہ میں بھی اسی جنت والوں میں سے ہوں گا۔ آپﷺ نے فرمایا: تم بھی اسی جنت والوں میں سے ہو۔ اس کے بعد وہ اپنے توشہ دان سے کچھ کھجوریں نکال کر کھانے لگے۔ پھر بولے : اگر میں اتنی دیر تک زندہ رہا کہ اپنی کھجوریں کھا لوں تو یہ تولمبی زندگی ہوجائے گی، چنانچہ ان کے پاس جو کھجور یں تھیں انہیں پھینک دیا، پھر مشرکین سے لڑتے لڑتے شہید ہوگئے

*امیہ کافر اور اسکے بیٹے کی گرفتاری*

عبدالرحمن بن عوف دشمن سے کچھ زِرہیں چھین کر لادے لیے جارہے تھے
راستے میں امیہ اپنے لڑکے علی کا ہاتھ پکڑے کھڑا تھا
اُمیہ نے انہیں دیکھ کر کہا :”کیاتمہیں میری ضرورت ہے ؟ میں تمہاری ان زِرہوں سے بہتر ہوں
مطلب یہ تھا کہ جو مجھے قید کرے گا میں اسے فدیے میں خوب دودھیل اونٹنیاں دوں گا…یہ سن کر عبد الرحمن بن عوفؓ نے زِرہیں پھینک دیں اور دونوں کو گرفتار کر کے آگے بڑھے

*ظالم امیہ، مظلوم بلال رضی اللہ عنہ کے ہتھے چڑھ گیا*

حضرت عبد الرحمنؓ کہتے ہیں کہ واللہ! میں ان دونوں کو لیے جارہا تھا کہ اچانک حضرت بلالؓ نے امیہ کو میرے ساتھ دیکھ لیا – یادرہے کہ امیہ حضرت بلالؓ کو مکے میں ستایا کرتا تھا…حضرت بلالؓ نے کہا: اوہو! کفار کا سرغنہ، امیہ بن خلف ! اب یا تو میں بچوں گا یا یہ بچے گا۔ میں نے کہا: اے بلالؓ ! یہ میرا قیدی ہے ، انہوں نے کہا : اب یاتو میں رہوں گا یایہ رہے گا۔ پھر نہایت بلند آواز سے پکار ا:”اے اللہ کے انصارو ! یہ رہاکفار کا سرغنہ اُمیہ بن خلف ، اب یاتو میں رہوں گا یا یہ رہے گا۔” حضرت عبد الرحمنؓ کہتے ہیں کہ اتنے میں لوگوں نے ہمیں کنگن کی طرح گھیرے میں لے لیا۔ میں ان کا بچاؤ کر رہا تھا مگر ایک آدمی نے تلوار سونت کر اس کے بیٹے کے پاؤں پر ضرب لگائی اور وہ تیورا کر گر گیا۔ اُدھر اُمیہ نے اتنے زور کی چیخ ماری کہ میں نے ویسی چیخ کبھی سنی ہی نہ تھی۔ میں نے کہا : نکل بھاگو ، مگر آج بھاگنے کی گنجائش نہیں ، اللہ کی قسم ! میں تمہارے کچھ کام نہیں آسکتا۔ حضرت عبد الرحمنؓ کا بیان ہے کہ لوگوں نے اپنی تلوار وں سے ان دونوں کو کاٹ کر ان کاکام تمام کردیا۔
عبد الرحمنؓ بن عوف نے اُمیہ بن خلف سے کہا کہ گھٹنوں کے بل بیٹھ جاؤ۔ وہ بیٹھ گیا اور حضرت عبدالرحمنؓ نے اپنے آپ کو اس کے اوپر ڈال لیا، لیکن لوگوں نے نیچے سے تلوار مار کر اُمیہ کو قتل کردیا۔ بعض تلواروں سے حضرت عبدالرحمن بن عوف کا پاؤں بھی زخمی ہوگیا
چنانچہ بعد میں عبد الرحمنؓ اپنے پاؤں کی پشت پر اس کا نشان دکھایا کرتے تھے
اس کے بعد حضرت عبدالرحمنؓ کہا کرتے تھے :”اللہ بلالؓ پر رحم کرے۔ میری زِرہیں بھی گئیں اور میرے قیدی کے بارے میں مجھے تڑ پا بھی دیا۔”

*حمزہ رضی اللہ عنہ کی بہادری اور کارنامہ*

عبد الرحمن بن عوفؓ نے امیہ اور اس کے لڑکے علی گرفتار کر لیا
حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ کہتے ہیں کہ میں امیہ اور اس کے بیٹے کے درمیان چل رہاتھا کہ اُمیہ نے پوچھا : آپ لوگوں میں وہ کون سا آدمی تھا جو اپنے سینے پر شتر مرغ کا پَر لگائے ہوئے تھا ؟ میں نے کہا : وہ حضرت حمزہ بن عبد المطلبؓ تھے۔ اُمیہ نے کہا : یہی شخص ہے جس نے ہماری اندر تباہی مچا رکھی تھی

*لکڑی کی تلوار*

اس جنگ میں حضرت عکاشہ بن محصن اسدیؓ کی تلوار ٹوٹ گئی۔ وہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے انہیں لکڑی کا ایک پھٹا تھمادیا اور فرمایا: عکاشہؓ ! اسی سے لڑائی کرو۔ عکاشہؓ نے اسے رسو ل اللہﷺ سے لے کر ہلا یا تو وہ ایک لمبی ، مضبوط اور چم چم کرتی ہوئی سفید تلوار میں تبدیل ہوگیا۔ پھر انہو ں نے اسی سے لڑائی کی یہاں تک کہ اللہ نے مسلمانوں کو فتح نصیب فرمائی

*سگے بھائی کی پرواہ نہیں کی*

خاتمۂ جنگ کے بعد حضرت مُصعب بن عمیر عبدریؓ اپنے بھائی ابو عزیر بن عُمیر عبدری کے پاس سے گزرے۔ ابو عزیز نے مسلمانوں کے خلاف جنگ لڑی تھی اور اس وقت ایک انصاری صحابی اِس کا ہاتھ باندھ رہے تھے۔ حضرت مصعبؓ نے اس انصاری سے کہا : ”اس شخص کے ذریعے اپنے ہاتھ مضبوط کرنا، اس کی ماں بڑی مالدار ہے وہ غالبا ً تمہیں اچھا فدیہ دے گی ۔” اس پر ابوعزیز نے اپنے بھائی مُصعبؓ سے کہا : کیا میرے بارے میں تمہاری یہی وصیت ہے ؟ حضرت مصعب نے فرمایا : (ہاں) تمہارے بجائے یہ …انصاری …میرا بھائی ہے

*عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ماموں کو قتل کر دیا*

حضرت عمر بن خطابؓ نے اپنے ماموں عاص بن ہشام بن مغیرہ کو قتل کیااور قرابت کی کوئی پروا نہ کی

*فریقین کے مقتو لین*

اس جنگ میں چودہ مسلمان شہید ہوئے۔ چھ مہاجرین میں سے اور آٹھ انصار میں سے ، لیکن مشرکین کو بھاری نقصان اٹھا نا پڑا۔ ان کے ستر آدمی مارے گئے اور ستر قید کیے گئے جو عموماً قائد ، سردار اوربڑے بڑے سر بر آوردہ حضرات تھے

*کفار کے مقتولین کو ایک گھڑے میں پھینک دیا گیا*

خاتمۂ جنگ کے بعد رسول اللہﷺ نے مقتولین کے پاس کھڑے ہوکر فرمایا : تم لوگ اپنے نبی کے لیے کتنا برا کنبہ اور قبیلہ تھے۔ تم نے مجھے جھٹلایا جبکہ اوروں نے میری تصدیق کی۔ تم نے مجھے بے یارومددگار چھوڑا جبکہ اوروں نے میری تائید کی۔ تم نے مجھے نکالا جبکہ اوروں نے مجھے پناہ دی۔” اس کے بعد آپ نے حکم دیا اور انہیں گھسیٹ کر بدر کے ایک کنویں میں ڈال دیا گیا

*مکے میں شکست کی خبر*

ابن ِ اسحاق کہتے ہیں کہ سب سے پہلے جو شخص قریش کی شکست کی خبر لے کر مکے وارد ہوا وہ حَیْسمان بن عبد اللہ خزاعی تھا۔ لوگوں نے اس سے دریافت کیا کہ پیچھے کی کیا خبر ہے ؟ اس نے کہا : عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ ، ابو الحکم بن ہشام ، اُمیہ بن خلف …اورمزید کچھ سرداروں کا نام لیتے ہوئے …یہ سب قتل کردیئے گئے۔ جب اس نے مقتولین کی فہرست میں اشراف قریش کو گنا نا شروع کیا تو صفوان بن اُمیہ نے جو حطیم میں بیٹھا تھا کہا: اللہ کی قسم! اگر یہ ہوش میں ہے تو اس سے میرے متعلق پوچھو۔ لوگوں نے پوچھا: صفوان بن امیہ کا کیا ہوا ؟ اس نے کہا : وہ تو وہ دیکھو ! حطیم میں بیٹھا ہوا ہے۔ واللہ! اس کے باپ اور اس کے بھائی کو قتل ہوتے ہوئے میں نے خود دیکھا ہے

*مدینے میں فتح کی خوش خبری:*

ادھر مسلمانوں کی فتح مکمل ہوچکی تو رسول اللہﷺ نے اہل ِ مدینہ کو جلد از جلد خوشخبری دینے کے لیے دو قاصدروانہ فرمائے۔ ایک حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ جنہیں عوالی (بالائی مدینہ ) کے باشندوں کے پاس بھیجا گیا تھا اور دوسرے حضرت زید بن حارثہؓ جنہیں زیرین مدینہ کے باشندوں کے پاس بھیجا گیا تھا
جب دونوں قاصد پہنچے تو مسلمانوں نے انہیں گھیر لیا اور ان سے تفصیلات سننے لگے حتیٰ کہ انہیں یقین آگیا کہ مسلمان فتح یاب ہوئے ہیں۔ اس کے بعد ہر طرف مسرت وشادمانی کی لہر دوڑ گئی اور مدینے کے دَرو بام تہلیل وتکبیر کے نعروں سے گونج اُٹھے اور جو سربر آوردہ مسلمان مدینے میں رہ گئے تھے وہ رسول اللہﷺ کو اس فتح مبین کی مبارک باد دینے کے لیے بدر کے راستے پر نکل پڑے

*اہل بدر کی فضیلت*

رفاعہ بن رافع قرظی بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پوچھا :
’’تم اہل بدر کو اپنے میں کیسا شمار کرتے ہو؟‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’مسلمانوں کے سب سے بہتر لوگ۔‘‘ یا اس کے ہم معنی کوئی بات کہی۔
(جبریل علیہ السلام نے) فرمایا :
’’اسی طرح وہ فرشتے بھی (افضل) ہیں جو بدر میں شریک ہوئے تھے۔‘‘
[ بخاری، المغازی، باب شہود الملائکۃ بدرًا : ۳۹۹۲ ]

جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حاطب رضی اللہ عنہ کا ایک غلام حاطب رضی اللہ عنہ کی شکایت لے کر آیا اور کہنے لگا :
’’یا رسول اللہ! حاطب ضرور آگ میں داخل ہو گا۔‘‘
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
[ كَذَبْتَ لَا يَدْخُلُهَا فَإِنَّهُ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ ]
[ مسلم، فضائل الصحابۃ، باب من فضائل حاطب بن أبي بلتعۃ… : ۲۴۹۵ ]
’’تو نے غلط کہا، وہ آگ میں داخل نہیں ہو گا، کیونکہ اس نے تو بدر اور حدیبیہ میں شرکت کی ہے۔‘‘

- Advertisement -spot_imgspot_img
محمد نعیم شہزادhttps://myblogs.pk
محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔
Latest news
- Advertisement -spot_img
Related news
- Advertisement -spot_img

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Translate »