فراغت میں عبادت، قرآن کا دلنشین اسلوب

وقت کا حقیقی تعین ۔۔۔۔۔۔ درجہ عبادت
(فاذا فرغت فانصب۔۔۔۔۔۔۔۔۔والی ربک فارغب )

از قلم 📝 عظمی ناصر ہاشمی

. اس مادیت پرستی کے دور میں مصروف آدمی کے لیے فراغت کسی نعمت سے کم نہیں۔

انسان ۔۔۔۔یا تو مصروف ہوتا ہے یا ۔۔۔۔۔فارغ ۔
اگر یہ دونوں اوقات کوئی شخص احکام الٰہی کے مطابق گزارتا ہے تو وہ عبادت کے زمرے میں آتا ہے ۔اور ثواب کا مستحق بنتا ہے ۔
اگر وہ اپنی مصروفیت اور فراغت میں خدائی احکام کو زیر غور نہیں لاتا تو وہ اللہ کے ہاں گناہ گار ہے ۔
ہم صبح سے شام تک مختلف کام کرتے ہیں جیسے ڈاکٹریٹ’ ٹیچنگ، آفیسر ی ‘محنت مزدوری ‘دستگاری وغیرہ وغیرہ

ان سب افعال کے سر انجام دینے میں مردوں کے ساتھ ساتھ عورتیں بھی شامل ہوتی ہیں۔

عورتوں کے گھریلو کام’ بچوں کی دیکھ بھال’ گھرداری’ گھر کے سب افراد کا خیال یہ سب ہماری مصروفیت کی اقسام ہیں ۔
اب آپ سوچیں گے کہ ہماری مصروفیت کے ساتھ عبادت کا کیا تعلق ہے ؟؟؟
اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے۔ جب شریعت کے مطابق کام کریں گے تو وہ خود بخود عبادت میں ڈھل جائے گا کیونکہ اللہ تعالی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت میں جو بھی عمل کیا جائے وہ عبادت میں شمار ہوتا ہے۔

دوسری بات کہ ہم کیسے معلوم کریں کہجو محنت ‘کام یا کاروبار ہم کر رہے ہیں وہ عبادت ہے یا نہیں تو ایک مثال سے ہی یہ بات سمجھ آجائے گی ۔
اکر کوئ استاد ہے تو وہ اپنی مصروفیت کا ایمانداری سے استعمال کرے گا اور عبادت کا درجہ پائے گا۔
نسل نو کو احسن طریقے سے تعلیم و تربیت نہیں دے گا تو عبادت اور ثواب سے محروم رہ جائے گا

ایسے ہی ہر ملازم کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے۔
ایسے ہی ایک ہاؤس وائف عورت اپنے خاندان بچوں اور شوہر کے ساتھ وفادار رہے گی رشتوں کو بوجھ سمجھنے کی بجائے خوشی خوشی اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی اور اپنا مصروفیت کا وقت اچھے طریقے سے گزارے گی تو اس کی محنت عبادت کے دائرے میں شمار ہوگی۔
اس کے برعکس اگر وہ اپنا وقت بے ہودہ کاموں لڑائی جھگڑوں فتنہ فساد میں برباد کرے گی تو گناہگار ہوگی۔۔۔۔۔ بلکہ شوہر کی اطاعت کرنے، اپنی عصمت کی حفاظت کرنے اور نماز روزے کی پابند عورت کو تو دنیا میں ہی جنت کے آٹھ دروازے اس کے لیے کھول دیۓ جانے کی بشارت دے دی گئی ہے۔

آب آتے ہی فراغت کی طرف ۔۔۔۔۔۔۔۔

ہر مصروف انسان کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی وقت فراغت کے اوقات بھی ضرور حاصل کرتا ہے۔ جب فارغ ہو کر بیٹھتا ہے تو چند گھنٹوں کا آرام اسے نعمت عظمی دکھائی دیتا ہے اور وہ ا سے بھرپور طریقے سے انجوائے کرنا چاہتا ہے ۔

فراغت کے اوقات میں بھی لوگوں نے اپنے معیار اور پیمانے بنا رکھے ہیں ۔
مگر یاد رکھیۓ!

جس طرح مصروف اوقات عبادت اور اجر و ثواب کے مستحق ہوتے ہیں ۔ اس طرح فارغ اوقات بھی نیکیوں میں ڈھالے جاسکتے ہیں اور اس کے لیے ہمیں زیادہ محنت بھی نہیں کرنی پڑتی ۔
بس اس کے لئے دل میں ایمان اور خوف خدا کا ہونا لازمی ہے ۔
اگر ویک اینڈ پہ کسی نے سینما یا تھیٹرجانے کا پروگرام بنا لیا تو اس نے اپنا فراغت کا وقت برباد کر دیا ۔
دوسری طرف ایک شخص یہ چاہتا ہے کہ میں دنیا کے کاموں سے فارغ ہوکر کسی دینی مجلس میں جاؤنگا کسی مریض کی عیادت کر لوں گا یا۔۔ اپنے بوڑھے والدین کے ساتھ ان کی خدمت کرتے وقت گزاروں گا تو اسے اس کی نیت کا ہی ثواب ملنا شروع ہو جا ۓ گا۔
فراغت کا ایک مصرف دور حاظر کی جدید ٹیکنالوجی انٹر نیٹ اور موبائل کی صورت میں چوبیس گھنٹے ہمیں میسر ہے۔ جس مین ہر طرح کی معلومات کا خزانہ موجود ہے۔ یہ موبائل ہماری ذات کو بہتر بھی بناسکتا ہے اور بد بھی ۔فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اچھے پروگرام سرچ کریں گے تو نامہ اعمال سیاہ ہونے سے بچ جبۓ گا ۔لیکن اکثریت کو تو جیسے موبائل فوبیا ہو چکا ہے۔ اور یہ سوچے بنا کہ اس میں کیا غلط ہے اور کیا درست دیکھتے چلے جاتے ہیں۔ گناہ کے احساس سے عاری۔۔۔۔۔۔۔۔یہ سوچے بغیرکہ روز حشرکیا جواب دیں گے جس کا تذکرہ قرأن مجید کی سورہ "یسین "میں یون بیان کیا گیا
ترجمہ۔۔۔۔۔۔
آج کے دن ہم ان قے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اور انکے ہاتھ کلام کریں گے اوران کے پاؤ ں گواہی دیں گےجو وہ کماتے رہے۔

فراغت میں وقت کا صحیح استعمال کیسے کرنا ہےاس ضمن مین میں قرآن مجید کی ایک أیت ہماری صحیح رہنمائ کرتی ہے۔
"فاذا فرغت فانصب۔۔۔۔۔والیٰ ربک فارغب”
جس کا ترجمہ یہ ہے "کہ جب فارغ ہو تو اپنے رب کی طرف رغبت کر ”
سبحان اللہ کیا شان ہے دین اسلام کے جو انسان کو مصروفیت کے ساتھ ساتھ فراغت کے اوقات میں رہنے کے بھی اصول بتاتا ہے
اللہ سبحانہ و تعالی جو خالق ہے’ مالک ہے’ رحیم ہے’ رحمان ہے۔ وہ اپنے بندے کی فطرت سے واقف ہے کہ جب وہ کاموں میں مشغول ہوتا ہے تو اپنے رب کو صحیح طریقے سے یاد نہیں کر پاتا ۔ اسی لئے تو فرمایا کہ وہ فارغ وقت میں ہی اپنے رب کو یاد کرلے ۔۔۔۔۔۔۔
اس کے آگے سجدہ ریز ہو۔۔۔۔۔ نماز پڑھنے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تنہائی میں اپنے مالک کی محبت اور اس کے خوف سے آنسو بہائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ُ
رات کی سیاہی میں اٹھ کر اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرے۔۔۔۔
کیونکہ انسان بہت کم جانتا ہے کہ اس سے کون کونسے گناہ سرزد ہوئے ؟؟؟
بلکہ انجانے میں ہم ایسے گناہ کر جاتے ہیں جن کا ہمیں تصور تک نہیں ہوتا
الغرض مصروفیت اور فراغت کے لمحات میں وقت کا صحیح استعمال ہمارے صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کو مٹانے کا موجب بن سکتا ہے اور ہم آپ کے سامنے بھی اس کے محبوب بندے بن سکتے ہیں ۔
بلکہ ایک اور بات ذہن نشین ہو جاۓ کہ مصروفیت سے زیادہ فراغت میں گناہ سر زد ہونے کے مواقع زیادہ ہو سکتے ہیں کیونکہ کام کاج کے دوران لوگوں کا لحاظ ہوتا ہے کہ کوئ کیا کہے گا۔جبکہ فراغت میں ، تنہائ میں ، سب کی نظروں سے چھپ کے بآسا نی برے کاموں میں ملوث ہوا جا سکتا ہے۔
ہمیں برائ سے نیکی کی طرف راغب کرنے والا بس ایک ہی احساس ہے ۔
اور وہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”
۔خشیت الہی”
اپنے اندر تقوی اور خشیت الہی پیدا کیجیۓ سارے بگڑے کام خود بخود سنور جائیں گے۔
اور ۔۔۔۔یہ احساس کہ” خدا دیکھ رہاہے” انسان کو اس کے فارغ اور مصروف اوقات کا حقیقی تعین کرنے میں مدد گار ثابت ہوگا۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

مومنین اور رمضان المبارک – حافظ امیر حمزہ سانگلوی

مومنین اور رمضان المبارک تحریر:حافظ امیر حمزہ سانگلوی ماہ صیام کی آمد آمد ہے۔مومن مسلمان …

رمضان المبارک کی روح اور اس کے تقاضے – جویریہ بتول

رمضان المبارک کی روح اور تقاضے…!!! (✍🏻:جویریہ بتول). خزاں زدہ اشجار اور پودوں پر جب …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے