ایک تلخ حقیقت – ابنِ آفتاب

ایک تلخ، مگر حقیقت!

ابن آفتاب

اڑنے کے لیے پر چاہیے ہوتے ہیں اور چلنے کے لیے پیر، ہمارا المیہ یہ ہے کہ پیر ہونے کے باوجود ٹھیک سے چل نہیں سکتے اور پر کی عدم موجودگی میں اڑنے کے خواب دیکھتے ہیں –
ترقی کا مطلب، غیر موجود وسائل کو بنانے کا سوچنا نہیں بلکہ موجود وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کرنے کے اوپر زور دینا ہے –
ہمارے طلباء زمانہ طالب علمی میں مگن تو موبائلوں میں ہوتے ہیں مگر ان کی motivation یہ شعر ہوتا ہے کہ
عمل سے زندگی بنتی ہے، جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں، نا نوری ہے نا ناری ہے
آج کل کے مشہور پیشوں میں سے ایک motivational speaker بننا ہے مگر نا جانے کون لوگ ہیں جو motivational speakers کو سنتے ہیں کیوں کہ جب فائدہ بڑھتا ہے تو مانگ بڑھتی ہے، اور speakers کی زیادتی اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ ان کا اثر بڑھ رہا ہے مگر وہ ثمرِ لاحاصل ناپید کیوں دکھتا ہے؟
ہمارا نظامِ تعلیم خراب بھی ہے اور اس سے پڑھنے والے بدلنے کی باتیں کرتے کرتے راتوں کو سوجاتے ہیں –
بلھے شاہ کی شاعری تو بہت سنی جاتی ہے کہ ‘جا جا وڑدا مندر مسیتے، من اپنے نوں نا پڑھیا’ مگر حقیقت یہ ہے کہ اپنا من بھی نہیں پڑھا اور پانچ وقت کی نماز بھی پڑھنے کی توفیق نا ہوئی –
ہماری سوچ کی پرواز تو ساتوں آسمانوں اور زمینوں میں ہے مگر احتساب و عمل کی گونج کان تک پہنچنے سے قاصر ہے –
لکھاریوں کو میرا پیغام کہ لکھنا کوئی آسان کام نہیں مگر عمل کا درجہ اس سے بڑا ہے کہیں ہماری بھی حالت اقبال کے اس شعر والی نا ہوجائے کہ
اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے
گفتار کا یہ غازی تو بنا، کردار کا غازی بن نا سکا

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

اچھی اور بری صحبت کے اثرات – مائی بلاگز

اچھی اور بری صحبت کے اثرات بقلم عمران محمدی عفا اللہ عنہ   *سچے لوگوں …

نوجوان نسل کا بگاڑ، والدین اور مربیین کے نام کھلا خط

محترم والدین اور علماء دین میں ایک ایسا نوجوان ہوں جسے اپنی جوانی کے آغاز …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے