دنیا کا مسافر – جویریہ بتول

سفر کی ابدیت اور راہ چلتے مسافر…!!!
(✍🏻:جویریہ بتول).
گردشِ لیل و نہار…
یہ چکرِ ماہ و سال…
بہار و خزاں کے مدار…
یہ دھوپ اور چھاؤں کے رنگ کا سفر تو ازل سے جاری ہے…
یہ سچ ہے کہ ابدیت تو سفر میں ہے…مسافر کو نہیں…!
جب سے یہ دنیا بنی ہے…مسافروں کا سفر تو نہیں رُکا…لیکن مسافر عدم ہوتے چلے جاتے ہیں…
وقت تیز رفتاری کے پَر لگائے اُڑتا چلا جا رہا ہے اور زندگی کی کتاب کا ہر روز ایک صفحہ اُلٹتا جا رہا ہے…
تاریخِ کردار کا نمونہ لمحہ بہ لمحہ،لفظ بہ لفظ محفوظ ہوتا جا رہا ہے…کیوں کہ کتابِ زندگی ہی وہ کتاب ہے جو بغیر توقف کے لکھی جاتی ہے اور کسی بھی گھڑی اس کی تصنیف کا عمل رُکا نہیں کرتا…!
یہ سانسیں…
یہ فرصتیں…
یہ جوانی…
اور صحت کی غنیمتیں رفتہ رفتہ ہمارے ہاتھوں سے پھسلتی جا رہی ہیں اور ہم لمحہ لمحہ…قدم قدم اپنے انجام سے قریب تر ہوتے چلے جا رہے ہیں…
یہ مواقع…
یہ مہلتیں…
اور ارادہ و اختیار کی آزادی…کے مدارج طے ہوتے ہوئے کامیاب یا ناکام منزل کے کناروں سے ہم آغوش ہونے جا رہے ہیں…!
ہر آتی ہوئی سانس موت کے قرب کا پیغام لاتی ہے…
جو گہرا راز…ایک بڑی حقیقت اور اٹل فیصلہ ہے…!
سوچیں کہ گزشتہ رمضان میں کتنے ہی چہرے جو ہمارے ساتھ تھے اس وقت نظر نہیں آتے…
یہی زندگی کی حقیقت ہے…
سانسوں کا یہ سفر ایک ناقابلِ بھروسہ چیز ہے اور جانے کس لمحے سفرِ زندگی کی رونق کی شام آ پہنچے…؟
مسافر کو تو چلنا ہے…منزل کی جانب،گرچہ وہ کسی شجرِ سایہ دار کے نیچے ذرا دیر رونق میں سستاتا ضرور ہے…مگر مستقل قیام کا اختیار قطعًا نہیں رکھتا…سفر تو جاری رہتا ہے لیکن مسافر آگے پیچھے چلنے والے قافلوں کے مسائل سے قطع نظر اپنی پونجی و سواری کے لیے زیادہ فکر مند نظر آتا ہے…!!
وہ اپنے دریدہ دامن میں بھی چند ٹکڑے اور خشک حلق کی پیاس بجھانے کے لیے پانی کے چند گھونٹ بھی سنبھال سنبھال کر رکھتا ہے…
اپنی پونجی کی فکر میں ہلکان اور احاطۂ منزل میں داخلے کی اُمید کی خوشی سے سرشار ہوتا ہے…
مسافر جن راستوں پر نقش چھوڑتے ہوئے آگے بڑھ جاتا ہے،یہ تو ممکن ہے کہ وہ پھر اُن راہوں،موسموں اور رنگوں کو نہ دیکھ پائے،پھر سے نہ پلٹنے پائے لیکن یہ ممکن نہیں کہ اُس راستے سے گزرنے والے سفر میں کمی واقع ہو…
سو مان لیجئے کہ یہ دنیا تمام تر رعنائیوں اور کشش کے باوجود بھی ہماری نہیں ہے…
ہم اگر وارث بننے والے ہیں تو کیے گئے نیک اعمال اور سفرِ رضا پر مستقل مزاجی سے مستقم رہ کر جنت کے باغ و بہار…اور انہار و دیدار کے…
جس میں صرف ایک کوڑا رکھنے کے برابر جگہ بھی دنیا و مافیھا سے بڑھ کر ہے…!
اور ہمارا رب ہمیں اُن جنتوں میں داخل کرنے کے لیے ہم سے قابلِ اوقات و وسعت اعمال و افعال کی انجام دہی کا مطالبہ کرتا ہے…
اور پھر بار بار وعدہ کرتا ہے کہ میں تمہیں ضرور بالضرور اُن نعمتوں میں داخل کروں گا جو کسی آنکھ نے دیکھی نہیں…
کسی کان نے سنی نہیں اور کسی دل میں اُن کا خیال تک پیدا نہ ہوا ہو گا…
یہ دنیا مسافر خانہ ہے ناں اور ہم سب مسافر…
یہ پکے ڈیرے لگانے کی جگہ تھوڑی ہے…
پکے ڈیرے تو جنّت کی بہاروں میں لگانے کی خواہش ہر سانس کے ساتھ مچلتی ہے ناں
تو آئیے پھر اُس منزل اور ابدی قیام گاہ میں سکون بھری رہائش کے لیے اِس مہلت میں کوئی ایسا کام ہی کر دیں…اُس کے کسی نہ کسی دروازے سے داخلے کی جستجو تو کریں…
جہاں کے بے مثال دریچوں سے فرشتوں کی ٹولیاں اور رب کی محبوب ہستیاں ہمارا استقبال کریں…
کیا خبر کہ سلام و دُعا کے نغموں کی گونج میں اطمینان و سلامتی سے چودھویں کے چاند کی مثل چمکتے چہروں والے گروہوں میں ہمارا بھی شمار آ لگے اور پھر ایک گہری سی مسکراہٹ کے سنگ مچلتے ہوئے ہم بھی اندر داخل ہو جائیں…
ایک ندا سماعتوں کے دریچوں سے آ ٹکرائے…
اُدخلوھا بسلٰم اٰمنین¤
اور پھر وہ مسکراہٹ اُس ابدی رنگ سے ہم آہنگ ہو جائے…جس کے جلو میں کبھی آنسوؤں نے نہیں چمکنا…
کسی تکلیف نے نہیں اُٹھنا…
کسی درد نے بے تاب نہیں کرنا…
مسافر نے سفر کی جن صعوبتوں کو سہا تھا اور سہتے سہتے رب سے اُمید لگائے آگے بڑھ آیا تھا…
دنیا والوں کی نظر سے اوجھل و معدوم ہو گیا تھا…
مگر سفر کی ابدیت کے نشان تو کوئی نہ مٹا سکا…
اور انہی کی جزا اُدخل الجنۃ فقد فاز کی صورت مل جائے تو اِس دلِ بے چین کی اور بھلا کیا خواہش باقی رہے گی…؟
یقینًا کوئی نہیں ناں…
یقینًا نہیں…!!!
کتنا کھلکھلائے گا ناں یہ دل…
چاہے اسے داخلے کے لیے…” باب الریان” کا راستہ ہی کیوں نہ مل جائے…!!!
گردشِ لیل و نہار تو جاری ہے…
رمضان سے رمضان تک…
تہی دست مسافر نے خالی پونجی میں زنگ آلود ہی سہی چند سکے سمیٹنے ہیں جنہیں رب کی رحمت کی مہر چمکا کر اَمر کر دے…!!!

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

بچوں کا بہتر مستقبل، ماضی کے آئینے میں – عبدالحفیظ چنیوٹی

” ہمارا عمل ہمارے بچوں کو سکون کے دن میسر کرے گا ” تحریر: عبدالحفیظ …

نرس، ایک خوش اخلاق مددگار – اختر نعیم

۔۔۔۔ ایدلیفی ۔۔۔ اختر نعیم نرس کو ہمارے ہاں سسٹر یعنی بہن کہہ کر مخاطب …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے