کرونا ، غربت اور پاکستان – کاشف علی

تحریر کاشف علی
کشف الاسرار
میڈیا میں زرائع کے حوالے سے خبر ہے کہ پنجاب میں مکمل لاک ڈاون کا سوچا جارہاہے فیصلہ کل کے اجلاس میں ہوگا ۔ ہم امید کرتے ہیں کہ خان صاحب یو ٹرن نہیں لیں گے اور اپنے فیصلے پہ قائم رہیں گےاور لاک ڈاون لگانے کا دباو مسترد کر دیں گے
البتہ ان سرکاری زعماء افسر شاہی، میڈیا اور ڈاکٹروں کی خدمت میں عرض ہے کہ
اگر آپ ان غریبوں کے کھانے اور دیگر ضروریات کو پورا نہیں کرسکتے تو آپ کو لاک ڈاون لگانے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ اسلام آباد لاہور کے وہ لوگ جو ٹوئیٹر پر بیٹھے ہیں انکے گھروں میں مہینوں کا راشن ہے لاک ڈاون کی حمائت کرتے ہیں۔ لیکن غریب جس کا چولہا ہی تب جلتا ہے دیہاڑی لگتی ہے اسکا احساس کسی کو نہیں ہے
آپ سروے کر لو پچھلے سال کے کرونا لاک ڈاون کا اٹھایا گیا قرض ابھی تک نہیں اتار سکے کیونکہ مہنگائی نے پیس دیا ہے ۔ اس رمضان میں لاک ڈاون سے جیسا کہ ابھی اس پہ مشاورت جاری ہے جہاں مذہبی استحصال ہوگا وہیں اس غریب کا معاشی قتل ہے کہ وہ عید پہ کپڑے تو دور کی بات روٹی کے لالے پڑ جائیں گے سفید پوش طبقہ پس کر رہ جائے گا ۔ اور ملک کی معاشی صورتحال اس کی متحمل نہیں ہے جیسا کہ وزیر اعظم پہلے بھی کہہ چکے ہیں اس سارے منظر نامے سیکولر لابیز بھی متحرک ہیں جو رمضان میں کرونا کے نام خاص طور پر لاک ڈاون کی حمائت کرکے اپنا الو سیدھا کرنا چاہتے ہیں

ابھی اک ٹرانسپورٹ سے متعلقہ رشتہ دار سے بات ہوئی کہنے لگے حکومت نے کہا کہ سواریاں آدھی کرو جب کرایا بڑھایا تو ایڈمنسٹریٹرلاری اڈا صاحب آکر جرمانے کر رہے ہیں 5000 دو ورنہ گاڑی بند۔ اب 5000 ہزار بھرنے والے کرایہ تو چاہے نا کم کریں مگر یہ پانچ ہزار کن کن کی جیبوں میں جائے گا ؟ درحقیقت یہ بیوروکریسی میڈیا اور ڈاکٹرز کے علاوہ کسی کا بھلا نہیں ہوگا سب جانتے ہیں کہ پچھلے سالوں مارکیٹوں سے افسر شاہی نے کیسے کمایا اور بند دوکانوں کے اندر ہوتی تجارت سے کون آکر جرمانے کے نام پر جیبیں بھرتا رہا ہے اور ڈاکٹروں کی بھی چاندی ہے پس اور مر عوام رہی ہے
دوسری طرف بیماری ہے تو اس بیماری کی دہشت دلوں میں اسقدر کیوں بٹھائی جارہی ہے جبکہ اس سے مرنے والوں کی ریشو پاکستان میں 2% بھی نہیں جبکہ اس میں بھی اک بڑی تعداد ایسے ہی کرونا کے کھاتے میں ڈالی گئی ہےجن کی موت کو کرونا کی وجہ بتایا جارہاہے سائنسی طور پر اور میڈیکلی طور پر ابھی وہ بھی پروف نہیں کیا جاتا بس جو مرگیا اور اسکو کرونا تھا تو بس کرونا کی وجہ سے ہی مرا جبکہ وجہ کچھ اور بھی تو ہوسکتی ہے۔
پہلے مسلمان حکمران وہ تھے جو کہتے تھے کہ فرات کنارے کتا بھی بھوکا مرا تو وہ ذمہ دار ہیں البتہ آجکل ذمہ داری سابقہ حکومتوں پر ہرآنے والی حکومت ڈالتی ہے
آپ sop پر عمل کروائیں مگر آپ لوگوں کو دہشت ذدہ مت کریں کیونکہ خوف سے اموات ہونا بھی بالکل ثابت ہے لہذا بے جا خوف پھیلا کر لوگوں کا قتل عام مت کریں

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

کرونا، توبۃ النصوح کی ضرورت – جویریہ بتول

توبو الی اللّٰــــہ توبۃ نصوحا…!!! (✍🏻:جویریہ بتول). ہم گزشتہ سال سے ایک اضطراب،وہم اور پریشانی …

ہاتھ کمزور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیں – قسط 2 – کاشف علی ہاشمی

ہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیں تحریر کاشف علی ہاشمی قسط نمبر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے