بچوں کا بہتر مستقبل، ماضی کے آئینے میں – عبدالحفیظ چنیوٹی

” ہمارا عمل ہمارے بچوں کو سکون کے دن میسر کرے گا ”

تحریر: عبدالحفیظ چنیوٹی

ایڈورٹیزمنٹ

وہ دن دوبارہ واپس لانے کیلئے ہمیں ہی میدان میں اترنا ہوگا۔
جب ہمارے ہمسائے سگی خالہ اور چاچو تایا جان کے برابر تھے، گھروں میں سالن بنتا تو ہمسائے کی طرف سب سے پہلے بھیجا جاتا، نظروں میں حیا تھی، بہن کی سہیلیوں کو بھی بہن جتنی عزت دی جاتی،
سب دوستوں کی محفلیں سجتی تھی،
صبح کا آغاز ادائیگی نماز فجر و تلاوت قرآن پاک سے ہوتا، گھروں دکانوں سے اونچی اونچی آواز میں تلاوت قرآن کی آوازیں آتی تھی،
کچھ دور پہلے ہر طرف پیار و محبت،ہمدردی و غمخواری کا ماحول تھا، بے جا خرچ ، اسراف ، تکلف، نام ونمود سے لوگ کوسوں میل دور تھے۔ شہرت و دکھاوا اظہار برتری کے جذبات نہ تھے۔ ماڈرن زمانے کے ساتھ حالات بھی تبدیل ہوگئے۔ سادگی ختم ہوچکی۔ ہر طرف حماقت ، برتری شان وشوکت کا اظہار ہے۔ یہ بناوٹی دکھاوے نے مسلمانوں کی معیشت اخلاق و کردار، ذہن و فکر کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ سادگی کو ہمارے نوجوان معیوب سمجھ رہے ہیں۔ سوائے دکھاوا اور پیسوں کی خرابی کے کچھ نہیں۔ دعوتوں میں کھانے پینے میں بے تحاشہ اسراف ہورہا ہے۔ خواتین زیورات اور کپڑوں میں ہزاروں روپے خرچ کر رہی ہیں۔ تھوڑی سی حماقت کیلئے لوگ خطیر رقم خرچ کر دیتے ہیں

آج ہم نے روپے پیسوں کی دوڑ میں شامل ہوکر بے سکونی اور شکوک وشبہات کو خود خرید لیا۔

ہم نے سکون و اطمنان کی بجائے پیسے کو ترجیح دی. ہم نے من و سلوی چھوڑ کر دال پیاز پسند کیا. موبائل فون ہر گھر میں آیا تو ہمسائے سگے بہن بھائیوں اور والدین کو چھوڑ کر سمندر پار والوں سے رابطے جوڑ لیے. جھوٹی محبتوں پر سچی خونی رشتہ داریاں قربان کر دیں. لڈو کیرم بورڈ یسو پنجو جیسی بچوں کی وہ گیمیں جن کے ذریعے پیار و محبت میں اضافہ ہوتا تھا ترک کر کے ہر بچے کو پب جی پر لگا دیا یہ سکھانے کے لئے کہ قتل و غارت کیسے کرتے ہیں.

جیسا ہمارا بچپن تھی آج ویسی ہی ہماری جوانی ہے… اب سوچیں جیسے ہماری اولاد کا بچپن ہے ان کی جوانی کیسی ہو گی. ان کی جوانی بہتر بنانے کے لیے ہمیں ان کا بچپن سنوارنا ہو گا ان کی تربیت کرنی ہو گی اچھے برے کا فرق بتانا ہو گا ورنہ آج یہ سارے معاشرے بہن بھائیوں سے اکیلے ہو کر موبائل کے ہو چکے… کل یہی بچے اپنے والدین، شریک حیات اور اپنے ہی بچوں کے لیے وقت نہیں نکال پائیں گے. ہم ان کی زندگی میں رنگ بھریں… کل یہ اپنی اولاد کی زندگی میں رنگ بھریں گے ان شا اللہ.

آئیں پلٹیں واپس اور پھر سے اس سادہ اور سکون کی زندگی کو اپنائیں اور اپنے بچوں پر رحم کریں اور ان کو بھی وہی زندگی کے پرسکون اور دل و دماغ کو سازشوں، بغض و حسد سے پاک شب وروز دینے کیلئے محنت کریں. موبائل کا استعمال کریں لیکن تلاوت حمد و نعت اسلامی ڈرامے دیکھنے کے لیے…. تا کہ ہماری اولاد کو دینی معاشرتی اور قومی شعور حاصل ہو نہ کہ وہ موبائل کے ذریعے اپنے آپ کو اور اپنی اقدار کو تباہ کرتے پھریں۔
گاندھی نے 1937ء میں جب کانگرس کی حکومت بنائی تو اپنے مشیروں اور وزیروں کو سادہ زندگی بسر کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہتا ہے کہ میں کرشن یا نارائن کا حوالہ نہیں دیتا کہ وہ کوئی تاریخی ہستیاں نہ تھیں میں مجبور ہوں کہ سادگی کی مثال کیلئے میں ابوبکر ؓ اور عمر ؓ کے نام پیش کرتا ہوں کہ وہ بہت بڑی سلطنت کے حکمران تھے لیکن انہوں نے زندگی سادگی والی گزاری ہے۔

دینی اور دنیاوی ہر دو پہلوں میں ہمیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ سے راہنمائی ملتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سادہ لباس زیب تن فرماتے تھے۔ اور حسبِ ضرورت اس میں پیوند وغیرہ لگا کر پہننے میں بھی عار محسوس نہیں کرتے تھے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نیا قمیص پہن کر نماز پڑھی۔ جس میں نقش و نگار تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران نماز اس کے نقش و نگا ر پر ایک نظر فرمائی۔ جب سلام پھیرا تو فرمایا یہ قمیض ابوجہم کو واپس کر دو اور میرے لیے ابنجان کی بنی ہوئی سادہ سی چادر منگوا دو۔آپ نے فراخی اور بادشاہی کا زمانہ بھی دیکھا مگر اپنی سادگی میں کوئی فرق نہ آیا۔کوئی شاہانہ لباس تیار نہ کروایا اور اسی حال میں خدا کے حضور حاضر ہو گئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا ایک دفعہ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کھدر کی موٹی چادر اور تہ بند نکال کر دکھائی اور بتایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بوقت وفات یہ کپڑے پہن رکھے تھے۔ اسی طرح اپنے صحابہ کو بھی یہ تلقین فرماتے تھے کہ ہمیشہ اپنے سے اوپر نظر نہ رکھو بلکہ اپنے سے کم تر کو دیکھو

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

پرودگار عالم کی رحمت و بخشش – عمران محمدی

*رب تعالیٰ کی رحمت اور بخشش* بقلم *عمران محمدی* عفا اللہ عنہ *============* *اللہ تعالیٰ …

کرونا، توبۃ النصوح کی ضرورت – جویریہ بتول

توبو الی اللّٰــــہ توبۃ نصوحا…!!! (✍🏻:جویریہ بتول). ہم گزشتہ سال سے ایک اضطراب،وہم اور پریشانی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے