امر جلیل اور بعض دیگر معتذرین کے باطل نظریات اور راہ حق – جویریہ بتول

امر جلیل اور بعض دیگر معتذرین کے باطل نظریات اور راہ حق
جویریہ بتول

اللّٰہ تعالٰی اس کائنات کا خالق،مالک،رازق اور وارثِ حقیقی ہے…اس بات کا معمولی عقل رکھنے والا انسان بھی کہیں نہ کہیں اعتراف کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے…چاہے وہ رب تعالٰی کی وحدانیت کا قائل ہو یا نہ ہو…
اُس عظیم ذات نے جب اپنا تعارف اپنی آخری الہامی کتاب قرآن مجید میں کروایا تو کبھی "الغنی” کہہ کر کہ وہ ہر چیز،ضرورت و حاجت سے بے پرواہ ہے… وہ تو خود "البدیع” یعنی ہر چیز کا پیدا کرنے والا موجد ہے…وہ "الخبیر” مکمل اگاہی و خبر رکھنے والا… وہ "الحکیم” کمال حکمت اور "العلیم” یعنی کمال علم والا ہے…جس کے سامنے انسان کی تمام بودی دلیلیں،اعتراضات اور سوالات بے وقعت رہ جاتے ہیں…اُس نے جو کچھ تخلیق کیا ہے… ایک خاص اندازے اور مقصد کے تحت پیدا کیا ہے…جسے چیلنج کرنے والے ازل سے سرگرداں ہیں اور ابد تک رہیں گے…!
اُس ذات نے جب اپنا تعارف کروایا تو کیا ہی بہترین وضاحت کی کہ تمام شبہات پر لَا کی ضرب لگ گئی…نفی کر دی گئی…اور صرف اُس کے وجود کا اثبات باقی رہا…اِلَّا اللّٰہ…! احد و صمد نےفرمایا کہ اے میرے پیغمبر حضرت محمدﷺ اعلان کر دیجئے:
*قل ھو اللّٰہ احد¤ اللّٰہ الصمد¤لم یلد ولم یولد¤ولم یکن لہ کُفُوًا احد¤* (سورۃ اخلاص:1_4)
"کہہ دیجئے کہ اللّٰہ ایک ہے،اللّٰہ بے نیاز ہے،نہ اُس سے کوئی پیدا ہوا،اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا،اور نہ ہی کوئی اُس کا ہمسر ہے…!!!”
وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا…
Neither He begets and nor (He) is born…
یعنی وہ اپنی ذات،صفات اور افعال میں…لیس کمثلہ شئیٌ ہے…!
حدیث قدسی کا مفہوم ہے کہ:
"اللّٰه تعالٰی فرماتا ہے،ابنِ آدم مجھے گالی دیتا ہے یعنی میرے لیے اولاد ثابت کرتا ہے،حالاں کہ میں نے نیاز ہوں،میں نے کسی کو جنا ہے،نہ کسی سے پیدا ہوا ہوں اور نہ میرا کوئی ہمسر ہے…”
(صحیح بخاری…کتاب التفسیر).
یعنی قرآن کی صرف یہ ایک مختصر سی سورت اللّٰہ تعالٰی کا اس قدر جامع اور بلیغ تعارف ہے کہ معمولی عقل رکھنے والا انسان بھی اِسے بآسانی سمجھ سکتا ہے،جو متعدد خداؤں کے نظریہ کا بھی رد ہے…
اور اُس سوچ کا بھی کہ اللّٰہ کی کوئی اولاد ہے،یا اُس کے شریک ہیں یا وہ نظریہ رکھنے والے جو وجود باری تعالٰی کے قائل ہی نہیں…
یہ سب سفاہت کی نشانیاں ہیں کیوں کہ انسان یہ تو ماننے کو تیار نہیں ہے کہ بجلی سے چلنے والا معمولی سا بلب بغیر کسی بنانے والے یا ایجاد کے ممکن ہے…
لیکن بسا اوقات اس وسیع کائنات،سورج،چاند اور ستاروں کی باقاعدہ تخلیق سے انکار کر دیتا ہے…!
جس رب نے اس کائنات کے ذرے ذرے کو بامقصد بنایا ہے…:
"ہم نے آسمان اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو کھیلتے ہوئے نہیں بنایا،اگر ہم یوں کھیل تماشے کا ارادہ کرتے تو اسے اپنے پاس سے ہی بنا لیتے،اگر ہم کرنے والے ہی ہوتے…
بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر دے مارتے ہیں پس سچ جھوٹ کا سر توڑ دیتا ہے اور وہ نابود ہو جاتا ہے تم جو باتیں بناتے ہو وہ تمہارے لئے باعثِ خرابی ہیں…”
(الانبیآء:16_18).
اپنی یکتائی،تنہا ہونے اور وحدانیت کی مذید دلیل دیتے ہوئے اللّٰہ تعالٰی نے فرمایا:
"اگر آسمان و زمین میں اللّٰہ کے سوا اور معبود ہوتے تو یہ دونوں درہم برہم ہو جاتے پس اللّٰہ ہی عرش کا رب ہر اس وصف سے پاک ہے جو مشرک بیان کرتے ہیں…”
(الانبیآء:22).

"آسمان کو محفوظ چھت بھی ہم نے ہی بنایا ہے لیکن لوگ اس کی قدرت کے نمونوں پر دھیان نہیں دھرتے…
وہی اللّٰــــہ ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو پیدا کیا،ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے مدار میں تیرتے ہیں…”
(الانبیآء:33).

اللّٰه ہی نے مردوں اور عورتوں کو پیدا کیا حضرت آدم علیہ السلام کا خالق بھی وہی،اماں حوّا کا خالق بھی وہی…
مرد و عورت کے حقوق و فرائض اور مقام و مرتبہ کا تعین کرنے والا بھی وہی…
اُس کے سبھی فیصلے اور ارادے پر ازحکمت ہیں…
"اور اس چیز کی آرزو نہ کرو،جس کے باعث اللّٰــــہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے،مردوں کا اس میں سے حصہ ہے جو انہوں نے کمایا اور عورتوں کا اُس میں سے حصہ ہے جو انہوں کے کمایا…”
(النسآء:32).
اللّٰہ تعالٰی کا مردوں کو ہی انبیاء و رسل بنا کر بھیجنا بھی اس کے کامل علم کی نشانی ہے…یہ اس کی قدرت کا اٹل فیصلہ ہے…نیکی و اطاعت کے کاموں میں سب کے لیے برابر اجر ہے لیکن ان کے درمیان استعداد،صلاحیت اور قوت کار کا جو فرق ہے وہ محض آرزو سے تبدیل نہیں ہو گا…
جو خالق ہوتا ہے وہ اپنی مخلوق کی صلاحیت و استعداد سے بخوبی آگاہ ہوتا ہے تبھی فرمایا
لا یکلف اللّٰہ نفسًا الا وسعھا…
وہ اپنی مخلوق پر بوجھ بھی وسعت و صلاحیت کے مطابق ہی ڈالا کرتا ہے…
یہ اعتراض کہ عورت نبیہ کیوں نہیں،اور اللّٰہ تعالٰی کی ماں نہیں،معاذ اللّٰــــہ…بیوقوفانہ اور بے معنی دلیل اور سوچ ہے…!
"جس کی ملکیت میں آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان اور تہہِ خاک کے نیچے کی ہر چیز ہے…”(طٰہٰ:6).
”وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے…”(البروج:16)
یعنی اُس کے حکم و مشیت کو ٹالنے والا کوئی نہیں،اور نہ ہی اُسے کوئی پوچھنے والا ہے…!!!
اپنی ذاتِ بلند و برتر کی شان بیان کرتے ہوئے فرمایا:
"شانِ رحمٰن کے لائق ہی نہیں کہ وہ اولاد رکھے،آسمان و زمین میں جو بھی ہیں سب کے سب اُس کے بندے ہی بن کر آنے والے ہیں،ان سب کو اس نے گھیر اور پوری طرح گن رکھا ہے،یہ سارے کے سارے قیامت کے دن اکیلے اکیلے اُس کے پاس حاضر ہونے والے ہیں…!!!”
(مریم:92_95).
اللّٰه اکبر…
حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر صبحِ قیامت تک جتنے بھی انسان ہیں سب کو اُس نے گن کر اپنی گرفت و قابو میں رکھا ہے،کوئی بھی اپنے کرتوتوں سمیت اُس سے مخفی نہیں ہے اور اکیلا ہی اُس کی بارگاہ میں پیش بھی ہونے والا ہے…!
رسول اللّٰہ ﷺ وادی نخلہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ کو نمازِ فجر پڑھا رہے تھے کہ کچھ جنوں کا وہاں سے گزر ہوا جنہوں نے قرآن سنا…اللّٰہ تعالٰی نے اُن کی اس کیفیت کو سورۂ جن میں یوں بیان فرمایا:
"جنوں کی ایک جماعت نے قرآن سنا اور کہا ہم نے عجیب قرآن سنا ہے… جو راہ راست کی طرف راہ نمائی کرتا ہے،ہم اس پر ایمان لا چکے اب ہم ہر گز کسی کو اپنے رب کا شریک نہیں بنائیں گے…اور بے شک ہمارے رب کی شان بڑی بلند ہے،نہ اُس نے کسی کو بیوی بنایا،نہ بیٹا، اور یہ کہ ہم میں کا بے وقوف اللّٰــــہ کے بارے میں خلافِ حق بات کرتا تھا…”
(الجن:1_4)
اللّٰه کی مخلوق جن بھی شعور سے گزرے تو ایسی کمزوریوں سے رب کی تقدیس بیان فرمائی کہ تَعٰالٰی جَدُّ رَبِّنَا…!!!
ترجمہ درج بالا آیات میں سفیھنا سے مراد ہر وہ شخص یا جنس ہے جو اللّٰہ کے بارے میں گمانِ باطل رکھتا ہے…جھوٹ و باطل میں مبالغہ کر کے…راہِ اعتدال سے دوری و تجاوز کر کے…اور ایسے سارے لوگ افترا پرداز ہیں…
جو تصوراتی ابہام و ابطال کو زبان پر لے آ کر رب بزرگ و برتر اور خالق و مالکِ کائنات کے بارے میں گستاخانہ زبان کے مرتکب ہوتے اور اپنے اوپر حجت تمام کر کے بدترین سوچ و مثال قائم کرنے والوں میں شامل ہو جاتے ہیں…ایسے لوگ جو معاشرے میں اُلجھن اور حدود و ادب سے تجاوز کا باعث بنیں اور آئین و قانون اور میڈیائی فورم کا غلط استعمال کریں،ان کے خلاف ایکشن لینا ذمہ داران کی ذمہ داری ہے…تاکہ ایک اسلامی مملکت اور معاشرے میں اصلاح و اثبات کو فروغ ملے نہ کہ منفیت و گستاخانہ ذہنیت کا پھیلاؤ منہ زور ہوتا چلا جائے…!!!

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

آزادی اظہار رائے اور مذہبی رواداری – ڈاکٹر ماریہ نقاش

جینے نہیں دیتے اسلام کے غدار ✍🏻 بقلم ڈاکٹر ماریہ نقاش موجودہ حالات و واقعات …

مومنین اور رمضان المبارک – حافظ امیر حمزہ سانگلوی

مومنین اور رمضان المبارک تحریر:حافظ امیر حمزہ سانگلوی ماہ صیام کی آمد آمد ہے۔مومن مسلمان …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے