16.2 C
London
بدھ, اگست 4, 2021

الوداع میرے لخت جگر – ام شاہد

- Advertisement -spot_imgspot_img
- Advertisement -spot_imgspot_img

شاہد کی یاد میں
✍️میرے دل میں تھا پنہاں
اک ستارہ………….
آج اس کو ملا ہو گا ان شاء اللہ رفیق عالی……………
الوداع میرے لختِ جگر
الوداع………….
اللّٰــــــہ نے تجھ کو اپنا
لیا بنا……………
الوداع میرے لختِ جگر
الوداع……………..
تیرے بعد اس گھر سے دین
کا کام چلتا رہے…………
حوصلہ میرا گر گر کے
سنبھلتا رہے…………….
دین کی خاطر سر کٹایا
تو نے…………….
اللّٰــــــہ کے ہاں بہت بڑا انعام
پایا تو نے…………….
تجھ کو میرے رب نے
سرخرو کیا………….
الوداع میرے لختِ جگر
الوداع……………….
مبارک ھے جو علم تم نے
اٹھایا…………….
تم نے اپنا سویا ہوا مقدر
جگایا………………
تیرے دل میں شوق تھا
شہادت کا جسم و کردار میں
لہو تھا شرافت کا…………
میں نے بڑے حوصلے سے تجھ کو کیا جدا…………
الوداع میرے لختِ جگر
الوداع…………….
تیری جواں ہمتوں نے چکا
دیا قرض اپنا…………..
ہاں ہم بھی نبھائیں گے
فرض اپنا……………
تم نے اپنے خون سے ہیں جلا
دیے چراغ………….
ہمارے دامنوں سے دھو دیے
ذلتوں کے داغ……………..
تم نے اپنی کھوئی ہوئی منزل کو لیا پا………….
الوداع میرے لختِ جگر
الوداع……………….
مجھ کو تو پیارا بہت یاد
آرہا ھے……………..
جیسے ابھی محفل سے توں اُٹھ کے جارہا ھے…………
تیرا چمکنا چہرہ آج بھی دیکھ رہئی ہوں…………
مسرور و خوش مسکراتا دیکھ رہیں ہوں…………
جی چاہتا ھے میرا دنیا سے ہو جاؤں جدا…………
الوداع میرے لختِ جگر
الوداع……………….
کب بھلائیں گے ہم تیری قربانیوں کو………….
کب بھلائیں ہم تیری
جانفشانیوں کو……………
امانت ھے تیرے سارے وعدے ہمارے پاس…………..
دعاؤں میں رکھیں گے ہمیشہ
پیارے تم کو یاد…………
الوداع میرے لختِ جگر
الوداع……… ……
یہ تیرا کام تھا مشکل منزلوں کو ڈھونڈنا………
اے دین کے مسافر جنتوں کو
ڈھونڈ نا………….
تجھ کو نئی راہیں ہو نیا
سفر مبارک………….
تیرے یہ نئے حوصلے عزم ہو
نیا گھر مبارک………..
پیکر تیرا خلوص صدق و
وفا شرم و حیا………..
الوداع میرے لختِ جگر
الوداع…………..
نور کی کرنوں میں لپٹا تیرا
شاداب چہرہ……………
سرخ لہو میں بھیگا تیرا
گلاب چہرہ……………
دے رہی ہوں دعائیں کہ دریچہ جنت کھلے………
مجھے اور کیا چاہیے کہ
تجھے شہادت ملے……….
سب کریں گے تیری ہی عظمت کو سلام……………
کہتا تھا مجھ کو جانے دے ماں جاکے اللّٰــــــہ سے کروں گا کلام…………..
توں نے اپنے اوپر صبغتہ اللّٰــــــہ لیا چڑھا………….
الوداع میرے لختِ جگر
الوداع…………
جنت کا راستہ تھا جیسے تیرا دیکھا بھالا…………
خوش ہوا ہوگا ان شاء اللہ
تجھے دیکھ کر رفیق عالی….
نام تھا ابوہریرہ محمد شاہد سلیم…………
جو دین کی سرفرازی کا بن گیا آمین……………

از قلم ام شاہد

- Advertisement -spot_imgspot_img
محمد نعیم شہزادhttps://myblogs.pk
محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔
Latest news
- Advertisement -spot_img
Related news
- Advertisement -spot_img

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Translate »