ہمارا المیہ کیا ہے۔۔۔۔۔؟؟؟ تحریر:- سعدیہ بنت خورشید احمد

  1. میں کیسے  بتاؤں۔۔ کیسے لکھوں کہ ہمارا المیہ کیا ہے؟
    لکھنے لگوں تو قلم کانپنے لگتا ہے۔ زمین تھر تھرا جاتی ہے۔ آسمان آنسو بہانے لگتا ہے۔
    روح کپکپا اٹھتی ہے۔
    جب میں اپنے گردو نواح میں نگاہ دوڑاتی ہوں، مختلف انواع کے لوگوں سے ملتی ہوں، ان کی سوچ کو دیکھتی ہوں تو میرا بس نہیں چلتا کہ میں چیخ اٹھوں۔۔۔
    دنیا میں نوے فیصد لوگ ایسے ہیں جو صرف اپنا مفاد چاہتے ہیں۔ عزت چاہتے ہیں۔ مال چاہتے ہیں۔ سکون چاہتے ہیں۔ اپنا نام روشن دیکھنا چاہتے ہیں۔
    وہ پھر چاہے ایک عابد و زاہد بندے کے پیچھے چھپا ایک گھٹیا ترین بندہ ہی کیوں نہ ہو۔۔
    لیکن ہمیں پسند ہے کہ ہم ظاہری طور پر بہت اچھے نظر آئیں۔
    ہم دکھلاوا کرنا جانتے ہیں۔ لوگوں کو اپنا گرویدہ بنانا چاہتے ہیں۔ سب لوگ سمجھیں کہ یہ بہت نیک پارسا ہے۔ لوگ مجھے اپنا آئیڈیل بنا لیں۔
    اس کے علاوہ دوسرے نیک لوگوں کی ذات پر طنز کرنا جانتے ہیں تاکہ لوگ ہماری باتوں سے خوب لطف اندوز ہوں اور ہمیں داد دینے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں۔
    لیکن ہم پر اگر کوئی طنز کر لے تو ہم اسکی سانس دبوچ لینا چاہتے ہیں۔
    لیکن پھر بھی نہ جانے ہمارا ضمیر ہمیں کیسے اجازت دے دیتا ہے کہ ہم یہ ظاہر کروا سکیں کہ ہمارا ظرف انتہائی اعلیٰ ہے جو ہم نے بات برداشت کر لی اور کچھ کہا بھی نہیں۔
    ہم انا پسند ہیں۔ بات صحیح بھی ہو لیکن انا کا مسئلہ درمیان میں حائل ہو جاتا ہے۔
    ہم صحیح بات جان کے بھی اسکو غلط کہنے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔۔۔
    دوسرے بندے کی اچھی خاص بے عزتی اور توہین کر کے ہم آسانی سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو ہمارا ہی ظرف ہے کہ ہم نے کچھ کہا نہیں۔۔۔!!!

ہم خود غرض ہیں۔ جہاں اپنا مفاد نظر آتا ہے وہاں تعریفات کے پل باندھنے لگتے ہیں۔ حتیٰ کہ دوسرے بندے کے پاؤں دھو کے اس پانی کو پینے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔
ہم دکھاوا کرنا جانتے ہیں۔ تاکہ لوگ ہمارے پیچھے آئیں۔
ہم بھری مجلس میں کسی کے خلاف بات کر کے اسکا مذاق اڑانا جانتے ہیں تاکہ دوسرے کی عزت لوگوں کی نگاہ سے قدرے کم ہو جائے اور لوگ میرے قائل ہوجائیں۔
ہم سستی شہرت چاہتے ہیں۔ اس کے لیے ہم طرح طرح کے پاپڑ بیلنے لگتے ہیں۔
اگر ہمیں کوئی غلطی سے اپنی بات بتا ہی دے تو اسکو ہر جگہ فاش کرنا ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں۔
کسی کو بدنام کرکے، راز فاش کر کے بھی یہ چاہتے ہیں کہ ہماری ہر طرف عزت ہو۔۔ میری برائیوں پر کوئی توجہ نہ دے، بلکہ برائیوں کو بھی لوگ اچھی صفات کے طور پر بیان کریں۔

ہم سکون چاہتے ہیں، ہم آرام چاہتے ہیں لیکن دوسروں کا سکون برباد کر کے۔
ہم نیک نظر آنا چاہتے ہیں، لیکن دوسروں کو گنہگار ثابت کر کے۔

غرضیکہ ہمارا المیہ یہ ہے کہ اس مادیت پرستی کی دنیا میں ہم سب صرف اپنا مفاد چاہتے ہیں۔
چلیں میں نے مفاد لفظ استعمال کر کے غلط بھی کہہ دیا، ہم تو نیک ہیں لہٰذا یہ سب کچھ غلط ہے۔ ہم تو ایسے بالکل بھی نہیں ہیں۔ ہم تو دوسروں کی مدد و بھلائی کرنا چاہتے ہیں۔
ہم لوگوں کو برائی سے روکنا چاہتے ہیں اور نیکی کی طرف راغب کرنا چاہتے ہیں۔
ہم ریاکاری سے بچنا چاہتے ہیں۔
ہم تو صرف دوسروں کے آرام و سکون کا خیال کرنا چاہتے ہیں اس کے لیے ہمیں خود کو تکلیف میں ہی کیوں نہ ڈالنا پڑے۔۔!!!
ہم تو ہمیشہ دوسروں کے بارے اچھا چاہتے ہیں، کسی کا برا۔۔۔!! توبہ استغفرُللہ،،، یہ بات تو ہمارے ذہن سے بھی کوسوں دور ہے۔
ہم تو بہت نیک ہیں،، لہذا ہم سب کچھ بہت اچھا چاہتے ہیں۔۔

میرا سوال یہ ہے کہ ہم ان دعوؤں کے بعد پھر ویسا کیوں نہیں نظر آتے؟
سب کچھ وہی تو کرتے ہیں۔ دوسرے بندے کی اچھی خاص بے عزتی اور توہین کر کے ہم آسانی سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو ہمارا ہی ظرف ہے کہ ہم نے کچھ کہا نہیں۔۔۔!!!

اپنے معاشرے میں نگاہ دوڑاہ کر مجھ پہ سکتہ طاری ہو جاتا ہے، روح بوجھل ہو جاتی ہے، آنکھیں چھلکنے لگتی ہیں ہاتھ، پاؤں کانپنے لگتے ہیں۔
اس سب کو لکھنے کے باوجود بھی مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ میں کیسے بتاؤں کہ ہمارا المیہ کیا ہے۔۔۔؟؟؟

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

آزادی اظہار رائے اور مذہبی رواداری – ڈاکٹر ماریہ نقاش

جینے نہیں دیتے اسلام کے غدار ✍🏻 بقلم ڈاکٹر ماریہ نقاش موجودہ حالات و واقعات …

پرودگار عالم کی رحمت و بخشش – عمران محمدی

*رب تعالیٰ کی رحمت اور بخشش* بقلم *عمران محمدی* عفا اللہ عنہ *============* *اللہ تعالیٰ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے