پرودگار عالم کی رحمت و بخشش – عمران محمدی

*رب تعالیٰ کی رحمت اور بخشش*

بقلم
*عمران محمدی*
عفا اللہ عنہ

*============*

*اللہ تعالیٰ سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے*

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
« نَبِّئْ عِبَادِيْۤ اَنِّيْۤ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ
وَ اَنَّ عَذَابِيْ هُوَ الْعَذَابُ الْاَلِيْمُ »
[ الحجر : 49،50 ] ’’میرے بندوں کو خبر دے دے کہ بے شک میں ہی بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والاہوں۔ اور یہ بھی کہ بے شک میرا عذاب ہی دردناک عذاب ہے۔‘‘

فرمایا
وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ
اور وہ سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔
یوسف : 64

اور فرمایا
وَهُوَ الْغَفُورُ الْوَدُودُ
اور وہی ہے جو بے حد بخشنے والا، نہایت محبت کرنے والاہے۔
البروج : 14

یعنی وہ بندوں کا دشمن نہیں بلکہ ان سے بہت محبت کرنے والا ہے، سزا صرف اس کو دیتا ہے جو سرکشی پر اتر آئے

*ماں کی محبت کی مثال*

قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ، فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنَ السَّبْيِ قَدْ تَحْلُبُ ثَدْيَهَا تَسْقِي، إِذَا وَجَدَتْ صَبِيًّا فِي السَّبْيِ أَخَذَتْهُ، فَأَلْصَقَتْهُ بِبَطْنِهَا وَأَرْضَعَتْهُ، فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتُرَوْنَ هَذِهِ طَارِحَةً وَلَدَهَا فِي النَّارِ» قُلْنَا: لاَ، وَهِيَ تَقْدِرُ عَلَى أَنْ لاَ تَطْرَحَهُ، فَقَالَ: «لَلَّهُ أَرْحَمُ بِعِبَادِهِ مِنْ هَذِهِ بِوَلَدِهَا»

(بخاری ،كِتَابُ الأَدَبِ،بَابُ رَحْمَةِ الوَلَدِ وَتَقْبِيلِهِ وَمُعَانَقَتِهِ،5999
صحيح مسلم ( 2754 )
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے قیدیوں میں ایک عورت تھی جس کا پستان دودھ سے بھرا ہو تھا اور وہ دوڑ رہی تھی ، اتنے میں ایک بچہ اس کو قیدیوں میں ملا اس نے جھٹ اپنے پیٹ سے لگا لیا اور اس کو دودھ پلانے لگی ۔ ہم سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم خیال کر سکتے ہو کہ یہ عورت اپنے بچہ کو آگ میں ڈال سکتی ہے ہم نے عرض کیا کہ نہیں جب تک اس کو قدرت ہوگی یہ اپنے بچہ کو آگ میں نہیں پھینک سکتی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اللہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے ۔ جتنا یہ عورت اپنے بچہ پر مہربان ہو سکتی ہے

*قریب المرگ نوجوان کا اپنی ماں سے مکالمہ*

ایک نوجوان کی وفات کا وقت قریب ہوا تو اس کی ماں اس کے پاس بیٹھی رونے لگی
اس نے کہا
اے ماں تو کیوں روتی ہے ❓
مجھے بتا "اگر اللہ تعالیٰ میرا حساب آپ کے ذمے لگا دے تو آپ میرے ساتھ کیسا سلوک کروگی”
ماں نے کہا
بیٹا میں تجھے معاف کر دوں گی
بیٹے نے کہا
تو اے ماں پھر میرا رب تو تجھ سے بھی زیادہ میرے ساتھ محبت کرتا ہے

*عبداللہ بن عباس سے پوچھا گیا کہ حساب کون لے گا*
تو آپ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ
یہ سن کر سائل خوشی سے جھوم اٹھا اور کہنے لگا
فزت ورب الکعبہ
پھر تو کعبہ کے رب کی قسم میں ضرور کامیاب ہو جاؤں گا

*اللہ تعالیٰ کی رحمت اللہ تعالیٰ کے غضب پر غالب ہے*

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
[ لَمَّا قَضَی اللّٰهُ الْخَلْقَ كَتَبَ فِيْ كِتَابِهِ، فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ إِنَّ رَحْمَتِيْ غَلَبَتْ غَضَبِيْ ] [ بخاري، بدء الخلق، باب ما جاء في قول اللّٰہ تعالٰی : «وھو الذی یبدء الخلق…» : ۳۱۹۴ ] ’’اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق پیدا فرمائی تو اپنی کتاب میں لکھ دیا، چنانچہ وہ کتاب عرش کے اوپر اس کے پاس ہے کہ بلاشبہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔‘‘

*اللہ تعالیٰ وسیع بخشش والا ہے*

فرمایا
إِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ
یقینا تیرا رب وسیع بخشش والا ہے
النجم : 32

اس کے چار معانی ہیں
1اتنی وسیع کہ سب بندوں کو بخشنے والا ہے

2اتنی وسیع کہ سب گناہوں کو بخشنے والا ہے

3اتنی وسیع کہ ہروقت بخشنے والا ہے

4اتنی وسیع کہ اس کی توبہ کا دروازہ تنگ نہیں ہے

*اللہ تعالیٰ کی رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے*

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ
اور میری رحمت نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے
الأعراف : 156

اور فرمایا
رَبُّكُمْ ذُو رَحْمَةٍ وَاسِعَةٍ
تمھارا رب وسیع رحمت والا ہے
الأنعام : 147

*دنیا میں شفقت، پیار، ترس اور سکون کا جتنا وجود ہے وہ رب العزت کی سو رحمتوں میں سے صرف ایک رحمت کا نتیجہ ہے*

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’بے شک اللہ تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیںِ، اس میں سے ایک رحمت جن و انس، جانوروں اور زہریلے سانپوں اور کیڑوں میں اتاری، اسی کے ساتھ وہ ایک دوسرے پر شفقت اور ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں اور اسی کے ساتھ وحشی جانور اپنے بچوں پر شفقت کرتے ہیں اور ننانویں رحمتیں اللہ تعالیٰ نے مؤخر کر رکھی ہیں جن کے ساتھ وہ اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔‘‘
[ مسلم، التوبۃ، باب فی سعۃ رحمۃ اللہ تعالٰی… : ۲۷۵۲، ۲۷۵۳، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ]

اور بخاری کی روایت میں ہے
فَمِنْ ذَلِكَ الجُزْءِ يَتَرَاحَمُ الخَلْقُ، حَتَّى تَرْفَعَ الفَرَسُ حَافِرَهَا عَنْ وَلَدِهَا، خَشْيَةَ أَنْ تُصِيبَهُ»
(بخاری كِتَابُ الأَدَبِ،بَابٌ جَعَلَ اللَّهُ الرَّحْمَةَ مِائَةَ جُزْءٍ،6000)
اسی (ایک حصہ ) کی وجہ سے تم دیکھتے ہو کہ مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے ، یہاں تک کہ گھوڑی بھی اپنے بچہ کو اپنے سم نہیں لگنے دیتی بلکہ سموں کواٹھا لیتی ہے کہ کہیں اس سے اس بچہ کو تکلیف نہ پہنچے

یہ اسی ایک رحمت کا نتیجہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملک الجبال کو منع کردیا تھا کہ طائف والوں کو کچھ نہ کہے

یہ اسی ایک رحمت کا نتیجہ ہے کہ آپ نے بیٹی، چچے اور کئی اصحاب کے قاتلوں کو معاف کر دیا تھا

یہ اسی ایک رحمت کا نتیجہ ہے کہ
باپ اپنے منہ سے لقمہ کھینچ کر اولاد کا پیٹ پالتا ہے

یہ اسی ایک رحمت کا نتیجہ ہے کہ
ماں اپنی جان پر کھیل کر بچے کو جنم دیتی ہے اور اس کی نگہداشت کرتی ہے

یہ اسی ایک رحمت کا نتیجہ ہے کہ
وحشی اور خونی جانور بھی اپنے بچوں سے پیار کرتے ہیں

تو ذرا تصور کیجئے کہ یہی رحمت جب ننانوے درجے زیادہ ہوگی تو کیا منظر بنے گا

فَانْظُرْ إِلَى آثَارِ رَحْمَتِ اللَّهِ
سو اللہ کی رحمت کے نشانات کی طرف دیکھ
روم : 50

*اللہ تعالیٰ کسی پر رحم کرنا چاہے تو کوئی اسے روک نہیں سکتا*

فرمایا
مَا يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا
جو کچھ اللہ لوگوں کے لیے کسی بھی رحمت میں سے کھول دے تو اسے کوئی بند کرنے والا نہیں
فاطر : 2

یعنی جس طرح دنیا میں انسان بسااوقات کسی چیز کا مالک تو ہوتا ہے لیکن اسے چلانے، استعمال کرنے میں کسی دوسرے کا پابند ہوتا ہے

جیسے گاڑی کا مالک ٹریفک قوانین کا پابند ہے
دوکان کا مالک حکومتی لاک ڈاؤن کا پابند ہے
فیکٹری کا مالک سرکاری لائسنس کا پابند ہے
لیکن
ایسا نہیں ہے کہ رحمت کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے لیکن اسے خرچ کرنے کرنے میں اس کے پاس اختیار نہ ہو بلکہ وہ جب چاہے اسے صَرف بھی کرسکتا ہے
فرمایا
وَإِنْ يُرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَادَّ لِفَضْلِهِ
اور اگر وہ تیرے ساتھ کسی بھلائی کا ارادہ کرلے تو کوئی اس کے فضل کو ہٹانے والا نہیں
یونس : 107

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
اللّٰهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَ لَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَ لاَ يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ
[ بخاري، الأذان، باب الذکر بعد الصلاۃ : ۸۴۴ ] اے اللہ! جو تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روک دے وہ دینے والا کوئی نہیں اور تیرے مقابلے میں کسی شان والے کو اس کی شان کوئی کام نہیں دیتی

*رب کی رحمت محدود کرنے والے کی پکڑ*

حضرت جندب رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ وَاللَّهِ لَا يَغْفِرُ اللَّهُ لِفُلَانٍ وَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ مَنْ ذَا الَّذِي يَتَأَلَّى عَلَيَّ أَنْ لَا أَغْفِرَ لِفُلَانٍ فَإِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لِفُلَانٍ وَأَحْبَطْتُ عَمَلَكَ أَوْ كَمَا قَالَ
(مسلم ،كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ،بَابُ النَّهْيِ عَنْ تَقْنِيطِ الْإِنْسَانِ مِنْ رَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى،6681)
"ایک آدمی نے کہا: اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ فلاں شخص کو نہیں بخشے گا، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کون ہے جو مجھ پر قسم کھا رہا ہے کہ میں فلاں کو نہیں بخشوں گا؟ میں نے (اس) فلاں کو تو بخش دیا اور (ایسا کہنے والے!) تیرے سارے عمل ضائع کر دیے۔” یا جن الفاظ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا

*اے میرے بندو❗میری رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ*

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
کہہ دے اے میرے بندو جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی! اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ، بے شک اللہ سب کے سب گناہ بخش دیتا ہے۔ بے شک وہی تو بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
(آیت 53)

 

*رحمتِ الہی سے لوگوں کو مایوس کرنا کفر ہے*

ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا : ’’جو شخص اس کے بعد بھی اللہ کے بندوں کو توبہ سے مایوس کرے اس نے اللہ کی کتاب کا انکار کیا، لیکن بندہ توبہ نہیں کر سکتا، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اس پر مہربانی فرمائے۔‘‘
(تفسیر القرآن الكريم از استاذ گرامی حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ)

قَالَ وَمَنْ يَقْنَطُ مِنْ رَحْمَةِ رَبِّهِ إِلَّا الضَّالُّونَ
اس نے کہا اور گمراہوں کے سوا اپنے رب کی رحمت سے کون ناامید ہوتا ہے۔
الحجر : 56

*لوگوں کی طرف سے ظلم و زیادتی کے باوجود اللہ تعالیٰ معاف کرنے والے ہیں*

اور فرمایا :
«وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلْمِهِمْ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيْدُ الْعِقَابِ»
[ الرعد : ۶ ] ’’اور بے شک تیرا رب یقینا لوگوں کے لیے ان کے ظلم کے باوجود بڑی بخشش والا ہے اور بلاشبہ تیرا رب یقینا بہت سخت سزا والا ہے۔‘‘

*اللہ کی طرف آؤ گے تو اللہ کو بخشنے والا، مہربان پاؤ گے*

کسی بندے کو اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے، خواہ اس کے گناہوں سے زمین و آسمان بھرے ہوئے ہوں۔ صرف اللہ کی طرف پلٹنے اور اس کے سامنے اعتراف کے بعد توبہ کی ضرورت ہے، وہ سب گناہ معاف فرما دے گا، کیونکہ اسے اپنے بندوں کی توبہ بہت ہی محبوب ہے۔
چنانچہ ارشاد ہے :
« اَلَمْ يَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ »
[ التوبۃ : ۱۰۴ ] ’’کیا انھوں نے نہیں جانا کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔‘‘

اور فرمایا :
« وَ مَنْ يَّعْمَلْ سُوْٓءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا »
[ النساء : ۱۱۰ ] ’’اور جو بھی کوئی برا کام کرے، یا اپنی جان پر ظلم کرے، پھر اللہ سے بخشش مانگے وہ اللہ کوبے حد بخشنے والا، نہایت مہربان پائے گا۔‘‘

*اللہ کی رحمت دیکھیئے کہ کفار کو اپنے بندے کہا :*

فرمایا
«وَ يَوْمَ يَحْشُرُهُمْ وَ مَا يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَيَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِيْ هٰۤؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِيْلَ»
[ الفرقان : ۱۷ ] ’’اور جس دن وہ انھیں اور جن کو وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے، اکٹھا کرے گا، پھر کہے گا کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا، یا وہ خود راستے سے بھٹک گئے تھے؟‘‘

*منافقین کے لیے اعلانِ رحمت*

منافقین کے متعلق فرمایا :
« اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِيْرًا (145) اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا»
[ النساء : 145، 146] ’’بے شک منافق لوگ آگ کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے اور تو ہرگز ان کا کوئی مدد گار نہ پائے گا۔ مگر وہ لوگ جنھوں نے توبہ کی۔‘‘

*اللہ تعالیٰ کو فقیر، بخیل اور محتاج کہنے والوں کے لیے اعلانِ رحمت*

ابن کثیر رحمہ اللہ نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول نقل کیا ہے
’’اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو اپنی مغفرت کی دعوت دی جنھوں نے کہا مسیح خود اللہ ہے اور جنھوں نے کہا مسیح اللہ کا بیٹا ہے اور جنھوں نے کہا عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور جنھوں نے کہا اللہ فقیر ہے اور جنھوں نے کہا اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے اور جنھوں نے کہا اللہ تین میں تیسرا ہے
ان سب سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
«اَفَلَا يَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَ يَسْتَغْفِرُوْنَهٗ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ »
[ المائدۃ : ۷۴ ] ’’توکیا وہ اللہ کی طرف توبہ نہیں کرتے اور اس سے بخشش نہیں مانگتے، اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔‘‘

*”اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى” کہنے والے کے لیے اعلانِ رحمت*

فرعون سے بڑا ظالم بھی کوئی ہوگا جس نے کہا تھا :
« اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى »
[ النازعات : ۲۴ ] ’’میں تمھارا سب سے اونچا رب ہوں۔‘‘

اور جس نے کہا تھا :
«مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ »
[ القصص : ۳۸ ] ’’میں نے اپنے سوا تمھارے لیے کوئی معبود نہیں جانا۔‘‘

لیکن میرے رب کی بے حساب رحمت دیکھیں کہ جب اسی فرعون کی طرف موسیٰ علیہ السلام کو بھیجا تو فرمایا اس کے ساتھ نرم بات کرنا

اذْهَبَا إِلَى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَى
دونوں فرعون کے پاس جائو، بے شک وہ سرکش ہوگیا ہے۔
طه : 43
فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَيِّنًا لَعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَى
پس اس سے بات کرو، نرم بات، اس امید پر کہ وہ نصیحت حاصل کرلے، یا ڈر جائے۔
طه : 44

اور اسی فرعون کے متعلق فرمایا کہ اگر توبہ کرلے تو میں بخشنے والا مہربان ہوں
چنانچہ سورہ طہ میں اسی فرعون کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
« وَ اِنِّيْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى »
[ طٰہٰ : ۸۲ ] ’’اور بے شک میں یقینا اس کو بہت بخشنے والا ہوں جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے، پھر سیدھے راستے پر چلے۔‘‘

*فرعون کی موت اور رب العزت کی رحمت کے متعلق جبریل علیہ السلام کا گمان*

ابن عباس (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا :
( قَالَ لِیْ جِبْرِیْلُ لَوْ رَأَیْتَنِیْ وَأَنَا آخِذٌ مِنْ حَالِ الْبَحْرِ فَأُدُسُّہٗ فِيْ فَمِ فِرْعَوْنَ مَخَافَۃَ أَنْ تُدْرِکَہُ الرَّحْمَۃُ )
[ السلسلۃ الصحیحۃ : ٥؍٢٦، ح : ٢٠١٥۔ مسند طیالسی : ٢٦١٨۔ ترمذی : ٣١٠٨ ] ” مجھ سے جبریل (علیہ السلام) نے کہا، کاش ! آپ مجھے دیکھتے کہ میں سمندر کا سیاہ کیچڑ اٹھا کر فرعون کے منہ میں ٹھونس رہا تھا، اس خوف سے کہ کہیں اس کو رحمت نہ آپہنچے۔

*مسلمانوں کو آگ میں جھونکنے والوں کے لیے اعلانِ رحمت*

مسلمانوں کو آگ سے بھری ہوئی خندقوں میں ڈالنے والوں (اصحاب الاخدود) کے متعلق فرمایا :
« اِنَّ الَّذِيْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوْبُوْا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَ لَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيْقِ »
[ البروج : ۱۰ ] ’’یقینا وہ لوگ جنھوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو آزمائش میں ڈالا، پھر انھوں نے توبہ نہیں کی تو ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور ان کے لیے جلنے کا عذاب ہے۔‘‘

مومن مردوں اور مومن عورتوں کو آگ میں جھونکنے والوں کو سیدھا عذاب جہنم کا حکم نہیں سنایا بلکہ فرمایا کہ اتنے گھناؤنے جرم کے بعد بھی ان کی توبہ کا انتظار رہے گا پھر اگر توبہ کیئے بغیر مرگئے تو جہنم میں پھینکے جائیں گے

حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا : ’’اس جود و کرم کو دیکھو! ان لوگوں نے اس کے دوستوں کو قتل کیا اور وہ انھیں توبہ اور مغفرت کی دعوت دے رہا ہے۔‘‘
(ابن کثیر)

*ننانوے آدمیوں کے قاتل کے لیے نزولِ رحمت*

احادیثِ صحیحہ میں ننانوے آدمیوں کے بعد سوویں آدمی کے قاتل کی توبہ کا ذکر معروف ہے، جسے نیک لوگوں کی بستی کی طرف جاتے ہوئے راستے میں موت آ گئی۔
[ دیکھیے مسلم، التوبۃ، باب قبول توبۃ القاتل، إن کثر قتلہ : ۲۷۶۶ ]

*خوشی میں نامناسب کلمات کہنے والے کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت*

اسی طرح اللہ تعالیٰ کا بندے کی توبہ پر اس آدمی سے بھی زیادہ خوش ہونے کا ذکر ہے جو اپنی گم شدہ اونٹنی ملنے پر خوشی کی شدت میں اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے بے اختیار کہہ اٹھتا ہے:
’’یا اللہ! تو میرا بندہ اور میں تیرا رب‘‘ اور خوشی کی شدت میں خطا کر جاتا ہے۔
[ دیکھیے مسلم، التوبۃ، باب في الحض علی التوبۃ والفرح بھا : ۲۷۴۷ ]

*بیٹوں کو اپنی لاش جلانے کی وصیت کرنے والے پر رحم*

اسی طرح اس بندے کا ذکر ہے جس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ وہ اس کے فوت ہونے کے بعد اس کی لاش کو جلا کر اس کی راکھ کچھ پانی میں بہا دیں اور کچھ ہوا میں اڑا دیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسے زندہ کرکے پوچھا کہ تو نے ایسا کیوں کیا؟ تو اس نے کہا : ’’یا اللہ! تیرے ڈر سے۔‘‘ تو اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا۔ [ دیکھیے مسلم، التوبۃ، باب في سعۃ رحمۃ اللہ تعالیٰ… : ۲۷۵۶ ]

*بار بار گناہ کرنے والے کے لیے اعلانِ رحمت*

اللہ تعالیٰ کا یہ بھی کرم ہے کہ بندہ جتنی بار بھی گناہ کرے، پھر اس کے بعد جتنی بار توبہ کرے وہ معاف فرما دیتا ہے
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
[ أَذْنَبَ عَبْدٌ ذَنْبًا فَقَالَ اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيْ ذَنْبِيْ فَقَالَ تَبَارَكَ وَ تَعَالٰی أَذْنَبَ عَبْدِيْ ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَ يَأْخُذُ بِالذَّنْبِ ثُمَّ عَادَ فَأَذْنَبَ فَقَالَ أَيْ رَبِّ! اغْفِرْ لِيْ ذَنْبِيْ فَقَالَ تَبَارَكَ وَ تَعَالٰی عَبْدِيْ أَذْنَبَ ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَ يَأْخُذُ بِالذَّنْبِ ثُمَّ عَادَ فَأَذْنَبَ فَقَالَ أَيْ رَبِّ! اغْفِرْ لِيْ ذَنْبِيْ فَقَالَ تَبَارَكَ وَ تَعَالٰی أَذْنَبَ عَبْدِيْ ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَ يَأْخُذُ بِالذَّنْبِ اعْمَلْ مَا شِئْتَ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكَ ] [ مسلم، التوبۃ، باب قبول التوبۃ من الذنوب… : ۲۷۵۸ ] ’’ایک بندے نے گناہ کیا، پھر اس نے کہا : ’’اے میرے رب! مجھے میرا گناہ بخش دے۔‘‘ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ’’میرے بندے نے ایک گناہ کیا، پھر جان لیا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور گناہ پر پکڑتا ہے۔‘‘ پھر اس نے دوبارہ گناہ کیا اور کہا : ’’اے میرے رب!مجھے میرا گناہ بخش دے۔‘‘ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ’’میرے بندے نے ایک گناہ کیا پھر جان لیا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور گناہ پر پکڑتا ہے۔‘‘ پھر ایک بار اور اس نے گناہ کیا اور کہا : ’’اے میرے رب! مجھے میرا گناہ بخش دے۔‘‘ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ’’میرے بندے نے گناہ کیا پھر جان لیا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور گناہ پر پکڑتا ہے۔ (میرے بندے!) تو جو چاہے کر، میں نے تجھے بخش دیا۔‘‘

*عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی توبہ واسلام*

عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
’’جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کی محبت میرے دل میں ڈال دی تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے عرض کی :
’’اپنا دایاں ہاتھ آگے کیجیے، تاکہ میں آپ کی بیعت کروں۔‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ آگے بڑھایا تو میں نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’اے عمرو! تجھے کیا ہوا؟‘‘
میں نے کہا :
’’میری ایک شرط ہے۔‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’تیری کیا شرط ہے؟‘‘
میں نے کہا :
[ أَنْ يُّغْفَرَ لِيْ، قَالَ أَمَا عَلِمْتَ يَا عَمْرُو! أَنَّ الْإِسْلَامَ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ؟ وَ أَنَّ الْهِجْرَةَ تَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهَا؟ وَأَنَّ الْحَجَّ يَهْدِمُ مَا كَانَ قبْلَهُ؟ ] [ مسلم، الإیمان، باب کون الإسلام یھدم ما قبلہ و کذا الھجرۃ والحج : ۱۲۱ ] ’’(میری شرط یہ ہے) کہ میرے گناہ معاف ہوں (جو اب تک کیے ہیں)۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’اے عمرو! کیا تو جانتا نہیں کہ اسلام اپنے سے پہلے کے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے؟ اور یہ کہ ہجرت اپنے سے پہلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے؟ اور یہ کہ حج اپنے سے پہلے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے؟‘‘

*کیسا رحیم ہے میرا رب کہ نیکی کی صرف نیت کرلیں تو اجر سے نوازے اور برائی جب تک سرزد نہ ہو گناہ کوئی نہیں*

ابن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب عز و جل سے جو کچھ روایت کیا اس میں یہ بھی فرمایا :
[ إِنَّ اللّٰهَ كَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَ السَّيِّئَاتِ، ثُمَّ بَيَّنَ ذٰلِكَ فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبَهَا اللّٰهُ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً، فَإِنْ هُوَ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا كَتَبَهَا اللّٰهُ لَهُ عِنْدَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ إِلٰی سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ إِلٰی أَضْعَافٍ كَثِيْرَةٍ، وَ مَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبَهَا اللّٰهُ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً، فَإِنْ هُوَ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا كَتَبَهَا اللّٰهُ لَهُ سَيِّئَةً وَاحِدَةً ] [ بخاري، الرقاق، باب من ھم بحسنۃ أو بسیئۃ : ۶۴۹۱ ] ’’اللہ تعالیٰ نے نیکیاں اور برائیاں لکھ دیں، پھر ان کی وضاحت فرما دی، تو جس شخص نے کسی نیکی کا ارادہ کیا اور عمل نہ کیا تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے پاس ایک پوری نیکی لکھ لیتا ہے اور اگر وہ اس کا ارادہ کرے اور اسے کر بھی لے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے پاس دس سے سات سو گنا بلکہ بہت گنا تک نیکیاں لکھ لیتا ہے اور جس نے کسی برائی کا ارادہ کیا، پھر (اللہ کے خوف سے) اس پر عمل نہ کیا، تو اللہ تعالیٰ اس کے عوض اپنے پاس ایک پوری نیکی لکھ لیتا ہے اور اگر اس نے اس کا ارادہ کیا اور اس پر عمل بھی کر لیا تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے لیے ایک برائی لکھ لیتا ہے۔‘‘

*برائی سرزد ہونے کے بعد بھی لکھنے سے پہلے توبہ کا انتظار کیا جاتا ہے*

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

إن صاحب الشمال ليرفع القلم ست ساعات عن العبد المسلم المخطيء أو المسيء فإن ندم واستغفر الله منها ألقاها وإلا كتب واحدة ] . ( حسن )

( رواه الطبراني في ” الكبير ” (ق 25 / 2 مجموع 6) وأبو نعيم في ” الحلية ”
(6 / 124) والبيهقي في ” الشعب ” (2 / 349 / 1)

الصفحة أو الرقم : 210 / 1209
خلاصة حكم المحدث : حـسـن
اسم الكتاب : السلسلة الصحيحة)

بائیں جانب والا کاتب (فرشتہ) گناہ گار مسلم بندے کا گناہ لکھنے سے چھ گھڑیوں تک اپنی قلم اٹھائے رکھتا ہے (کہ شاید توبہ کرہی لے)
پھر اگر وہ پشیماں ہوکر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لے تو فرشتہ اپنا قلم ہٹا لیتا ہے بصورت دیگر صرف ایک گناہ لکھا جاتا ہے

*ایسا رحیم کہ صرف گناہوں پر نہیں پکڑتا ہاں اگر گناہ نیکیوں سے بھاری ہوں تو پکڑتا ہے*

دنیا کا اصول ہے کہ اگر کسی جرم کے متعلق کوئی دفعہ نافذ کردی جائے تو اس جرم کے مرتکب کو سابقہ ریکارڈ دیکھے بغیر سزا دے دی جاتی ہے

اگر کوئی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہوا پکڑا جائے تو یہ دیکھے بغیر کہ بہت مرتبہ اس نے قوانین کی پابندی بھی تو کی ہے، فورا اسے جرمانہ عائد کر دیا جاتا ہے

اگر کوئی کرپشن کرتے ہوئے پکڑا جائے تو یہ دیکھے بغیر کہ بہت عرصہ امانتداری سے بھی تو چلتا رہا ہے، فوراً اسے زیر عتاب لایا جاتا ہے

لیکن کیسا مہربان ہے ہمارا رب
اپنے بندوں کو فقط گناہ پر پکڑتا نہیں ہے بلکہ اس کی نیکیوں کو دیکھ کر گناہوں کو مٹاتا رہتا ہے
فرمایا
إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ
بے شک نیکیاں برائیوں کو لے جاتی ہیں
ھود : 114

اس کے باوجود بھی اگر کوئی اتنا ہی سرکش ہو کہ اس کے گناہ ففٹی پرسنٹ سے زیادہ ہوں تو پھر اسے پکڑتا ہے
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا
فَأَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ
تو لیکن وہ شخص جس کے پلڑے بھاری ہو گئے۔
القارعة : 6
فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَاضِيَةٍ
تو وہ خوشی کی زندگی میں ہو گا۔
القارعة : 7
وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ
اور لیکن وہ شخص جس کے پلڑے ہلکے ہو گئے۔
القارعة : 8
فَأُمُّهُ هَاوِيَةٌ
تو اس کی ماں ہاویہ ہے۔
القارعة : 9
وَمَا أَدْرَاكَ مَا هِيَهْ
اور تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ وہ کیا ہے؟
القارعة : 10
نَارٌ حَامِيَةٌ
ایک سخت گرم آگ ہے۔
القارعة : 11

*اگر نیکیاں اور گناہ برابر ہوں تو پھر بھی نہیں پکڑتا*

أصحاب الأعراف جن کی نیکیاں برابر ہیں ایسوں کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سفارش کرنے کا حکم دیا جائے گا سب کو معاف کر دیا جائے گا

اصحاب اعراف کے متعلق ابن مسعود ،حذیفہ بن یمان ، ابن عباس ، شعبی ،ضحاک اور سعید بن جبیر وغیرھم رضی اللہ عنہم اجمعین کا قول ہے

’’قوم استوت حسناتهم و سيّاتهم فجعلوا هناك الي ان يقضي اللّٰه فيهم ما يشاء ثم يدخلهم بفضل رحمته لهم ‘‘
’’اصحاب اعراف سے مراد وہ لوگ ہیں جن کی نیکیاں اور گناہ دونوں برابر ہوں گے ۔ ایسے لوگوں کو اعراف پہ رکھا جائے گا ۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے انہیں جنت میں داخل کرے گا‘‘

 

*گناہوں کے ننانوے رجسٹر بھر لانے والے کو معاف کر دیا*

2639 حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَعَافِرِيِّ ، ثُمَّ الْحُبُلِيِّ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” إِنَّ اللَّهَ سَيُخَلِّصُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَنْشُرُ عَلَيْهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ سِجِلًّا، كُلُّ سِجِلٍّ مِثْلُ مَدِّ الْبَصَرِ، ثُمَّ يَقُولُ : أَتُنْكِرُ مِنْ هَذَا شَيْئًا ؟ أَظَلَمَكَ كَتَبَتِي الْحَافِظُونَ ؟ فَيَقُولُ : لَا يَا رَبِّ. فَيَقُولُ : أَفَلَكَ عُذْرٌ ؟ فَيَقُولُ : لَا يَا رَبِّ. فَيَقُولُ : بَلَى، إِنَّ لَكَ عِنْدَنَا حَسَنَةً، فَإِنَّهُ لَا ظُلْمَ عَلَيْكَ الْيَوْمَ. فَتَخْرُجُ بِطَاقَةٌ فِيهَا : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ. فَيَقُولُ : احْضُرْ وَزْنَكَ. فَيَقُولُ : يَا رَبِّ، مَا هَذِهِ الْبِطَاقَةُ مَعَ هَذِهِ السِّجِلَّاتِ ؟ فَقَالَ : إِنَّكَ لَا تُظْلَمُ. قَالَ : فَتُوضَعُ السِّجِلَّاتُ فِي كَفَّةٍ، وَالْبِطَاقَةُ فِي كَفَّةٍ، فَطَاشَتِ السِّجِلَّاتُ، وَثَقُلَتِ الْبِطَاقَةُ، فَلَا يَثْقُلُ مَعَ اسْمِ اللَّهِ شَيْءٌ ". هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
حكم الحديث: صحيح

ترمذی، صحیح بقول غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ تعالیٰ

*اللہ تعالیٰ جہنم کو خاموش کروانے کے لیے اپنا قدم رکھ دیں گے*

انس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
[ يُلْقٰی فِي النَّارِ وَ تَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِيْدٍ حَتّٰی يَضَعَ قَدَمَهُ فَتَقُوْلُ قَطْ قَطْ ] [ بخاري، التفسیر، سورۃ قٓ، باب قولہ : « وتقول ھل من مزید» : ۴۸۴۸ ] ’’جہنم میں لوگ ڈالے جائیں گے اور وہ یہی کہتی رہے گی، کیا کچھ اور بھی ہے؟ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھ دے گا تو وہ کہہ اٹھے گی، بس بس۔‘‘

*اللہ تعالیٰ عذاب کا دائرہ کم کرنے کے لیے جہنم کو سکیڑ دیں گے*

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
فَأَمَّا النَّارُ: فَلاَ تَمْتَلِئُ حَتَّى يَضَعَ رِجْلَهُ فَتَقُولُ: قَطْ قَطْ، فَهُنَالِكَ تَمْتَلِئُ وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ
(بخاری ،كِتَابُ تَفْسِيرِ القُرْآنِ،بَابُ: 50سُورَةُ ق قَوْلِهِ: {وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ}،4850)
دوزخ تو اس پر وقت تک نہیں بھرے گی جب تک اللہ رب العزت اپنا قدم اس نہیں رکھ دے گا ۔ اس وقت وہ بولے گی کہ بس بس بس ! اور اس وقت بھر جائے گی اور اس کا بعض حصہ بعض دوسرے حصے پرچڑھ جائے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں کسی پر ظلم نہیں کرے گا

*اللہ تعالیٰ جنت کا دائرہ کم نہیں کریں گے بلکہ اسے بھرنے کے لیے نئی مخلوق پیدا کردیں گے*

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
وَلَا يَزَالُ فِي الْجَنَّةِ فَضْلٌ حَتَّى يُنْشِئَ اللَّهُ لَهَا خَلْقًا فَيُسْكِنَهُمْ فَضْلَ الْجَنَّةِ
(مسلم ،كِتَابُ الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا،بَابُ النَّارُ يَدْخُلُهَا الْجَبَّارُونَ وَالْجَنَّةُ يَدْخُلُهَا الضُّعَفَاءُ،7179)
اور جنت میں مسلسل گنجائش رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک خلقت پیدا کردے گا اور انھیں جنت کی بچی ہوئی جگہ میں بسا دے گا

*اللہ تعالیٰ چاہتے جہنم کے لیے بھی نئی مخلوق پیدا کرسکتے تھے مگر اس کی رحمت ہے کہ بلا دلیل عذاب نہیں دیتا یہ اس کی شان رحیمی کے خلاف ہے*

*آخری جنتی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رحمت بھری گفتگو اور کرم نوازی*

انس رضی اللہ عنہ نےحضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’جنت میں سب سے آخر میں وہ آدمی داخل ہو گا جو کبھی چلےگا، کبھی چہرے کے بل گرے گا اور کبھی آگ سے جھلسا دے گی ۔ جب و ہ آگ سے نکل آ ئے گا توپلٹ کر اس کو دیکھے گا اور کہے گا: بڑی برکت والی ہے وہ ذات جس نے مجھے تجھ سے نجات دے دی ۔ اللہ نے مجھے ایسی چیز عطا فرما دی جو اس نے اگلوں پچھلوں میں سے کسی کو عطا نہیں فرمائی۔ اسے بلندی پر ایک درخت کے قریب کردے تاکہ میں اس کے سائے میں دھوپ سے نجات حاصل کروں اور اس کے پانی سے پیاس بجھاؤں ۔
اس پر اللہ عز وجل فرمائے گا: اے ابن آدم ! ہو سکتا ہے کہ میں تمہیں یہ درخت دےدوں تو تم مجھ سے اس کے سوا کچھ اور مانگو۔ وہ کہے گا: نہیں ، اے میرے رب ! اور اللہ کے ساتھ عہد کرے گا کہ وہ اس سے اور کچھ نہ مانگے گا۔ اس کا پروردگار اس کے عذر قبول کر لے گا کیونکہ وہ ایسی چیز دیکھ رہا ہو گاجس پر وہ صبر کر ہی نہیں سکتا۔ تو اللہ تعالیٰ اسے اس (درخت) کے قریب کر دے گا اور وہ اس کے سائے میں دھوپ سے محفوظ ہو جائے گا اور اس کاپانی پیے گا، پھر اسے اوپر ایک اور درخت دکھایا جائے گاجو پہلے درخت سےزیادہ خوبصورت ہو گا تووہ کہے گا:اےمیرے رب ! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کے پانی سے سیراب ہوں اور اس کے سائے میں آرام کروں ، میں تجھ سے اس کے سوا کچھ نہیں مانگوں گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائےگا: اے آدم کے بیٹے ! کیا تم نے مجھ سےوعدہ نہ کیا تھا کہ تم مجھ سے کچھ اورنہیں مانگو گے؟ اور فرمائے گا :مجھے لگتا ہے اگر میں تمہیں اس کے قریب کردوں تو تم مجھ سے کچھ اور بھی مانگو گے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے وعدہ کرے گا کہ وہ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں مانگے گا،اس کا رب تعالیٰ اس کا عذر قبول کر لے گا، کیونکہ وہ ایسی چیز دیکھ رہا ہو گا جس کے سامنے اس سے صبر نہیں ہو سکتا۔ اس پر اللہ اسے اس درخت کے قریب کر دے گا۔ وہ اس کے سائے کے نیچے آ جائے گا اور اس کےپانی سے پیاس بجھائے گا ۔ اور پھر ایک درخت جنت کے دروازے کے پاس دکھایا جائے گا جو پہلے دونوں درختوں سے زیادہ خوبصورت ہو گا تو وہ عرض کرے گا: اے میرے رب ! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کے سائے سے فائدہ اٹھاؤں اور اس کے پانی سے پیاس بجھاؤں ، میں تم سے اور کچھ نہیں مانگوں گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! کیا تم نے میرے ساتھ وعدہ نہیں کیا تھا کہ او رکچھ نہیں مانگو گے؟ وہ کہے گا:کیوں نہیں میرے رب! (وعدہ کیا تھا) بس یہی، اس کے علاوہ اور کچھ نہیں مانگوں گا۔ اس کا رب اس کاعذر قبول کر لے گاکیونکہ وہ ایسی چیز دیکھ رہا ہو گا جس پر وہ صبر کر ہی نہیں سکتا۔ تو وہ اس شخص کے اس (درخت) کے قریب کر دے گاتو وہ اہل جنت کی آوازیں سنے گا۔ وہ کہے گا: اے میرے رب!مجھے اس میں داخل کر دے ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے ! وہ کیا چیز ہے جو تجھے راضی کر کے ہمارے درمیان سوالات کا سلسلہ ختم کر دے؟ کیا تم اس سے راضی ہو جاؤ گے کہ میں تمہیں ساری دنیا اور اس کے برابر اوردے دوں ؟وہ کہے گا: اے میرے رب! کیا تومیری ہنسی اڑاتا ہے جبکہ تو سارے جہانوں کا رب ہے ۔‘‘
اس پر ابن مسعود﷜ ہنس پڑے اور کہا: کیا تم مجھ سے یہ نہیں پوچھوگے کہ میں کیوں ہنسا؟ سامعین نے پوچھا: آپ کیوں ہنسے؟ کہا: اسی طرح رسول اللہ ﷺ ہنسے تھے توصحابہ کرام ﷢ نے پوچھا تھا: اے اللہ کے رسول ! آپ کیوں ہنس رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا:’’رب العالمین کے ہنس پڑے پر،جب اس نے کہا کہ تو سارے جہانوں کارب ہے ،میری ہنسی اڑاتا ہے ؟ اللہ فرمائے گا: میں تیری ہنسی نہیں اڑاتا بلکہ میں جو چاہوں کر سکتا ہوں ۔ ‘‘

(مسلم، كِتَابُ الْإِيمَانِ، بَابُ آخَرِ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا،463)

 

*اللہ تعالیٰ بندے کے گناہوں پر کیسے پردہ ڈالتے ہیں*

ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
[ إِنِّيْ لَأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُوْلًا الْجَنَّةَ، وَآخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوْجًا مِنْهَا، رَجُلٌ يُؤْتٰی بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُقَالُ اعْرِضُوْا عَلَيْهِ صِغَارَ ذُنُوْبِهِ وَارْفَعُوْا عَنْهُ كِبَارَهَا، فَتُعْرَضُ عَلَيْهِ صِغَارُ ذُنُوْبِهِ، فَيُقَالُ عَمِلْتَ يَوْمَ كَذَا وَ كَذَا، كَذَا وَ كَذَا، وَ عَمِلْتَ يَوْمَ كَذَا وَ كَذَا، كَذَا وَ كَذَا، فَيَقُوْلُ نَعَمْ، لَا يَسْتَطِيْعُ أَنْ يُّنْكِرَ، وَهُوَ مُشْفِقٌ مِنْ كِبَارِ ذُنُوْبِهِ أَنْ تُّعْرَضَ عَلَيْهِ، فَيُقَالُ لَهُ فَإِنَّ لَكَ مَكَانَ كُلِّ سَيِّئَةٍ حَسَنَةً، فَيَقُوْلُ رَبِّ! قَدْ عَمِلْتُ أَشْيَاءَ لَا أَرَاهَا هٰهُنَا، فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ ضَحِكَ حَتّٰی بَدَتْ نَوَاجِذُهُ] [مسلم، الإیمان، باب أدنٰی أہل الجنۃ منزلۃ فیھا : ۱۹۰ ] ’’میں اس شخص کو جانتا ہوں جو جنت میں داخل ہونے والوں میں سب سے آخری اور جہنم سے نکلنے والوں میں سب سے آخری ہو گا، وہ ایسا آدمی ہو گا جسے قیامت کے دن لایا جائے گا اور کہا جائے گا : ’’اس کے سامنے اس کے چھوٹے گناہ پیش کرو اور اس کے بڑے گناہ بچائے رکھو۔‘‘ تو اس کے سامنے اس کے چھوٹے گناہ پیش کیے جائیں گے اور کہا جائے گا : ’’تو نے فلاں فلاں دن یہ یہ عمل کیے تھے اور فلاں فلاں دن یہ یہ عمل کیے تھے؟‘‘ وہ کہے گا : ’’ہاں!‘‘ انکار نہیں کر سکے گا اور وہ اپنے بڑے گناہوں کے پیش کیے جانے سے ڈر رہا ہو گا، تو اس سے کہا جائے گا : ’’تمھارے لیے ہر برائی کی جگہ ایک نیکی ہے۔‘‘ تو وہ کہے گا : ’’اے میرے رب! میں نے کئی کام کیے ہیں جو مجھے یہاں دکھائی نہیں دے رہے۔‘‘ (ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) : ’’تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ ہنسے یہاں تک کہ آپ کی ڈاڑھیں ظاہر ہو گئیں۔‘‘

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

دنیا کا مسافر – جویریہ بتول

سفر کی ابدیت اور راہ چلتے مسافر…!!! (✍🏻:جویریہ بتول). گردشِ لیل و نہار… یہ چکرِ …

بچوں کا بہتر مستقبل، ماضی کے آئینے میں – عبدالحفیظ چنیوٹی

” ہمارا عمل ہمارے بچوں کو سکون کے دن میسر کرے گا ” تحریر: عبدالحفیظ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Translate »